• صارفین کی تعداد :
  • 4543
  • 8/16/2008
  • تاريخ :

طرزِ تعمیر

مسجد حسن ثانی، مراکش کا مینار

ابتدائی مساجد بہت سادہ تھیں اور ایک منزلہ سادہ عمارت پر بھی مشتمل ہوتی تھیں جس کے ساتھ کوئی مینار یا گنبد ضروری نہیں تھا۔ اسلام میں مسجد کے لیے صرف جگہ مخصوص ہوتی ہے مگر اس کے طرزِ تعمیر پر کوئی قدغن نہیں۔ ابتداء میں مسجد نبوی کھجور کے تنوں کے ستونوں اور اُس کے پتوں کی چھت سے تعمیر ہوئی تھی۔ کعبہ پتھروں سے بنی ایک چوکور عمارت تھی جس کے اردگرد کھلے احاطے میں عبادت ہوتی تھی۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے وسائل پڑھتے چلے گئے اور انہوں نے اپنی ضرورت اور علاقے کی ثقافت کے مطابق مساجد تعمیر کیں۔ مساجد میں مہنگے کام اور بلند مینار اور گنبد بعد میں بننا شروع ہوئے۔ مینار کی وجہ یہ تھی کہ مسجد دور سے نظر آئے، اس پر چڑھ کر اذان دی جائے تو آواز دور دور تک آئے اور علاقے کی ثقافت و فن کی عکاسی بھی تھی۔ گنبد سے مسجد کے خطیب کی تقریر اور نماز کی آواز ایک گونج اور خوبصورتی کے ساتھ پوری مسجد میں پھیلتی تھی۔ اسلام میں چونکہ زندہ چیزوں کی تصاویر کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی اس لیے مساجد کی تزئین کے لیے قرآنی آیات کا مختلف خوبصورت طریقوں سے استعمال کیا گیا اور مختلف جیومیٹرک ڈیزائن بھی استعمال کیے گئے۔

وقت، ضرورت اور ثقافت کی عکاسی کی وجہ سے مساجد میں کئی چیزیں تقریباً ضروری ہو گئیں جیسے مینار، گنبد، مسجد میں ایک صحن، وضو کے فوارے (یا تالاب یا نلکوں والی جگہ)، نماز کے لیے ہال (بڑا کمرہ) وغیرہ۔ اس کے علاوہ اکثر مساجد کے ساتھ حمام ( یا کم از کم بیت الخلاء)، کتب خانے، مطب (کلینک) اور بعض مساجد کے ساتھ مدارس، تحقیقی مراکز یا باقاعدہ جامعات (یونیورسٹیاں) شامل ہیں۔

مینار

بادشاہی مسجد،لاہور، پاکستان کا مینار جس کے عقب میں سکھوں کا گردوارہ نظر آ رہا ہے

مینار مسجد کی بنیادی پہچان ہے جس سے مسجد دور ہی سے نظر آسکتی ہے۔ بنیادی طور پر مینار پر چڑھ کر اذان دی جاتی تھی جس سے آواز دور تک جاتی تھی مگر اب اذان مسجد کے اندر سے دی جاتی ہے کیونکہ لاوڈ سپیکر سے آواز کو دور دور تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ مسجد کے مینار کی اونچائی پر کوئی قدغن نہیں۔ یہ بہت چھوٹا بھی ہوسکتا ہے اور بہت اونچا بھی۔ یورپ میں چھوٹی مساجد میں تو مینار ہی نہیں ہوتے کیونکہ وہ اکثر ایک یا دو کمروں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ سب سے لمبا مینار مسجد حسن ثانی، کاسابلانکا، مراکش کا سمجھا جاتا ہے جو 210 میٹر(689 فٹ) بلند ہے۔

شروع میں مساجد کے مینار نہیں تھے اور وہ بہت سادہ تھیں مگر جلد ہی مینار مساجد کا تقریباً لازمی حصہ بن گئے۔ مسلمانوں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ مینار کلیساووں کے مینار دیکھ کر بنائے گئے مگر یہ درست نہیں ہے کیونکہ عرب تعمیرات میں پہلے ہی سے مینار بنتے تھے خصوصاً مختلف دفاعی قلعوں کے ساتھ مینار دور تک دیکھنے کے لیے بنائے جاتے تھے۔ مساجد میں میناروں کی تعداد ایک سے لے کر چھ تک ہوتی ہے۔ اکثر مساجد میں چار مینار ملتے ہیں۔ ترکی کی کئی مساجد میں چھ مینار ہیں۔ مسجد الحرام میں کل نو مینار ہیں جو مختلف اوقات میں تعمیر ہوئے ہیں۔ مسجد نبوی کے دس مینار ہیں جن میں سے چھ 99 میٹر اونچے ہیں. بادشاہی مسجد لاہور، پاکستان کے مینار 53.8 میٹر ( 176.3 فٹ) لمبے ہیں۔ مینار کے اوپر جانے کے لیے دو سو چار سیڑھیاں ہیں۔  مسجد الحضر، تریم، یمن کے مینار کی لمبائی 53 میٹر ( 175 فٹ) ہے۔ مسجد حسن ثانی کا مینار، بادشاہی مسجد کا مینار اور مسجد الحضر کا مینار دنیا کے لمبے ترین میناروں میں سے کچھ ہیں۔

مسجد الحضر، تریم، یمن کا مینار

میناروں کی اشکال مختلف ممالک میں مختلف ہیں۔ پاکستان، بھارت اور ایران میں مینار عموماً گول ہوتے ہیں اور کافی موٹائی رکھتے ہیں۔ ترکی میں عموماً مینار گول مگر کم موٹائی والے ہوتے ہیں۔ شام اور مصر میں بہت سے مینار چورس(مربع شکل کے) ہوتے ہیں۔ مصر میں ہشت پہلو مینار بھی ملتے ہیں۔ مگر ان تمام مذکورہ ممالک میں دوسری اقسام کے مینار بھی ملتے ہیں۔ میناروں کے اوپر سرخ، فیروزی یا دیگر نقش و نگار بھی بنائے جاتے ہیں جن سے ان کی خوبصورتی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایران اور عراق میں بعض مینار سنہری رنگ کے بنے ہوئے ہیں جن کے اوپری حصے میں اصلی سونے سے ملمع کاری کی گئی ہے۔

گنبد

گنبد آج کل کی مساجد کا تقریباً جزوِ لازم ہیں۔ گنبد کا بنیادی مقصد صرف خوبصورتی نہیں بلکہ اس کی وجہ سے خطیبِ مسجد کی آواز پوری مسجد میں گونجتی ہے۔ اس کے علاوہ اب گنبد مساجد کی پہچان بن چکی ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا روضہ مبارک مسجدِ نبوی میں ہے جس کا سبز گنبد بہت مشہور ہے۔ روضہ مبارک کی تصاویر میں سب سے نمایاں یہی گنبد ہے۔

گنبدِ خضراء۔روضہ و مسجد نبوی

فلسطین میں حرم قدسی الشریف میں واقع قبۃ الصخرہ بھی تحریکِ آزادیِ فلسطین کی پہچان ہے۔ یہ مسلمانوں کا شاید سب سے پرانا قائم گنبد ہے۔ بعض لوگ اسے مسجد الاقصیٰ سمجھتے ہیں جو غلط ہے۔ ایران میں مساجد کے بہت ہی خوبصورت گنبد تعمیر ہوئے ہیں۔ مثلاً مسجدِ امام، اصفہان کا گنبد یا مسجد گوہر شاد، مشہد کا گنبد۔ برصغیر پاک و ہند کے گنبد بھی قابلِ دید ہیں۔ سندھ میں عربوں کی آمد کے بعد کئی مساجد تعمیر ہوئیں جن کے ساتھ سادہ مگر بڑے بڑے گنبد تھے مگر بعد میں مغل بادشاہوں نے بڑی شاندار مساجد تعمیر کیں مثلاً بادشاہی مسجد لاہور، پاکستان کے سفید گنبد بہت ہی خوبصورت اور بڑے ہیں۔

مسجد خاتم الانبیاء، بیروت، لبنان کا گنبد

 مغلوں کی تعمیر کردہ بابری مسجد کے گنبد بھی بہت بڑے تھے جن کو ہندو انتہا پسندوں نے شہید کر دیا۔ جدید دور میں تعمیر ہونے والی کراچی، پاکستان کی مسجد طوبیٰ کا گنبد یک گنبدی مساجد میں سب سے بڑا ہے جو 72 میٹر (236 فٹ) قطر کا ہے اور بغیر کسی ستون کے تعمیر ہوا ہے۔ 1557ء میں تعمیر ہونے والی سلیمیہ مسجد، ادرنہ، ترکی کا گنبد 27.2 میٹر قطر کا ہے اور یہ بھی دنیا کے بڑے گنبدوں میں شمار ہوتا ہے۔

بابری مسجد، بھارت۔ یہ گنبد انتہا پسند ہندو لوگوں نے ڈھا دیے۔

یہ گنبد پرانا ہونے کے باوجود اس قدر مضبوط ہے کہ 1915ء کی بلغاریہ کی توپوں کی بمباری سے بھی نہیں ٹوٹا اور اس کی صرف اندرونی تہہ کو نقصان پہنچا۔ دنیا میں بڑے گنبدوں میں مسجد سلطان صلاح الدین عبدالعزیز (نیلی مسجد)، ملائیشیا کا گنبد بھی شامل ہے جو170 فٹ قطر کا ہے۔ یاد رہے کہ گنبد صرف مساجد پر نہیں ہوتے بلکہ یہ کلیسا، جامعات اور کچھ تحقیقاتی مراکز پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

مسجد طوبیٰ ، کراچی، پاکستان۔ یک گنبدی مساجد میں دنیا کا سب سے بڑا گنبد

گنبدوں کے اندرونی حصوں پر بڑی خوبصورت نقاشی بھی ہوتی ہے اور اکثر قرآنی آیات بھی لکھی جاتی ہیں۔ بعض گنبدوں میں شیشے لگے ہوتے ہیں جس سے روشنی بھی اندر آسکتی ہے۔ گنبد کی اندرونی نقاشی زیادہ تر گہرے نیلے، فیروزی یا سرخ رنگ میں کی جاتی رہی ہے کیونکہ یہ رنگ اونچے گنبدوں میں بھی گنبد کے نیچے کھڑے افراد کو بخوبی نظر آ سکتے ہیں۔

صحنِ مسجد، وضو کی جگہ، فوارے، تالاب اور حمام

مسجدِ پیرس کا ایک صحن

قدیم مساجد کے بڑے بڑے صحن ہیں مثلاً مسجد الحرام اور مسجدِ نبوی کے صحن بہت بڑے بڑے ہیں جن میں وقت کے ساتھ ساتھ وسعت آئی ہے۔ ان صحنوں میں بلاشبہ لاکھوں افراد نماز پڑھ سکتے ہیں۔ لاہور کی بادشاہی مسجد کا صحن بھی بہت بڑا ہے جس میں ایک وقت میں ایک لاکھ کے قریب افراد نماز پڑھ سکتے ہیں۔ نماز کے علاوہ قدیم زمانے کی مساجد میں حوض (تالاب) ضرور ہوتے تھے جو وضو کے لیے استعمال ہوتے تھے۔بعض تالاب ایسے بنے ہوتے تھے جن میں بارش کا پانی نتھر کر (فلٹر ہو کر) جاتا تھا۔ اس کی ایک مثال تیونس کی قدیم مسجد جامع القیروان الاکبر کی ہے۔ بڑے بڑے صحنوں اور ان کے درمیان حوض کی ایک اور مثال جامع مسجد اصفہان ، ایران کی ہے۔ سلطانی مسجد بروجرد، ایران کا صحن بھی بہت بڑا ہے جس کے تین اطراف میں عمارتیں ہیں۔ سمرقند میں امیر تیمور کی بنائی ہوئی مسجد بی بی خانم کا صحن بھی بڑے صحنوں کی فہرست میں شامل ہوتا ہے۔ جامعہ الازہر اور مصر ہی کی ایک اور مسجد حاکم کے صحن بھی بہت بڑے بڑے ہیں۔ غرض یہ فہرست بہت طویل ہے۔ ان تمام صحنوں میں حوض ہیں اور بعض میں فوارے بھی لگے ہوئے ہیں۔ بعض مساجد مثلاً مسجدِ پیرس کے ساتھ حمام بھی موجود ہیں۔

مسجد حسن ثانی مراکش کے ستون

مسجد میں نماز کے لیے عموماً ایک بڑا کمرہ یا ہال مخصوص ہوتا ہے جس میں بہت سازوسامان نہیں ہوتا مگر خوبصورت اور آرام دہ قالین بچھے ہوتے ہیں تاکہ اس زیادہ سے زیادہ میں آسانی سے نماز ادا کر سکیں۔  اس میں عموماً محراب و منبر بھی ہوتے ہیں۔ محراب وہ جگہ ہے جس میں پیش امام نمازِ جماعت کرواتا ہے اور منبر پر خطیب خطبہ دیتے ہیں۔ منبر عموماً لکڑی کے بنائے جاتے تھے۔ سب سے پرانا لکڑی کا منبر جامع القیروان الاکبر، تیونس میں ہے جس کا تعلق پہلی صدی ہجری سے ہے۔ آج کل لکڑی کے علاوہ سیمنٹ اور کنکریٹ سے بھی منبر بنائے جاتے ہیں جن کے اوپر سنگِ مرمر لگا ہوتا ہے۔

مسجد قرطبہ کے ستون

مساجد میں مرکزی بڑا کمرہ جو نماز کے لیے مخصوص ہوتا ہے، عموماً بے شمار ستونوں سے آراستہ ہوتا ہے کیونکہ بہت ہی بڑے کمرے کی چھت کو سہارا دینے کے لیے ستونوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ مگر ستونوں کا مقصد صرف چھت کو سہارا دینا نہیں رہا بلکہ اس سے مسجد کی خوبصورتی میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ بعض مساجد مثلاً مسجد قرطبہ اپنے ستونوں کی وجہ سے مشہور ہو جاتی ہیں۔ ستونوں کی تعمیر میں مسلمانوں نے علم الہندسہ کے عظیم شاہکار جنم دیے ہیں۔ بعض مساجد مثلاً جامع القیروان الاکبر میں چار سو سے زیادہ ستون ہیں۔ مسجدِ نبوی کے بعض ستون تو ایسے ہیں جو پرانے ہیں اور وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسجدِ نبوی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دورِ مبارک میں کہاں تک تھی۔ بعض ستون نئے ہیں۔ مسجدِ نبوی اور مسجد الحرام کے ستون بھی ان گنت ہیں۔ نماز کے ہال کا عمومی منظر دیکھا جائے تو بہت سے ستونوں اور خوبصورت محراب و منبر ساتھ پورے کمرے میں قالین بچھے نظر آئیں گے جو عموماً گہرے سرخ یا سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔ ہال میں مختلف کونوں میں ٹوپیوں کی جگہ نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ دیواروں کے ساتھ مختلف الماریوں میں قرآن اور دیگر مذہبی کتب پڑی ہوں گی۔ جدید مساجد میں اور بعض قدیم بڑی مساجد میں کچھ کرسیاں بھی نظر آتی ہیں جن پر ایسے لوگ بیٹھتے ہیں جو ضعیفی یا دیگر مسائل کی وجہ سے زمین پر نہیں بیٹھ سکتے۔