• صارفین کی تعداد :
  • 7374
  • 8/5/2008
  • تاريخ :

اينگزائٹي(گھبراہٹ)  اور فوبيا

فوبیا کا علاج!

تعارف

گھبراہٹ ايک عام انساني احساس ہے? ہم سب کو اس کا تجربہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم کسي مشکل يا کڑے وقت سے گذرتے ہيں?

خطرات سے بچاؤ، چوکنا ہونے اور مسائل کا سامنا کرنے ميںعام طور  پر خوف اور گھبراہٹ مفيد ثابت ہوسکتے ہيں? تاہم اگر يہ احساسات شديد ہوجائيں يا بہت عرصے تک رہيں تو يہ ہميں ان کاموں سے روک سکتے ہيں جو ہم کرنا چاہتے ہيں اور اس کے نتيجے ميں ہماري زندگي تکليف دہ ہوسکتي ہے?

فوبيا کسي ايسي مخصوص صورتحال يا چيز کا خوف ہے جو خطرناک نہيں ہوتي اور عام طور پر لوگوں کے ليے پريشان کن نہيں ہوتي?

گھبراہٹ کي علامات

ذہني علامات

 جسماني علامات

 

ہر وقت پريشاني کا احساس

تھکن کا احساس

توجہ مرکوز نہ کرپانا

چڑچڑے پن کا احساس

نيند کے مسائل

 دل کي دھڑکن محسوس ہونا

 زيادہ پسينہ آنا

پٹھوں ميں کھنچاؤ اور  درد ہونا

سانس کا تيزي سے چلنا

سر چکرانا

بے ہوش ہو جانے کا ڈر ہونا

بدہضمي

اسہال

 

گھبراہٹ کا شکار افراد ان علامات کي وجہ سے يہ سمجھتے ہيں کہ انہيں کوئي شديد  جسماني بيماري ہو گئ ہے، گھبراہٹ سےان علامات ميں  اور زيادہ اضافہ ہو جاتا ہے?  گھبراہٹ کے غير متوقع اچانک دورے پينک (Panic) کہلاتے ہيں ? اکثر  گھبراہٹ اور  پينک کے ساتھ ڈپريشن بھي ہوتا ہے? جب ہم اداس ہوتے ہيں تو ہماري بھوک ختم ہوجاتي ہے اور مستقبل تاريک اور مايوس کن نظر آتا ہے?

فوبيا (Phobia)

ايک ايسا شخص جسے فوبيا ہو  اس ميں اوپر بيان کي گئي گھبراہٹ  کي شديد علاما ت پائي جاتي ہيں? ليکن يہ اس وقت ظاہر ہوتي ہيں جب وہ کسي ايسي خاص صورتحال ميں ہوں جس ميں انہيں شديد گھبراہٹ ہوتي ہو? ديگر اوقات ميں انہيں گھبراہٹ نہيں ہوتي? اگر آپ کو کتوں کا خوف ہو تو آپ اس وقت بالکل ٹھيک ہونگے جب کتے آپ کے آس پاس نہ ہوں? اگر آپ کو بلندي کا خوف ہو تو زمين پر آپ ٹھيک رہيں گے? اگر آپ ہجوم کا سامنا نہ کرسکتے ہوں تو اکيلے ميں آپ آرام سے رہيں گے?

فوبيا ميں مبتلا شخص ايسي ہر صورتحال سے بچنے کي کوشش کرتا ہے  جو اسے گھبراہٹ ميں مبتلا کرسکتي ہے ليکن اصل ميں اس طرح وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ يہ فوبيا شديد ہوجاتا ہے? اس کا يہ بھي مطلب ہوسکتا ہے  کہ متاثرہ شخص کي زندگي ان احتياطي تدابير کي محتاج ہوجائے  جو اسے ان صورتحال سے بچنے کے ليے اختيار کرني پڑتي  ہيں? اس بيماري سے متاثرہ افراد کو معلوم ہوتا ہے کہ ايسا کوئي حقيقي خطرہ نہيں ہے، انھيں اپنے خوف بيوقوفانہ لگتے ہيں ليکن اس کے باوجود وہ انھيں کنٹرول نہيں کرسکتے?  وہ فوبيا جو کسي پريشان کن واقعے يا حادثے کے نتيجے ميں شروع ہوا ہو اس کے ختم ہونے کے امکانات زيادہ ہوتے ہيں?

کيا يہ عام ہيں؟

ہر دس ميں سے ايک شخص کو زندگي ميں کبھي نہ کبھي تکليف دہ گھبراہٹ يا فوبيا کا سامنا ہوتا ہے? تاہم زيادہ تر افراد اس کا علاج نہيں کرواتے?

وجوہات

 ہم ميں سے کچھ لوگوں کي طبيعت اس طرح کي ہوتي ہے کہ وہ ہر بات پہ پريشان رہتے ہيں? تحقيقات سے پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کي طبيعت جينز کے ذريعے وراثت ميں بھي مل سکتي ہے? تاہم وہ لوگ بھي جو قدرتي طور پر ہر وقت پريشان نہ رہتے ہوں اگر ان پر بھي مستقل دباؤ پڑتا رہے تو وہ بھي گھبراہٹ کا شکار ہوجاتے ہيں?

کبھي کبھار  گھبراہٹ کي وجہ بہت واضح ہوتي ہے اور جب مسئلہ حل ہوجائے تو گھبراہٹ بھي ختم ہوجاتي ہے? ليکن  کچھ واقعات اور حالات اتنے  تکليف دہ اور خوفناک ہوتے ہيں کہ ان کي وجہ سے پيدا ہونے والي گھبراہٹ واقعات کے ختم ہونے کے طويل عرصے بعد تک جاري رہتي ہے?  يہ عام طور پر اس طرح کے واقعتا ہوتے ہيں جن ميں انسان کي جان کو خطرہ ہو مثلاً کار  يا ٹرين کے حادثات اور آگ وغيرہ? ان واقعات ميں شامل افراد مہيںوں يا سالوں تک گھبراہٹ اور پريشاني کا شکار رہ سکتے ہيں چاہے خودانھيں کوئي جسماني چوٹ نہ لگي ہو? يہ علامات پوسٹ ٹراميٹک اسٹريس ڈس آرڈر (Post Traumatic Stress Disorder)ميں پائي جاتي ہيں?

کبھي کبھي نشہ آور اشيا مثلاً ايمفيٹا مائنز(amphetamines)، ايل ايس ڈي يا ايکسٹيسي (ecstasy)کے استعمال کي وجہ سے بھي گھبراہٹ ہوسکتي ہے? حتي? کہ کافي ميں موجود کيفين بھي ہم ميں سے کچھ افراد کو تکليف دہ حد تک گھبراہٹ کا شکار کرنے کے ليے کافي ہے?

تاہم دوسري طرف يہ واضح نہ?يں ہے کہ کوئي مخصوص شخص کيوں گھبراہٹ ميں مبتلا ہوتا ہے ? اس ليے کہ يہ ان کي شخصيت ، ان پر  گذرنے والے واقعات اور زندگي کي تبديليوں مثلاً بچے کي پيدائش وغيرہ کي وجوہات کے باعث ہوتے ہيں?

مدد  طلب کرنا

اگر ہميں بہت زيادہ دباؤ ميں رہنا پڑے تو ہم بيشتر وقت پريشان اور خوفزدہ رہيں گے? ہم عام طور پر ان کيفيات کا مقابلہ کرليتے ہيں کيونکہ ہميں ان کي وجہ پتہ ہوتي ہے اور يہ معلوم ہوتا ہے کہ يہ صورتحال کب ختم ہوگي ?مثلاً ڈرائيونگ ٹيسٹ سے قبل ہم ميں سے بيشتر  لوگ گھبراہٹ کا شکار ہوتے ہيں ليکن ہم اس پر قابو پاليتے ہيں کيونکہ ہميں معلوم ہوتا ہے کہ ٹيسٹ ختم ہونے کے ساتھ ہي گھبراہٹ بھي ختم ہوجائے گي?

 ليکن بعض لوگ بہت زيادہ وقت کے ليے ان گھبراہٹ اور خوف کے احساسات کا شکار رہتے ہيں، انہيں نہيں پتہ ہوتا کہ انہيں کس وجہ سے گھبراہٹ ہو رہي ہے اور يہ گھبراہٹ کب اور کيسے ختم ہوگي ? اس پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے اور اس سلسلے ميں عام طور پر کسي کي مدد کي ضرورت ہوتي ہے? اکثر اوقات لوگ اس سلسلے ميں مدد نہيں حاصل کرنا چاہتے کيونکہ انھيں يہ لگتا ہے کہ لوگ انھيں پاگل سمجھيں گے? جبکہ حقيقت يہ ہے کہ گھبراہٹ اور خوف ميں مبتلا لوگ شاذ و نادر ہي کبھي شديد قسم کي دماغي بيماريوں ميں مبتلا ہوتے ہيں? جتني جلدي مدد حاصل کي جائے اتنا ہي بہتر ہوگا بجائے اس کے کہ خاموشي سے تکليف برداشت کي جائے?

گھبراہٹ اور خوف ميں مبتلا لوگ ان احساسات کے بارے ميں کسي سے حتي? کہ گھر والوں يا قريبي دوستوں سے بھي بات نہيں کرتے ? اس کے باوجود يہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ٹھيک نہيں ہيں ?اس مسئلے ميں مبتلا  فرد پيلاہٹ اور تناؤ کا شکارنظر آئے گا اور معمول کي آوازوں مثلاً دروازے کي گھنٹي يا کار کے ہارن سے بھي بہت زيادہ چونک جائے گا? وہ چڑچڑے پن کا شکار ہوتے ہيں اور اس کي وجہ سے قريبي افراد سے بحث مباحثہ ہوسکتا ہے خاص طور پر اس وقت جب ان کو يہ اندازہ نہ ہو کہ مريض کچھ مخصوص کام کيوں نہيں کرپارہا? گوکہ دوست اور گھر والے گھبراہٹ کي وجہ سے ہونے والي تکليف کو سمجھتے ہيں تاہم انھيں يہ تمام پريشانياں بلا وجہ لگتي ہيں?

بچوں ميں گھبراہٹ اور فوبيا

اکثر بچے کبھي نہ کبھي کسي وجہ سے ڈر جاتے ہيں ? نشوونما کے دوران   يہ معمول کي بات ہے? مثلاً چھوٹے بچے اپني ديکھ  بھال کرنے والےافراد سے مانوس ہوجاتے ہيں اور اگر کسي وجہ سے وہ ان سے الگ ہوجائيں تو بچے بہت پريشان ہوجاتے ہيں اور گھبرا جاتے ہيں? بہت سے بچے اندھيرے يا فرضي وجود  (جن بھوتوں)سے ڈرتے ہيں? يہ خوف عام طور پر بڑے ہونے کے بعد ختم ہوجاتے ہيں اور بچوں کي زندگي يا ان کي نشوونما کو متاثر نہيں کرتے ہيں? زيادہ تر بچے اسکول کے پہلے دن جيسے اہم واقعات کے بارے ميں خوفزدہ ہوتے ہيں ليکن بعد ميں يہ خوف ختم ہوجاتا ہے اور وہ اس نئي صورتحال کے عادي ہو کر اس سے لطف اندوز ہونے لگتے ہيں?

نوجونوں  کا مزاج اکثر بدلتا رہتا ہے ? ان کي پريشانيوں کي وجوہات مختلف ہوسکتي ہيں مثلاً وہ کيسے لگ رہے ہيں، دوسرے لوگ ان کے بارے ميں کيا سوچتے ہيں، عموماً  لوگوں سے ان کے تعلقات کيسے ہوتے  ہيں اور خصوصاً صنف مخالف کے ساتھ تعلقات کيسے  ہيں ? ان پريشانيوں کے بارے ميں بات چيت کرکے ان پر قابو پايا جاسکتا ہے?  تاہم اگر يہ پريشانياں بہت بڑھ جائيں تو  اور لوگ اس بات کا اندازہ کرسکتے ہيں کہ وہ اسکول ميں اچھي کارکردگي کا مظاہرہ نہيں کررہے، ان کا رويہ بدل گيا ہے يا وہ جسماني طور پر ٹھيک نہيں ہيں?

اگر کوئي بچہ يا نوجوان يہ محسوس کرے کہ پريشاني، گھبراہٹ يا خوف اس کي زندگي تباہ کررہے ہيں تو اسے فيملي ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہيے?

اينگزائٹي اور فوبيا کا شکار لوگوں کي مدد

مسئلے کے بارے ميں گفتگو کرنا

يہ اس صورت ميں مددگار ثابت ہوسکتا ہے جب مسئلہ فوري نوعيت کا ہو مثلاً شريک حيات سے عليحدگي، بچے کي بيماري يا نوکري کا چھوٹ جانا? کس سے بات کي جائے؟  ايسے دوست يا رشتے داروں سے بات کريں جن پر آپ اعتماد کرتے ہوں، جن کي رائے کو اہميت ديتے ہوں اور جو آپ کي بات اچھي طرح سنتے ہوں? شايد وہ بھي ايسے مسائل سے گذر چکے ہوں يا ايسے کسي شخص کو جانتے ہوں جو ان ہي حالات کا شکار رہا ہو? بات کرنے کے موقع کے ساتھ ساتھ ہميں يہ بھي پتہ چل سکتا ہے کہ دوسرے لوگوں نے ايسے مسائل کا سامنا کس طرح کياتھا?

پرسکون رہنا سيکھيں

پرسکون رہنے کا کوئي مخصوص طريقہ سيکھنا گھبراہٹ  اور پريشاني پر قابو پانے ميں مفيد ہوسکتا ہے? يہ گروپ کي صورت ميں بھي سيکھا جا سکتا ہے، ماہرين کي مدد سے بھي، اور اس کے علاوہ کتابوں اور وڈيو ٹيپس کے ذريعے ہم خود بھي يہ طريقے سيکھ سکتے ہيں? اس عمل سے اس وقت صحيح فائدہ ہوتا ہے جب اسے باقاعدگي سے کيا جائے بجائے اس کے کہ صرف اس وقت کيا جائے جب انسان کسي مسئلے کا شکار ہو?

سائيکو تھيراپي

يہ  بات چيت کا ايک زيادہ جامع طريقہ ہےجس سے ہميں گھبراہٹ کي ان وجوہات کو جاننے ميں مدد مل سکتي ہے جنھيں ہم اب تک پہچان نہيں پائے? اس طريقے پر  عمل انفرادي يا گروپ کي صورت ميں کيا جاسکتا ہے اور عام طور پر يہ ہفتہ وار بنيادوں پر کئي ہفتوں يا مہيںوں تک کيا جاتا ہے? سائيکو تھيراپسٹ ڈاکٹر بھي ہو سکتے ہيں اور نہيں بھي?

ادويات

گھبراہٹ اور فوبيا ميں مبتلا کچھ افراد کے علاج ميں ادويات کا استعمال بھي کياجاسکتا ہے?

عام سکون بخش ادويات ميں ويليم کي طرح کي ادويات) زيادہ تر خواب آور ادويات، ادويات کي اس قسم سے تعلق رکھتي ہيں) شامل ہيں? گھبراہٹ کو ختم کرنے ميں يہ ادويات بہت موثر ثابت ہوتي ہيں تاہم اس بات کا خيال رہے کہ صرف چار ہفتوں کے باقاعدہ استعمال سے انسان ان کا عادي بن سکتا ہے اور جب لوگ انھيں چھوڑنے کي کوشش کرتے ہيں تو انھيں ناخوشگوار علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جوکافي عرصے تک جاري رہ سکتي ہيں? گھبراہٹ کے لمبے عرصے کے علاج کے ليے ان ادويات کا استعمال مناسب نہيں

اينٹي ڈپريسنٹ  ادويات

اينٹي ڈپريسنٹ ادويات کو گھبراہٹ اور اس کے ساتھ ساتھ ڈپريشن (جس کے ليے يہ عام طور پر تجويز کي جاتي ہيں)کے ليے بھي استعمال کيا جاسکتا ہے?   ان ميں سے کچھ ادويات کسي مخصوص قسم کي گھبراہٹ پر مخصوص اثرات مرتب کرتي ہيں? ان کا ايک منفي پہلو يہ ہے کہ يہ دو سے چار ہفتوں ميں اثر کرتي ہيں اور ان کے نتيجے ميں متلي، غنودگي، سر چکرانا، مںہ کا خشک ہونا اور قبض جيسي شکايات ہوسکتي ہيں? 

بيٹا بلاکرز

بيٹا بلاکرز عام طور پر ہائي بلڈ پريشر کے علاج ميں استعمال ہوتے ہيں?  کم مقدار ميں يہ گھبراہٹ  سے ہونے والے جسماني کپکپاہٹ  کو کنٹرول کرتے ہيں اور لوگوں سے ملاقات يا پبلک ميں تقرير کرنے سے  تھوڑي دير پہلے انھيں ليا جاسکتا ہے?

یہ کتابچہ رائل کالج آف سائکائٹرسٹس، یو کے

اور ڈپارٹمنٹ آف سائکائٹرٰ ی، آغا خان یونیورسٹی کراچی

کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔

مدیر: ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک

نظرَثانی: ڈاکٹر مراد موسیٰ خان ایم آر سی سائیک