بدھ 19 جون 2013
فارسي
العربیة
اردو
Türkçe
Русский
English
Français
تعارفی نام :
پاسورڈ :
تلاش کریں :
:::
اسلام
قرآن کریم
صحیفه سجادیه
نهج البلاغه
مفاتیح الجنان
انقلاب ایران
مسلمان خاندان
رساله علماء
سروسز
صحت و تندرستی
مناسبتیں
آڈیو ویڈیو
اصلی صفحہ
>
اسلام
>
اصول و اعتقادات امامیہ
>
امامت
1
2
امامت پر بحث
مسئلہ امامت بہت اہم مسائل میں سے ایک ہے اور یہ عقائد کی بنیاد ہے ۔ ہمارے عقائد کے مطابق وہ لوگ جو علم کے حقیقی منبع سے متصل ہیں وہ آئمہ اطہارعلیہم الصلاة و السلام ہیں
لفظ مولا اور آئمہ اکرام
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مولا تھے اور علی علیہ السلام بھی مولا ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غدید خم کے موقع پر اس حقیقت کو بیان کیا ہے
غدير خم اور لفظ مولا
حقیقت میں یہاں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورہ احزاب کی چھٹی آیت کے ایک حصے کی طرف اشارہ کرتے ہیں ہوۓ ان سے یہ اقرار کروایا
کلمه مولا کے معني
مولا کا لفظ ولایت کے ساتھ بھی گہرا تعلق رکھتا ہے اور اس کے معنی پیروی کرنے کے ہیں لیکن دوستی کے معنی بھی دیتا ہے ۔
مولا کا مفہوم امام سے اعلي ہے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنے معروف خطاب میں غدید کے موقع پر مولا کے لفظ کو استعمال کیا ہے اور اس موقع پر امام کا لفظ استعمال نہیں ہوا ۔
کيوں حضرت علي (ع) ہي پيغمبر (ص) کے وصي اور جانشين ہيں ؟
شیعوں کا راسخ عقیدہ یہ ہے کہ منصب خلافت ، خدا عطا فرماتا ہے اسی طرح ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ پیغمبراکرم (ص) کے بعد شروع ہونے والی امامت چند اعتبار سے نبوت کی طرح ہے جس طرح یہ ضروری ہے
ولايت اور ہجرت
ہجرت کا شمار اُن مسائل ميں ہوتا ہے جو ولايت کے بارے ميں ہمارے پيش کردہ وسيع مفہوم کے ساتھ تعلق رکھتے ہيں ۔
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 23
مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق قرآن کریم اللہ تعالی کی کتاب ہے اور براہ راست خداوند متعال کی جانب سے نازل ہوئی ہے۔
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 22
بعض روایات میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا گیا ہے
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 21
اس آیت اور اس کی مشابہ آیات جیسے (( ..... وان تتولوا يستبدل قوما غيرکم ثم لا يکونوا امثالکم (سورہ محمد (ص) آيت 38)) کے ذیل میں رسول اللہ (ص) نے سلمان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 20
اور حسن بن علی العلوی اپنے دادا سے اور وہ احمد بن یزید سے اور وہ عبدالوہاب سے اور وہ مُخلّد سے، مخلد مبارک سے اور مبارک حسن سے روایت کرتے
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 19
اور کہا گیا ہے کہ: یہ وہ اسناد ہیں جن میں کوئی شک نہیں ہے اور حافظ ابن مردویہ امیرالمؤمنین (ع) اور عمار اور ابو رافع کے الفاظ میں
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 18
رازی اپنی تفسیر کی جلد 3 صفحہ431 پر عطاء سے اور وہ عبداللہ بن سلام اور ابن عباس اور ابوذر بن خازن اپنی تفسیر کی جلد 1 صفحہ 431 اور ابوالبرکات اپنی کی جلد1 صفحہ 496۔
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 17
تمہارا حاکم و سر پرست بس اللہ ہے اور اس کا پیغمبر اور وہ ایمان رکھنے والے جو نماز ادا کرتے ہیں اور خیرات دیتے ہیں اس حالت میں کہ وہ رکوع میں ہیں۔
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 16
بالفاظ دیگر اگر اللہ تعالی اس آیت میں ولیکم کی جگہ اولیائکم کا لفظ استعمال کرتا تو اس سے معلوم ہوتا کہ ولایت کی مختلف قسمیں ہیں جو بعض افراد کو مؤمنین پر حاصل ہے
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 15
اس بحث کے آخر میں زمخشری کے قول کا جائزہ لیتے ہیں۔ (زمخشری اہل سنت کے بڑے مفسرین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی تفسیر الکشاف میں اس آیت کی تفسیر بیان کی ہے)۔
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 14
لیکن جب ان آیات کی شان نزول کی طرف رجوع کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ گو کہ اللہ تعالی نے ان آیات میں منافقین کو مورد خطاب قرار دیا ہے اور منافقین کے لئے حکم صادر فرمایا ہے
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 13
وہ یوں کہ خداوند متعال بالواسطہ طور پر مؤمنین سے مخاطب ہو کر ارشاد فرماتا ہے کہ: اگرچہ تم مؤمنین کی سرپرستی کے عہدے پر فائز نہیں ہوسکو گے
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 12
نیز استاد نے بالواسطہ طور پر اپنے شاگردوں کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اگر عالم ترین نہ بھی ہوسکو کم از کم اپنے آپ کو صاف ستھرا رکھو۔
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 11
اس آیت کو بہتر سمجھنے کے لئے اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ ایک فرد کو توصیف کے ذریعے کس طرح متعارف کرایا جائے کہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں؟
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 10
اب اگر ہم ولی سے سرپرست اور صاحب مراد لیں تو یہ معنی قرآن کی دیگر آیات سے تضاد و تصادم کی صورت ہرگز پیدا نہ ہوگی کیونکہ سرپرستی کا عہدہ سب کے لئے نہیں ہوسکتا
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 9
اس بات کی وضاحت ضروری نہیں ہے کہ قرآن کلام خدا ہے اور اس میں خطا کی گنجائش نہیں ہے
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 8
لفظ رکوع بھی اس قاعدے سے مستثنی نہیں ہے اور ہم قرآن مجید میں جہاں بھی اس لفظ کا سامنا کرتے ہیں، ابتداء میں اس کے لغوی معنی کو مدنظر رکھتے ہیں۔
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 7
زكواة یعنی اللہ کی خوشنودی کی نیت سے مال عطاء کرنا؛ اور اس کے ایک معنی، محتاجوں کو مال و دولت عطاء کرنے سے عبارت ہے؛ اور اس آیت میں زکواة کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 6
اگر اول الذکر جملے کے آغاز میں لفظ انما استعمال کیا جائے تو قیام (کھڑے ہونے کے عمل) کو محمد میں محصور و منحصر کردے گآ اور اس جملے کے معنی یہ ہونگے کہ
آیت ولایت؛ خدا، رسول خدا اور علی (ع) ہی مؤمنین کے سرپرست 5
بالفاظ دیگر آیت کے نزول کے وقت انما کا لفظ لاکر صرف تین ہستیوں کو مؤمنین کے لئے ولی قرار دیا گیا ہے پس اس آیت کے معنی کو یوں ہونا چاہئے
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 4
خدا کی طرف سے انسان کی ہدایت و سعادت کے لئے والے قرآن کریم میں اللہ تعالی کی جانب سے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور امام اول حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے مقام ولایت کے اثبات پر مبنی متعدد دلیلیں بیان ہوئی ہیں
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 3
جب انسان اس بارے میں سوچتا ہے، اپنے آپ کو اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں میں ڈوبا ہوا پاتا ہے۔
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 2
چنانچہ انسان کی عقل اس کے خدا کی درگاہ کی طرف ہی لے جاتی ہے؛ کیونکہ ان حقائق کے علاوہ وہ تمام امور و معاملات میں وہ بے نیاز مطلق اور غنی مطلق ہے
آيت ولايت؛ خدا، رسول خدا اور علي (ع) ہي مؤمنين کے سرپرست 1
تمہارا حاکم و سر پرست بس اللہ ہے اور اس کا پیغمبر اور وہ ایمان رکھنے والے جو نماز ادا کرتے ہیں اور خیرات دیتے ہیں اس حالت میں کہ وہ رکوع میں ہیں۔
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-22
پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے اصحاب میں اخوت اور برادری قائم کی، ابوبکر اور عمر کے میں مواخات برقرار کردی اور فلاں و فلاں کے درمیان حتی کہ علی علیہ السلام نے رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-21
غور فرمائیں کہ حق کا مدار و محور علی علیہ السلام کا وجود مبارک ہے یا کوں کہئے کہ حق کا دارومدار علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ذات گرامی ہے
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-20
تین حدیثوں پر اس مقالے کو مکمل کرتے ہیں اور حقائق کے بارے میں فیصلے کا اختیار قارئین کو دیتے ہیں:
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-19
سوال یہ ہے کہ علی علیہ السلام کو ایسا کونسا عہدہ اور منصب عطا ہوا ہے کہ آپ (ع) کو اس طرح تبریک و تہنیت دی جارہی ہے؟
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-18
فرماتے ہیں کہ اللہ اکبر دین کے کامل ہونے اور نعمت کے مکمل ہونے اور میری رسالت اور علی (ع) کی ولایت سے اللہ کی خوشنودی پر؛
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-17
اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے وصال کے بعد کے زمانے کے لئے انتظام کرنا چاہتے ہيں اور اپنے وصال کے بعد وجود میں آنے والے خلا کو پر کرنا چاہتے تھے
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-16
یہ گواہی اور اقرار لینے کا مقصد کیا تھا؟ کیا اس گواہی کے ذریعے رسول اللہ (ص) لوگوں کو ذہنی طور پر علی علیہ السلام کے مقام و منصب کے اعلان کے لئے تیار کررہے تھے اور انہیں اس حقیقت کے لئے تیار کررہے تھے
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-15
سوال یہ کہ رسول اللہ (ص) کے ان جملوں کی مقارنت سے مقصد کیا ہے؟ کیا اس کا مطلب یہی نہیں ہے کہ رسول اللہ (ص) وہی مقام و منصب امیرالمؤمنین (ع) کو سونپنا چاہتے ہیں
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-14
اميرالمؤمنین علیہ السلام نے بعض اشعار معاویہ کے نام خط میں تحریر فرمائے ہیں جن میں سے آپ (ع) غدیر کے بارے میں فرماتے ہیں
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-13
چنانچہ اس حقیقت میں شک و تردد نہيں ہونا چاہئے کہ مولا سے مراد پہلے مرحلے میں اولی اور دوسروں سے زیادہ شائستہ اور زیادہ لائق ہے اور حدیث غدیر میں بھی مولا سے مراد یہی ہے۔
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-12
علاوہ بریں حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا جیسی عظیم شخصیات نے بھی رسول اللہ (ص) کے بھائی علی (ع) کے مخالفین اور آپ (ع) کی خداداد ولایت کے دشمنوں کے سامنے حدیث غدیر سے استدلال فرمایا ہے۔
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت- 11
رسول اللہ (ص) نے فرمایا: یا علی (ع)! اٹھو کہ بتحقیق میں اپنے بعد آپ کی امامت اور ہادی ہونے پر راضی و خوشنود ہوا
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-10
بہرحال پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کو جانشین کے طور پر متعین کرنے کے بعد فرمایا
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-9
حدیث غدیر کو بعد کی صدیوں میں نقل کرنے والے بھی اہل سنت کے علماء ہیں جن میں سے 360 علماء نے اپنی کتابوں میں یہ حدیث نقل کی ہے اور ایک کثیر تعداد نے اس حدیث کی سند کی صحت و استواری پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-8
ابن خلکان اور ابو ریحان البیرونی کے علاوہ مشہور سنی دانشور الثعالبی نے بھی عید غدیر کی شب کو امت اسلامی کی معروف راتوں کے زمرے میں ذکر کیا ہے
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-7
نہ صرف خطباء اور مقررین بلکہ شعراء بھی اس واقعے سے الہام لے کر اپنے ذوق کو اس عظیم واقعے کی نسبت تفکر اور صاحب ولایت کی نسبت اپنے اخلاص کے ذریعے جلا بخشتے ہیں
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-6
مذکورہ بالا خطبے کے تمام نکات میں غور کیا جائے تو اس میں علی علیہ السلام کی امامت کی زندہ دلیلیں نظر آئیں گی۔ (اس بات کی تقصیل آنے والی سطروں میں ملاحظہ ہو)۔
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-5
رسول اللہ (ص) نے فرمایا: ایک کتاب خدا ہے جس کی جانب چدا کے دست قدرت میں ہے اور دوسری جانب تمہارے ہاتھوں میں ہے اور دوسری میری عترت یعنی اہل بیت (ع) ہیں
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-4
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے ایک چادر درخت کے اوپر ڈالی گئی اور ایک سایہ بان تیار کیا گیا۔
حديث غدير ولايت کا منہ بولتا ثبوت-3
اے پیغمبر (ص)! جو اللہ کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو اس کا کچھ پیغام پہنچایا ہی نہیں اور اللہ لوگوں سے آپ کی حفاظت کرے گا۔
1
2
اصلی صفحہ
ہمارے بارے میں
رابطہ کریں
آپ کی راۓ
سائٹ کا نقشہ
صارفین کی تعداد
کل تعداد
آن لائن