• صارفین کی تعداد :
  • 3288
  • 3/25/2010
  • تاريخ :

بی بی معصومہ قم سلام اللہ علیہ

بی بی معصومہ قم سلام اللہ علیہ

 بی بی معصومہ قم سلام اللہ علیہ ہمشیرہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام

امام رضا علیہ السلام نے اپنی زیارت کے لئے فرمایا : جو شخص معرفت کے ساتھ میری زیارت کرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا۔ (1)

امام محمد تقی علیہ السلام نے فرمایا:

من زارقبر عمتی بقم فلہ الجنۃ (2)

جو قم میں ہماری پھوپھی (فاطمہ معصومہ ) کی زیارت کرے گا وہ بہشت کا مستحق ہے۔

جناب عبد العظیم علیہ الرحمۃ کے لئے امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا : اگر عبد العظیم کی قبر کی زیارت کرو گے تو ایسا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی ہے ۔ (3)

رسول خدا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

من زارنی او زار احدا من ذریتی زرتہ یوم القیامۃ فانقذتہ من اھوائھا۔ (4)

جو میری یا میری اولاد میں سے کسی کی زیارت کرے گاتو قیامت کے دن میں اس کے دیدار کو پہنچوں گا اور اسے اس دن کے خوف سے نجات دلاوٴں گا ۔

شہر قم کا تاریخی سابقہ

بعض حضرات قم کو قدیم شہروں میں شمار کرتے ہیں اور اسے آثار قدیمہ میں سے ایک قدیم اثر سمجھتے ہیں نیز شواہد و قرائن کے ذریعہ استدلال بھی کرتے ہیں مثلا قمی زعفران کا تذکرہ بعض ان کتابوں میں ملتا ہے کہ جو عہد ساسانی سے مربوط ہیں ۔ نیز شاہنامہ فردوسی میں ۲۳ ھ کے حوادث میں قم کا ذکر بھی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ کہ قم اور ساوہ بادشاہ ” تہمورث پیشدادی “ کے ہاتھوں بنا ہے ۔

لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یہ تمام دلیلیں مدعا کو ثابت نہیں کرتی ہیں کیونکہ عہد ساسانی میں قم کی جغرافیائی و طبیعی حالت ایسی نہ تھی کہ وہاں شہر بنایا جا تا بلکہ ایسا شہر تہمورث کے ہاتھوں بنا یا جا نا ایک قدیم افسانہ ہے جس کی کوئی تاریخی اہمیت نہیں ہے علاوہ ازیں شاہنامہ فردوسی میں ۲۳ ھ کے حوادث میں قم کا ذکر اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتا کہ اس دور میں بھی یہ زمین اسی نام سے موسوم تھی کیونکہ فردوسی نے اپنے اشعار میں محل فتوحات کے نام اس زمانے کے شہرت یافتہ و معروف ناموں سے یاد کیا ہے نہ کہ وہ نام کہ جو زمان فتوحات میں موجود تھے ۔ اسناد تاریخ اور فتوحات ایران کہ جو خلیفہ مسلمین کے ہاتھوں ہوئی اس میں سرزمین قم کو بنام ” شق ثمیرۃ “ یاد کیا گیا ہے ۔

اس بنا پر شہر قم بھی شہر نجف ، کربلا ، مشہد مقدس کی طرح ان شہروں میں شمار ہوتا ہے کہ جو اسلام میں ظاہر ہوئے ہیں ایسی صورت میں اس کے اسباب وجود کو مذہبی و سیاسی رخ سے دیکھنا ہوگا ۔ (5)

حوالہ جات:

1-اس قبیلہ نے اوائل بعثت میں یمن سے مدینہ ہجرت کی تھی اور آنحضرت پر ایمان لائے تھے اس قبیلہ کے بزرگ مالک بن عامر بن ہانی ہیں جنھوں نے جنگ قادسیہ میں اپنے ہدایت یافتہ ہونے اور بلند نفسی کا ثبوت پیش کیا آپ عبد اللہ اور احوص کے جد ہیں یہ دونوں بزرگوار قم کے شیعوں کا مرکز بنانے میں بنیادی کردار رکھتے ہیں ۔ ( گنجینہ آثار قم : ج/۱، ص/۱۳۷ )

2-  معجم البلدان : ج/۴، ص/۳۹۷ ۔

3- تاریخ قدیم قم ( حسن بن محمد بن حسن قمی ) ص/۲۴۵۔ ۲۵۷، باتصرف ۔

4-  گنجینہ آثار قم :عباس فیضی ۔ج/۱ ، ص ۱۵۴

5- گنجینہ آثار قم ( عباس فیضی ) : ج/۱ ، ص/۷۰ ۔

 

قمر بخاری


متعلقہ تحریریں :

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی اجمالی زندگی

کریمۂ اہل بیت حضرت معصومۂ قم(‏ع)