• صارفین کی تعداد :
  • 5609
  • 10/26/2008
  • تاريخ :

بابا فرید گنج شکر (1173-1265)

بابا فرید گنج شکر

 

بابا فرید جنہیں گنج شکرکے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ملتان کے نزدیک کتھوال کے مقام پر پیدا ہوئے۔ ان کے آباؤ اجداد بارہویں صدی کے اواخر میں کابل سے یہاں آئے تھے۔ ان کا تعلق تصوف کے چشتی مکتبہ ٴفکر سے تھا جس کا آغاز دسویں صدی عیسوی میں اس وقت ہوا جب سلطان محمود غزنوی کے حملوں کے دوران چشتیہ روایت کے علمبردار بہت سے بزرگوں نے پنجاب کا رخ کیا اور یہیں آباد ہو گئے۔

 

خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے بعد ہندوستان میں بابا فرید اس روحانی سلسلے کے راہنما مقرر ہوئے تھے ۔انہوں نے اپنے عہد کے مروجہ ظاہری علوم کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے دہلی کا رخ کیا اور اپنے مرشد کی نگرانی میں روحانی تربیت کے ساتھ ساتھ شدید ریاضت اور مجاہدوں کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں خصوصی طور پر ان کے چلہ معکوس (چالیس دن تک کنوئیں میں الٹا لٹکے رہنا) کا ذکر کیا جاتا ہے۔

 

اس کے بعد انہوں نے اپنے مرشد کی اجازت سے ہانسی میں رہائش اختیار کی۔ مرشد کے انتقال کے بعد انہیں چشتیہ مکتبہ فکر کا باقاعدہ سربراہ بنا دیا گیا اور انہوں نے پنجاب میں واقع”اجودھن“ نامی قصبے کو اپنا روحانی مرکز بنانے کا فیصلہ کیا۔ رفتہ رفتہ یہاں بھی ان کی شہرت ہونے لگی اور لوگ جوق درجوق ان کی جانب رجوع کرنے لگے۔ بابا فرید نے یہاں صوفیانہ روایت کے مطابق ایک جماعت خانے کی بنیاد رکھی۔ اجودھن ،جو اب پاکپتن کے نام سے موسوم ہے ،کی خانقاہ میں ایک صوفیانہ درسگاہ کی تمام جملہ خصوصیات موجودتھیں۔ جماعت خانے میں بہت سے دانشور اور صوفیا ہر وقت موجود رہتے تھے۔

 

بابا فرید کی شاعری ہم تک ”آدگر نتھ “کے اشلوکوں کے ذریعے پہنچی ہے۔ ان کی صوفیانہ شاعری مابعدالطبعی رُحجانات اور تصورات کا باقاعدہ اظہار ہے ۔ ان کی تعلیمات بنیادی طور پر وہی ہیں جو ان سے دو صدیاں پہلے سید علی ہجویری متعارف کروا چکے تھے۔ اس اعتبار سے بابا فرید کی تعلیمات کو پنجاب کی زرّیں روایات کا تسلسل تصور کرنا چاہیے۔ ان کے ہاں مذہبی قانون اور داخلی صوفیانہ صداقت میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا رحجان غالب نظر آتا ہے۔ بابا فرید کی بنا پر تصوف پنجاب میں ایک عوامی تحریک کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے آخری ایام بے سروسامانی اور قلیل البضاعتی کے عالم میں بسر کئے اور ۱۲۶۵ء میں وفات پائی۔

 

                                            راشد متین ( اردو پوائنٹ ڈاٹ کام )


متعلقہ تحریریں:

 استاد محمد تقی جعفری