• صارفین کی تعداد :
  • 5447
  • 3/24/2009
  • تاريخ :

مذہب اور سائنس میں تعلق

اسلامی سائنس

آج کا دَور سائنسی علوم کی معراج کا دَور ہے۔ سائنس کو بجا طور پر عصری علم (contemporary knowledge) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لہٰذا دَورِحاضر میں دِین کی صحیح اور نتیجہ خیز اِشاعت کا کام جدید سائنسی بنیادوں پر ہی بہتر طور پر سراَنجام دِیا جا سکتا ہے۔ بناء بریں اِس دَور میں اِس اَمر کی ضرورت گزشتہ صدیوں سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہے کہ مُسلم معاشروں میں جدید سائنسی علوم کی تروِیج کو فروغ دیا جائے اور دِینی تعلیم کو سائنسی تعلیم سے مربوط کرتے ہوئے حقانیتِ اِسلام کا بول بالا کیا جائے۔

چنانچہ آج کے مسلمان طالبِ علم کے لئے مذہب اور سائنس کے باہمی تعلق کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنا از بس ضروری ہے۔

مذہب ’خالق‘ (Creator)سے بحث کرتا ہے اور سائنس اللہ تعالی کی پیدا کردہ ’خَلق‘ (creation) سے۔ دُوسرے لفظوں میں سائنس کا موضوع ’خَلق‘ اور مذہب کا موضوع ’خالق‘ ہے۔ یہ ایک قرینِ فہم و دانش حقیقت ہے کہ اگر مخلوق پر تدبروتفکر اور سوچ بچار مثبت اور درُست انداز میں کی جائے تو اُس مثبت تحقیق کے کمال کو پہنچنے پر لامحالہ اِنسان کو خالق کی معرفت نصیب ہوگی اور وہ بے اِختیار پکار اُٹھے گا:

رَبَّنَا مَا خَلَقتَ ہٰذَا بَاطِلاً۔ (آل عمران،3:191)

اے ہمارے رب! تو نے یہ(سب کچھ) بے حکمت اور بے تدبیر نہیں بنایا۔

بندۂ مومن کو سائنسی علوم کی ترغیب کے ضمن میں اللہ ربّ العزت نے کلامِ مجید میں ایک اور مقام پر یوں اِرشاد فرمایا:

سَنُرِیہِم اٰیاتِنَا فِی الاٰفَاقِ وَ فِی أَنفُسِہِم حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُم أَنَّہُ الحَقُّ (حم السجدہ،41:53)

ہم عنقریب اُنہیں کائنات میں اور اُن کے اپنے (وُجود کے) اندر اپنی نشانیاں دِکھائیں گے، یہاں تک کہ وہ جان لیں گے کہ وُہی حق ہے۔

اِس آیتِ کریمہ میں باری تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ہم اِنسان کو اُس کے وُجود کے اندر موجود داخلی نشانیاں (internal signs) بھی دِکھا دیں گے اور کائنات میں جابجا بکھری خارجی نشانیاں (external signs) بھی دِکھا دیں گے، جنہیں دیکھ لینے کے بعد بندہ خود بخود بے تاب ہوکر پکار اُٹھے گا کہ حق صرف اللہ ہی ہے۔

تحریر: ڈاکٹر علامہ طاہرالقادری