• صارفین کی تعداد :
  • 5941
  • 12/1/2009
  • تاريخ :

فارسی کا  ارتقاء

فارسی

ایران کا پرانا  نام " اران " تھا یعنی آریائی باشندوں کا وطن ۔ آریائی باشندے بنیادی طور سے جنوبی روس میں رہنے والی ایک نیم خانہ بدوش قوم تھی جو چار ہزار سال مسیح قبل چراگاہوں کی تلاش میں برصغیر اور موجودہ ایران کے علاقوں میں قافلہ در قافلہ ہجرت کرکے آباد ہوتی رہی ۔ ایران میں ان نو وارداتوں کا ایک قبیلہ شمالی ایران  کے علاقے میڈیا میں آباد ہو گیا اور اس علاقے کی نسبت سے  " ماد " کہلایا ۔ آریاؤں کا ایک اور بڑا گروہ جنوبی ایران کے علاقہ پارس میں آباد ہو گیا اور اس جغرافیائی نسبت سے " پارسی  " یا " رہل پاس " کہلایا ۔ بابل اور نینوا سے ہجرت کرکے آنے والے یہ لوگ اپنے ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت بھی لاۓ اور جیسا کہ زبان کسی بھی ثقافت و تمدن کا ایک عظیم عنصر ہوتی ہے ، ان کی زبان بھی ان کے ساتھ ہی آئی اور اس وقت بابل اورنینوا میں مروج " خط میخی " بھی ان کے ساتھ ایران پہنچ گیا ۔

خط میخی آریاؤں کی ذہانت اور  ترقی پسندی کی علامت ہے ۔ "خط میخی " کی اہمیت اور سمجھنے اور اجاگر کرنے کے لیے مصر کے قدیم رسم الخط کا تذکرہ ناگزیر ہے جو تقریبا سات ہزار برس قبل مسیح میں مروج تھا اور اسے pictorial script   یا "خط تصویری " کہا جاتا تھا ۔

اس دور کے مصری باشندے تصویروں کی مدد سے اظہار خیال اور پیغام رسانی کرتے تھے ۔ یہ کوئی افسانوی بات نہیں کیونکہ ان تصویروں کے کئی نمونے آج بھی  عجائب گھروں میں موجود ہیں لیکن اس خط میں بہت سی تصویریں بنانے کی وجہ سے اظہار خیال میں دقت ہوتی تھی ۔

 اہل بابل نے اظہار خیال کی دقت کو محسوس کرتے ہوۓ تصویروں کو مختصر کرکے ترقی کی طرف ایک قدم بڑھایا اور بعد ازاں مختصر تصویروں کو مزید مختصر کرکے علامات مقرر کیں ۔ ان علامتوں سے وجود میں آنے والے رسم الخط  کو " علامت نویسی " کا نام دیا گیا ۔ اہل بابل نے "علامت نویسی " پر بھی قناعت نہ کرتے ہوۓ مزید ترقی کی طرف قدم بڑھاۓ اور " خط میخی " ایجاد کیا ۔ قدیم فارسی یا فارسی باستان میں یہی خط استعمال ہوا ۔ یہ زبان فارس کے علاقے میں بولی جاتی تھی اور ہخامنشی بادشاہوں کے قطبے اس زبان میں لکھے ہوۓ ملتے ہیں ۔ فارسی باستان کے تمام دستیاب آثار خط میخی میں ہیں جبکہ " فارسی خط میخی بابلی  " خط میخی " سے ماخوذ ہے ۔

 

تحریر : پروفیسر میجر (ر) نذیر احمد ظفر چیمہ

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

حکیم عمر خیام نیشاپوری کی رباعیات کا منظوم اردو ترجمہ

حکیم عمر خیام نیشاپوری کی رباعیات کا منظوم اردو ترجمہ-2-