• صارفین کی تعداد :
  • 3248
  • 12/2/2009
  • تاريخ :

حضرت ابراہيم ،حضرت اسماعيل اور حضرت اسحاق (عليہم السلام) ( حصّہ سوّم )

بسم الله الرحمن الرحیم

حضرت ابراہيم ،حضرت اسماعيل اور حضرت اسحاق (عليہم السلام)

حضرت ابراہيم ،حضرت اسماعيل اور حضرت اسحاق (عليہم السلام) ( حصّہ دوّم )

اور انھيں ہر قسم كى لغزش اور انحراف سے بچايا _ ہم نے بارہا كہا ہے كہ خدائي ہدايت ہميشہ لياقت واہليت كى بنياد پر ہوتى ہے كہ جس كا مظاہرہ خود انسان كى طرف سے ہوتا ہے اس كى طرف سے كسى كو كوئي چيز استعداد اور كسى حساب كتاب كے بغيرنہيں دى جاتى حضرت ابراہيم كو بھى اسى بنياد پر يہ ہدايت نصيب ہوئي _

3_ ""ہم نے دنيا ميں انھيں ""حسنہ"" سے نوازا ""_ وسيع معنى كے اعتبار سے ""حسنہ "" ميں ہر قسم كى نيكى اور اچھائي كا مفہوم موجود ہے اس ميں مقام نبوت رسالت سے لے كر اچھى اولادوغيرہ تك كا مفہوم موجود ہے_

4_ اور آخرت ميں وہ صالحين ميں سے ہوں گے ""_ (1)

5_ ان صفات كے ساتھ ساتھ اللہ نے حضرت ابراہيم عليہ السلام كو ايك ايساا متياز عطا فرمايا ہے كہ ان كا مكتب و مذہب صرف ان كے اہل زمانہ كے لئے نہ تھا بلكہ ہميشہ كے لئے تھا خاص طور پر اسلامى امت كے لئے بھى يہ ايك الہام بخش مكتب قرارپايا ہے _جيساكہ قرآن كہتا ہے :""پھر ہم نے تجھے وحى كى دين ابراہيم كى اتباع كركہ جو خالص توحيد كا دين ہے "" _ (2)

ابراہيم عليہ السلام سب كے لئے نمونہ ہيں

قرآن مجيد بہت سے موارد ميں اپنى تعليمات كى تكميل كے لئے ايسے نمونے جو جہان انسانيت ميں موجود ہيں،گواہ كے طور پر پيش كرتا ہے_ اس لئے قرآن ميں بھى دشمنان خدا سے دوستى كرنے سے سختى كے ساتھ منع كرنے كے بعد،ابراہيم عليہ السلام اور ان كے طريقہ كارميں ايك ايسے عظيم پيشوا كے عنوان سے جو تمام اقوام كے لئے اور خاص طور پر قوم عرب كے لئے احترام كى نظروں سے ديكھے جاتے تھے،گفتگو كرتے ہوئے فرماتا ہے:""تمھارے لئے ابراہيم عليہ السلام اور ان كے ساتھيوں كى زندگى ميں بہترين نمونہ ہے_"" (3)

ابراہيم عليہ السلام پيغمبروں كے بزرگ تھے_ ان كى زندگى سرتا سر خدا كى عبوديت،جہاد فى سبيل اللہ اور اس كى پاك ذات كے عشق كے لئے ايك سبق تھي_وہ ابراہيم عليہ السلام كہ امت اسلامى ان كى بابركت دعا كا نتيجہ ہے اور ان كے ركھے ہوئے نام پر فخر كرتى ہے;وہ تمہارے لئے اس سلسلہ ميں ايك اچھا نمونہ بن سكتے ہيں_

""والذين معہ""(جو لوگ ابراہيم عليہ السلام كے ساتھ تھے)كى تعبير سے مراد وہ مو منين ہيں جو اس راہ ميں ان كے پيرو اور ساتھى رہے_اگر چہ وہ قليل تعداد ميں تھے_ باقى رہا يہ احتمال كہ اس سے مراد وہ پيغمبر ہيں جو آپ كے ساتھ ہم آواز تھے يا ان كے زمانے كے پيغمبر،جيسا كہ بعض نے احتمال ديا ہے_تا ہم يہ بہت بعيد نظر آتا ہے_خصوصاًجبكہ مناسب يہ ہے كہ قرآن يہاں پيغمبر اسلام(ص) كو ابراہيم عليہ السلام كے ساتھ اور مسلمانوں كو ان كے اصحاب اور انصار سے تشبيہ دے_

يہ تواريخ ميں بھى آيا ہے كہ بابل ميں ايك گروہ ايسا تھا،جو ابراہيم عليہ السلام كے معجزات ديكھنے كے بعدا ن پر ايمان لے آيا تھااور شام كى طرف ہجرت ميں وہ آپ كے ساتھ تھا،اس سے پتہ چلتا ہے كہ ابراہيم عليہ السلام كے كچھ وفادار ياروانصار بھى تھے_

(1) سورہ نمل آيت122

(2) سورہ نمل آيت 4

(3)سورہ ممتحنہ آيت 4

قصص القرآن

منتخب از تفسير نمونه

تاليف : حضرت آيت الله العظمي مکارم شيرازي

مترجم : حجة الاسلام و المسلمين سيد صفدر حسين نجفى مرحوم

تنظيم فارسى: حجة الاسلام و المسلمين سير حسين حسينى

ترتيب و تنظيم اردو: اقبال حيدر حيدري

پبليشر: انصاريان پبليكيشنز - قم