• صارفین کی تعداد :
  • 5696
  • 11/8/2008
  • تاريخ :

عذر قبول کيا جائے

بسم الله الرحمن الرحیم

 

عائشہ نہ بہت بے چيني سے ايک مرتبہ پھر گھڑي کو ديکھا اور نظريں گيٹ پر جما ديں، اسکول لگنے ميں صرف 5 منٹ ہي رہ گئے تھے اور ابھي تک مومنہ کا دور دور تک پتہ نہ تھا، اسنے غصے سے مٹھياں بھينچين اور مومنگ کے جلد آنے کي دعا کي ليکن پانچ منٹ بھي گزر گئے اور گھنٹي کي آواز پر وہ مردہ قدموں سے اسمبلي گراونڈ کي طرف چل پڑي، اداب کيا ہوگا، اس کے ذہن ميں بار بار يہي سوال گونج رہا تھا۔

 

اسمبلي کے دوران بھي خالي الذہن کھڑي رہي، اس کے سامنے کل کا واقعہ گھوم رہا تھا۔

عائشہ۔پليز مجھے تم سے ايک کام ہے تفريح کے وقفے ميں مومنہ نے اس سے کہا تھا۔

کس قسم کا کام؟ وہ مسکرائي

تمہيں تو پتا ہے پچھلے ہفتے دادا جان کي وفات کي وجہ سے ہميں گاؤں جانا پڑگيا تھا اس لئے کافي دن اسکول نہیں       آ سکي، ميں چاہ رہي تھي کہ آج تم حساب اور سائنس کي کاپي مجھے دے دو تاکہ ميں پچھلا کام اتار سکوں۔

اور عائشہ نے تھوڑي سي پس و پيش کے بعد جلدي واپس کرنے کي تاکيد کے ساتھ دونوں کاپياں اسے تھما دي تھيں اور آج آج ممنہ آئي ہي نہيں تھي، غصہ آنا تو فطري بات تھي، کل مومنہ آئے گي، تو خوب لڑوں گي اسنے فيصلہ کيا۔

السلام عليکم عائشہ يہ رہيں تمہاري کاپياں ۔ ميں تو کل ہي اگلے دن مومنہ نے اس کي کاپياں اسے واپس کرتے ھوئے صفائي پيش کرنا چاہي ليکن اس نے مومنہ کي پوري بات سنے بغير ہي کاپياں جھپٹيں اور يہ جا اور وہ  جا سننے کي بھي زحمت نہ کي۔

 

اب عائشہ نے کاپيوں کي جو حالت ديکھي تو اسے مزيد غصہ آيا، ان جکا کور جگہ جگہ سے پھٹ چکا اور جلد اکھڑ نے کے قريب تھي، ايک دو صفحات پر مٹي کے نشان بھي موجود تھے، نہ جانے يہ ميري کاپيوں کے ساتھ کيا کام کرتي رہي، ہونھہ آئندہ اسے کوئي چيز نہيں دوں گي، اس نے فيصلہ کيا۔

اسي وقت مومنہ دوبارہ اس کے پاس آئي عائشہ ميري بات سنو۔

بولو۔۔۔اس کے لہجے ميں سرد مہري تھي، اب ضرور کوئي ضرور بہانہ بنائي گي، اس نے سوچا۔

پرسوں شام کو ميں نے تمہاري کاپياں اپنے چھوٹے بھائي کو دي تھيں کہ تمہيں واپس کر آئے، وہ سائکل پر تمہاري طرف جا رہا تھا کہ راستے ميں اس کا ايکسيڈنٹ ہوگيا اور بہت سي چوٹوں کے علاوہ اس کا  داياں بازو بھي ٹوٹ گيا، امي تو ابھي تک گائوں سے نہيں آئي تھيں، اس لئے مجھے کل کي چھٹي کرني پڑي، امي کل شام کو ہي پہنچي ہيں اس لئے ميں آج اسکول آئي ہوں، ان حالات ميں مجھے ذرا فرصت نہين ملي کہ تمہاري کاپيوں کي حالت ہي درست کر ديتي ، پليز مجھے معاف کردو۔

 

عائشہ نے گہري نظروں سے اسکا جائزہ ليا اور کچھ کہے بغئير وہاں سےاٹھ آئي، پورا دن اس نے مومنہ سے کوئي بات نہيں کي حالانکہ اس سے اس کي بہت دوستي تھي۔

دن گزرتے گئے يہ واقعہ ماضي کي گرد ميں دب گيا، پھر يہ ہوا کہ بدلتے موسم نے جہاں اور بہت سے بچوں کو بيماري کا تحفہ ديا وہاں عائشہ کو بھي شديد بخار اور کھانسي نے آ گھيرا اس نے دو دن اسکول سے چھٹي کي کڑوي کڑوي دوا پيني پڑي، تيسرے دن طبعيت سنبھلي تو امي نے اسکول بھيجا اور ايک دو دن ميں وہ پوري طرح صحت ياب ہو گئي۔

اس دن کلاس ميں مسں نے اطلاع دي کے  پرسوں سائنس کا ٹيسٹ ہوگا تو ايک دم عائشہ کو ياد آيا بيماري کے دنوں ميں جو چھٹياں کيں تھيں تو سائنس کے کچھ نوٹس لکھنے رہ گئے تھے، اس کے چہرے پر پريشاني کے آثار ديکھ کر پاس بيٹھي مومنہ نے وجہ پوچھي۔

 

اس نے بتايا تو مومنہ نے بغير کچھ کہے اپني سائنس کي کاپي نکال کر اسے دے دي۔

يہ لو تم اتني سي بات پر پريشان ہو رہي تھيں، تسلي سے نوٹس اتارو، کل واپس کر دینا، ٹيست تو پرسوں ہے نا۔

عائشہ نے منون نگاہوں سے اسے ديکھتے ہوئے کاپي بيگ ميں رکھ لي، عائشہ گھر پہنچي تو خالہ جان اپنے تين عد شرارتي بچوں سميت آئي ہوئي تھيں۔ عائشہ نے بستہ کمرے ميں رکھا اورخالہ جان سے گپ شپ کرنے لگي۔ جب کہ ان کے بچے اسد اور حمزہ کے ساتھ مل کر پورے گھر ميں اودھم مچا رہے تھے وہ تو شايد شام تک باتيں ہي کرتي رہتي اگر امي جان کھانے کے لئے آواز نھ ديتيں۔

اچھا امي جان ميں يونيفارم بدل کر آتي ہوں۔ يہ کہتے ہوئے وہ اپنے کمرے کي طرف بڑھي ليکن دروازے ميں ہي ٹھٹک گئي يا خدايا يہ کيا کر رہے ہو تم لوگ وہ بچوں کو ديکھ کر چلائي جو کاغذ پھاڑ کر اس کے جہاز بنانے اور اڑانے ميں مصرورف تھے۔

باجي ديکھيں ميرا جہاز، ماني نے ايک جہاز لہرايا۔

 

يہ صفحے کہاں سے پھاڑ ے ہيں؟ يہ کہتے ہوئے وہ آگے بڑھي اور جيسے ہي کاپي پر نظر پڑي اس کي چيخ نکل گئي۔مومنہ کي کاپي پھر وہ ان کي طرف متوجہ ہوئي کيا کيا ہے تم نے؟ يہ ميري کاپي نہيں تھي ميري دوست کي تھي نکل جائو سب ميرے کمرے سے ، اور وہ پانچوں جلدي سے کھسک گئے۔ اف اب کيا کروں؟ اس نے آنسوئوں کو پونچھتے ہوئے سوچا۔ رات کو ڈرتے ڈرتے اس نے مومنہ کو فون کيا۔ مومنہ مجھے تم سے ايک بہت ضروري بات کھنا تھي۔ میں سن رہي ہوں دراصل کاپي کے متعلق ہے۔ کيا ابھي تک نوٹس مکمل نہيں ہوئے۔ اچھا ايسا کرنا کل اسکول لے آنا ہم دونوں مل کر لکھ ليں گے۔مومنہ اصل بات سے بے خبر بولتي چلي گئي۔ نہيں يہ بات نہیں ہےاسے بولنے ميں بہت دقت ہو رہي تھي۔ پھر کيا بات ہے ؟ عائشہ کے لہجے کو محسوس کرتے ہوئے وہ بھي سنجيدہ ہو گئي۔

وہ تمہاري ۔ ميرے بھائي۔ بات پوري کرنے سے پہلے ہي وہ رو پڑي۔ عائشہ کيا ہو گيا ہے؟ کيوں رو رہي ہو۔ ؟ سوال نہيں آ رہے  توميں سمجھا دوں گي۔ مومنہ واقعي پريشان ہو گئي۔ اسے سمجھ نہیں آ رہي تھي کہ اسے کيسے تسلي دے عائشہ کچھ تو بولونا۔ ميں تمہيں بعد میں بتائوں گي بڑي مشکل سے يہ جملہ ادا کرکے اس نے فون بند کرديا۔ جب اسے اپني کاپي کا يہ ہشر نظر آئے گا تو اس کا کيا رد عمل ہوگا؟ عائشہ نے سوچا اور پھر تخيل کي نگاہ سے مومنہ کو بہت غصے ميں کہتے سنا۔

 

ميں نے تمہيں کاپي اس لئے تو نہيں دي تھي کہ چھوٹے بہن بھائيوں کے حوالے کر دو کہ لو جہاز بنا کر اڑائو۔ مجھے ميري کاپي چاہئے صحيح سلامت حالت ميں سمجھيں تم۔

اف عائشہ نے گھبرا کر سر جھٹکا ۔ آنسو تو تھم چکے تھے مگر انجانا سا خوف مسلسل موجود تھا۔ اللہ مياں آپ تو جانتے ہيں نا کہ اس ميں ميرا قصور نہيں تھا ۔ پليز معاف کر ديں۔ اس نے صدق دل سے دعا مانگي ۔اسي وقت دروازہ کھلا اور مومنہ آندھي اور طوفان کي طرح اندر داخل ہوئي۔

 

کيا ہوا ہے ؟ اتنا کيوں رو رہي تھيں؟فون کيوں بند کر ديا تھا۔ اس نے ايک دم سے کئي سوال داغ ديئے اور عائشہ اسے ديکھ کر گھبرا گئي۔ پھر اس نے اسے بيٹھنے کے لئے کہا اور آہستہ آہستہ رک کر جھجکتے ہوئے ساري بات بتا دي اور پھر بولي مومنہ يقين کرو ميں بالکل سچ کہہ رہي ہوں ميرا کوئي قصور نہيں۔

اس کا خيال تھا کہ مومنہ بہت ناراض ہو گي۔ شايد غصے ميں اٹھ کر ہي چلي جائے ليکن جب اس نے اسے مسکراتے ديکھا تو حيران رہ گئي۔ بس اتني سي بات۔ تھوڑے سے صفحے ہي پھٹے ہيں نا جلد ہي ذرا ڈھيلي ہوئي ہے نا۔ اور عائشہ نے اثبات میں سر ہلا ديا۔ پھر ڈرتے ڈرتے پوچھا تم نے ميري بات کا يقين تو کر ليا ہے نا؟

 

عائشہ ميں نے اقوال زيں کي کتاب ميں يہ پڑھا تھا کہ۔ ہر مسلمان کا يہ حق ہے کہ اس کا عذر قبول کيا جائے اور تم تو صرف مسلمان ہي نہیں ميري اتني اچھي دوست بھي تو ہو۔ يہ کہتے ہوئے اس نے عائشہ کا ہاتھ تھام ليا۔ عائشہ کو کچھ دن پہلے کا کچھ اسي طرح کا واقعہ ياد آ گيا اور اس نے سوچا کيا ميں نے اپني مسلمان دوست کا يہ حق پہچانا تھا۔؟ 


  متعلقہ تحریریں:

 نيت کا فرق

 دو دوست