• صارفین کی تعداد :
  • 2945
  • 1/10/2009
  • تاريخ :

زہد اور رندی

darvish

اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانی

تیزی نہیں منظور طبیعت کی دکھانی

شہرہ تھا بہت آپ کی صوفی منشی کا

کرتے تھے ادب ان کا اعلالی و ادانی

کہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوّف میں شریعت

جس طرح کہ الفاط میں مضمر ہوں معانی

لبریز مئے سے تھی دل کی صراحی

تھی تہ میں کہیں دُردِ خیال ھَمَہ دانی

کرتے تھی بیاں آپ کرامات کا اپنی

منظور تھی تعداد مریدوں کی بڑھانی

مدّت سے رہا کرتے تھے ہمسائے میں میرے

تھی رند سے زاھد کی ملاقات پرانی

حضرت نے مرے ایک شناسا سے یہ پوچھا

اقبال کہ ہے قمریٔ شمشادِ معانی

پابندیٔ احکامِ شریعت میں ہے کیسا؟

گو شعر میں ہے رشکِ کلیم ھَمدَانی

سنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتا

ہے ایسا عقیدہ اثرِ فلسفہ دانی

ہے اس کی طبعیت میں تشیّعُ بھی ذرا سا

تفضیلِ علی(ع) ہم نے سُنی اس کی زبانی

سمجھا ہے کہ ہے راگ عبادات میں داخل

مقصود ہے مذہب کی مگر خاک اُڑانی

کچھ عار اسے حسن فروشوں سے نہیں ہے

عادت یہ ہمارے شعرا کی ہے پُرانی

گانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تلاوت

اس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانی

لیکن یہ سُنا اپنے مریدوں سے ہے میں نے

بے داغ ہے مانندِ سحر اس کی جوانی

مجموعۂ اضداد ہے اقبال نہیں ہے

دلِ دفترِ حکمت ہے، طبیعت خَفَقانی

رندی سے بھی آگاہ، شریعت سے بھی واقف

پوچھو جو تصوّف کی ، تو منصور کا ثانی

اس شخص کی ہم پر تو حقیقت نہیں کُھلتی

ہوگا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانی

القصّہ بہت طول دیا وعظ کو اپنے

تادیر رہی آپ کی یہ نغز بیانی

اس شہر میں جو بات ہوِ، اڑ جاتی ہے سب میں

میں نے بھی سُنی اپنے احبّا کی زبانی

اک دن جو سرِ راہ ملے حضرتِ زاہد

پھر چھڑ گئی باتوں میں وہی بات پرانی

فرمایا، شکایت وہ محبّت کے سبب تھی

تھا فرض مرا راہ شریعت کی دکھانی

میں نے یہ کہا کوئی گلہ مجکو نہیں ہے

یہ آپ کا حق تھا زرہِ قربِ مکانی

خَم ہے سرِ تسلیم مرا آپ کے آگے

پیری ہے تواضع کے سبب میری جوانی

گر آپ کو معلوم نہیں میری حقیقت

پیدا نہیں کچھ اس سے قصورِ ہمہ دانی

میں خود بھی نہیں اپنی حقیقت کا شناسا

گہرا ہے مرے بحرِِ خیالات کا پانی

مجھ کو بھی تمنّا ہے کہ اقبال کو دیکھوں

کہ اس کی جدائی میں بہت اشک فشانی

اقبال بھی ''اقبال'' سے آگاہ نہیں ہے

کچھ اس میں تمسخر نہیں، واللہ نہیں ہے

 

شاعر کا  نام : علامہ محمد اقبال ( iqbal )

کتاب کا نام : بانگ درا  ( bang e dara )

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان