• صارفین کی تعداد :
  • 8513
  • 7/6/2008
  • تاريخ :

اپنے دکھ مجھے دے دو

راجندر سنگھ بیدی کی  کچه کتابیں

شادي کي رات بالکل وہ نہ ہوا جو مدن نے سوچا تھا، جب چکلي بھابھي نے پھسلا کر مدن کو بيچ والے کمرے ميں دھکيل ديا تو اندر سامنے شالوں ميں لپٹي اندھيرے کا بھاگ بني جارہي تھي، باہر چکلي بھابھي اور دريا باد والي پھوپھي اور دوسري عورتوں کي ہنسي، رات کے خاموش پانيوں ميں مصري دھيرے دھيرے گھل رھي تھي، عورتيں سب يہي سمجھتي تھيں کہ اتنا بڑا ہوجانے پر بھي مدن کچھ نہيں جانتا، کيونکہ جب اس بيچ رات سے جگايا گيا، تو بڑ بڑا رہا تھا، کہاں کہاں لے جارہي ہو مجھے؟

ان عورتوں کے اپنے اپنے دن بيت چکے تھے، پہلي رات کے بارے ميں ان کے شرير شوہروں نے جو کچھ کہا اور مانا تھا، اس کي گونج تک ان کے کانوں ميں باقي نہ رہي تھي، وہ خود رس بھر چکي تھيں اور اب اپني ايک اور بہن کو بسانے پر تلي ھوئي تھيں، زمين کي يہ بيٹياں مرد کو تو يوں سمجھتي تھيں، جيسے بادل کا ٹکڑا ہے، جس کي طرف بارش کے لئے منہ اٹھا کر ديکھنا ہي پڑتا ہے، نہ برسے تو منتيں مانني پڑتيں ہيں، چڑھاوے چڑھانے پڑتے ہيں، جادو ٹونے کرنے ہوتے ہيں حالانکہ مدن کا لکاجي کي اس نئي آبادي ميں گھر کےسامنے کي جگہ ميں پڑا اسي وقت کا منتظر تھا، پھر شامت اعمال پڑوسي سبطے کي بھينس اس کي کھاٹ ہي کے پاس بندھي تھي، جو بار بار پھنکارتي ہوئي مدن کو سونگھ ليتي تھي، اور وہ ہاتھ اٹھا اٹھا کر اسے دور رکھنے کي کوشش کرتا، ايسے ميں بھلا نيند کا سوال ہي کہاں تھا؟

سمندر کي لہروں اور عورت کو راستہ بتانے والا چاند ايک کھڑکي کے راستے سے اندر چلا آيا تھا، اور ديکھ رہا تھا، دروازے کے اس طرف کھڑا مدن اگلا قدم کہاں رکھتا ہے، مدن کے اپنے اندر ايک گھن گرج سي ہورھي تھي اور اسے اپنا آپ يوں معلوم ہورہا تھا جيسے بجلي کا کھمبا ہے، جيسے کان لگانے سے اس کے اندر سنسناہٹ سانئي دي جائےگي، کچھ دير يوں ہي کھڑے رہنے کے بعد اس نے آگے بڑھ کر پلنگ کو کھينچ کر چاندني ميں کرديا تاکہ دلہن کا چہرہ تو نظر آئے، پھر وہ ٹھٹک گيا، جب اس نے سوچا۔۔۔۔۔اندو ميري بيوي ہے۔

کوئي پراني عورت تو نہيں جسے نہ چھونے کا سبق بچپن ہي سے پڑھتا آيا ہوں، شالوں ميں لپٹی ھوئي دلہن کو ديکھتے ھوئے اس نے فرض کر ليا، وہاں اندو کا منہ ہوگا، اور جب ہاتھ بڑھا کر اس نے پاس پڑي گٹھڑي کو چھوا تو وہيں اندو کا منہ تھا۔۔۔۔مدن نے سوچا تھا، وہ آساني سے مجھے اپنا آپ نہ ديکھنے دے گي، ليکن اندو نے ايسا نہ کيا، جيسے پچھلے کئي سالوں سے وہ بھي اسي لمحے کي منتظر تھي، اور کسي خيالي بھينس کے سونگھتے رہنے سے اسے بھي نيند نہ آرہي ہو۔

غائب نيند اور بند آنکھوں کا کرب اندھيرے کے باجود سامنے پھڑ پھڑاتا ہوا نظر آرہا تھا، ٹھوڑي تک پہنچتے ھوئے عام طور پر چہرہ لمبوترا ہو جاتا ہے، ليکن يہاں تو سب ہي گول تھا، شايد اس لئے چاندني کي طرف گال اور ہونٹوں کے بيچ ايک سائے دار کھوہ سي بني ہوئي تھي، جيسي دو سبز اور شاداب ٹيلوں کے بيچ ہوتي ہے، ماتھا کچھ تنگ تھا ليکن اس پر ايکا ايکي اٹھنے والے گھنگريالے بال۔ جبھي اندو نے اپنا چہرہ چھڑا ليا جيسے وہ ديکھنے کي اجازت تو ديتي ہو، ليکن اتني دير کے لئے نہيں، آخر شرم کي بھي تو کوئي حد ہوتي ہے، مدن نے ذرا سخت ہاتھوں سے يوں ہي سي ہوں ہاں کرتے ہوئے دلہن کا چہرہ پھر سے اوپر کو اٹھا ديا، شرابي سي آواز ميں کہا اندو۔

اندو کچھ ڈر سي گئي، زندگي ميں پہلي بار کسي اجنبي نے اس کانام اس انداز ميں پکارا تھا، اور وہ اجنبي کسي خدائي حق سے رات کے اندھيرے ميں آہستہ آہستہ اس اکيلي بے يار و مدد گار عورت کا اپنا ہوتا جارہا تھا، اندو نے پہلي بار ايک نظر اوپر ديکھتے ہوئے پھر آنکھيں بند کرليں، اور صرف اتنا سا کہا، جي اسے خود اپني آواز کسي پاتال سے آتي ھوئي سنائي دي۔

دير تک کچھ ايسا ہي ہوتا رہا، اور اس پھر ہولے ہولے بات چل نکلي اب جو چلي سو چلي، وہ تھمنے ہي ميں نہ آتي تھي، اندو کے پتا، اندو کي ماں، اندو کے بھائي، مدن کے بھائي بہن، باپ، ان کي ريلوے سيل سروس کي نوکري، ان کے مزاج، کپڑوں کي پسند، کھانے کي عادت، سبھي کا جائزہ ليا جانے لگا، بيچ بيچ ميں مدن بات چيت کو توڑ کر کچھ اور ہي کرنا چاہتا تھا۔

ليکن انتہائي مجبوري اور لاچاري ميں مدن نےاپني ماں کا ذکر چھيڑ ديا، جو اسے سات سال کي عمر ميں چھوڑ کر دق کے عارضے سے چلتي بني تھي، جتني دير زندہ رہي بيچاري مدن نے کہا، بابو جي کے ہاتھ ميں داوئي کي شيشياں رہيں، ہم اسپتال کي سيڑھيوں پر اور چھوٹا پاشي گھر ميں چيونٹوں کے بل پر سوتے رہے۔

آخر ايک دن ٢٨ مارچ کي شام اور مدن چپ ہوگيا، چند ہي لمحوں ميں وہ رونے سے ذرا ادھر اور گھگھي سے ذرا ادھر پہنچ گيا، اندو نے گھبرا کہ مدن کا سر اپني چھاتي سے لگا ليا، اس رونے نے پل بھر ميں اندو کو اپنے پن سے ادھر ادھر کرديا۔۔۔مدن اندو کے بارے ميں کچھ بھي نہيں جانتا تھا، ليکن اندو نے اس کے ہاتھ پکڑ لئے اور کہا، ميں تو پڑھي لکھي نہيں ہوں جي۔۔۔۔۔پر ميں نے ماں باپ ديکھے ہيں، بھائي اور بھابياں ديکھي ہيں، اس لئے ميں کچھ سمجھتي بوجھتي ہوں۔

ميں اب تمہاري ہوں۔۔۔۔۔اپنے بدلے ميں تم سے ايک ہي چيز مانگتي ہوں، روتے وقت اور اس کے بعد بھي ايک نشہ سا تھا، مدن نے کچھ بے صبري اور دريا دلي کے ملے جلے شبدوں ميں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کيا مانگتي ہو؟ تم جو بھي کہو گي ميں دوں گا۔

پکي بات؟ اندو بولي

مدن نے کچھ اتاولے ہو کر کہا۔ہاں ہاں ۔۔۔کہاں جو پکي بات۔

ليکن اس بيچ ميں مدن کے من ميں ايک وسوسہ آيا۔۔۔۔۔ميرا کاروبار پہلے ہي مندا ہے، اگر اندو کوئي ايسي چيز مانگ لے جو ميري پہنچ ہي سے باہر ہو، تو پھر کيا ہوگا، ليکن اندو نے مدن کے سخت اور پھليے ہوئے ہاتھوں کو اپنے ملائم ہاتھوں ميں سميٹتے ہوئے اور ان پر اپنے گال رکھتے ہوئے کہا،تم اپنے دکھ مجھے دے دوں۔

مدن سخت حيران تھا، ساتھ ہي اسے اپنے آپ پر ايک بوجھ بھي اترتا ہوا محسوس ہوا، اس نے پھر چاندني ميں ايک بار پھر اندو کا چہرہ ديکھنے کي کوشش کي، ليکن وہ کچھ نہ جان پايا، اس نے سوچا يہ ماں يا کسي سہيلي کا رٹا ہوا فقرہ ہوگا جو اندو نے کہہ ديا، جبھي يہ جلتا ہوا آنسو مدن کے ہاتھ کي پشت پر گرا، اس نے اندو کو اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے کہا، ديے، ليکن ان سب باتوں نے مدن سے اس کي بہيمہت چھين لي تھي،مہمان ايک ايک کرکے سب رخصت ہوئے۔

چکلي بھابي دو بچوں کو انگليوں سے لگائے سيڑھيوں کي اونچ نيچ سے تيسرا پيٹ سنبھالتي ہوئي چل دي، درما باد والي پھوپھي جو اپنے نو لکھے ہار کے گم ہو جانے پر شور مچاتي وويلا کرتي ہوئي بے ہوش ہوگئي تھي، اور جو غسل خانے ميں پڑا ہوا ملا گيا تھا، جہيز ميں سے اپنے حصے کے تين کپڑے لے کر چلي گئي، پھر چاچا گئے، جن کو ان کے جے پي ھوجانے کي خبر تار کے ذريعے تھي، اور جو شايد بد حواسي ميں مدن کے بجائے دلہن کا منہ چومنے چلے تھے،گھر ميں بوڑھا باپ رہ گيا تھا اور چھوٹے بہن بھائي، چھوٹي دلاري تو ہر وقت بھابي کي ہي بغل ميں گھسي رہتي تھي۔

گلي محلے کي کوئي عورت دلہن کو ديکھے يا نہ ديکھے، ديکھے تو کتني دير تک ديکھے، يہ سب اس کے اخيتار ميں تھا، آخر يہ سب ختم ہوا اور اندو آہستہ آہستہ پراني ہونے لگي، ليکن کا لکاجي کي اس نئي آبادي کے لوگ اب بھي آتے جاتے، مدن تو اس کے سامنے رک جاتے، اور کسي بھي بہانے سے اندر چلے جاتے، اندو ديکھتے ہي ايک دم گھونٹ کہيچ ليتي، ليکن اس چھوٹے سے وقفے ميں جو کچھ دکھائي دے جاتا وہ بنا گھونٹ کے دکھائي ہي نہ دے سکتا تھا۔مدن کا کاروبار گندے بروز کا تھا، کہيں بڑي سپلائي والے دو تين جنگلوں ميں چيڑ اور ديوار کے پيڑوں کي جنگل کي آگ نے آليا تھا، اور دھڑ چھڑ جلتے ہوئے خاک سياہ ہو کر رہ گئے، ميسور اور آسام کي طرف سے منگوايا ہوابيروزہ مہنگا پڑتا تھا اس پر لوگ اسے مہنگے داموں پر خريدنے کو تيار نہ تھے، ايک تو آمدني کم ہوگئي تھي، اس پر مدن جلدي ہي دکان اور اس کے ساتھ والا دفتر بند کرکے گھر چلا آتا، گھر پہنچ کر اس کي ساري کوشش يہي ہوتي سب کھائيں پيئں اور اپنے اپنے بستر ميں دبک جائيں۔

جب ہي کھاتے وقت خود تھالياں اٹھا اٹھا کر باپ اور بہن کے سامنے رکھتا، اور ان کے کھا چکنے کے بعد چھوٹے برتنوں کو سميٹ کر نل کے نيچے رکھ ديتا، سب سمجھتے بہو، بھابي نے مدن کے کان ميں کچھ پھونکا ہے اور اب وہ گھر کے کام کاج ميں دلچسپي لينے لگا ہے، مدن سب سے بڑا تھا، کندن اس سے چھوٹا اور پاشي سب سے چھوٹا، جب کندن بھابھي کے سواگت ميں سب کے ايک ساتھ بيٹھ کر کھانے پر اصرار کرتا تو باپ دھني رام وہيں ڈانٹ ديتا۔

کھاؤ تم ۔وہ کہتا۔وہ بھي کہا ليں گے، اور پھر رسوئي ميں ادھر ادھر ديکھنے لگتا، اور جب کھانے پينے سے فارغ ہوجاتي اور برتنوں کي طرف متوجہ ہوتي تو بابو دھني رام اسے روکتے ہوئے کہتے، رہنے دے بہو برتن صبح ہو جائيں گے۔

اندو کہتي نہيں بابو جي ۔۔۔۔ميں ابھي کئے ديتي ہوں، جھپاکے سے۔

تب بابو دھني رام ايک لرزتي ھوئي آواز ميں کہتے ہيں، مدن کي ماں تو يہ سب تمہيں نہ کرنے ديتي؟ اور وہ ايک دم اپنے ہاتھ روک ليتي ہے۔

چھوٹا پاشي بھابھي سے شرماتا تھا، اس خيال سے کہ دلہن کے کي گود جھٹ سے ہري ہو، چمکي بھابھي اور دريا باد والي پھوپھي ايک رسم ميں پاشي کو اندو کي گود ميں ڈالا تھا، جب سے اندو اسے نہ صرف ديور بلکہ اپنا بچہ سمجھنے لگي تھي، جب بھي وہ پيار سے پاشي کو اپنے بازؤں ميں ليني کي کوشش کرتي۔

تو وہ گھبرا کر اٹھتا اور اپنا آپ چھڑا کر دوہاتھ کي دوري پر کھڑا ہوجاتا، ديکھتا اور ہنستا رہتا، پاس آتا تو دوڑ بنتا، ايک عجيب اتفاق سے، ايسے ميں بابو جي ہميشہ وہيں موجود ہوتے ہيں، اور پاشي کو ہميشہ ڈانٹتے ہوئے کہتے، ارے جانا۔۔۔۔بھابھي پيار کرتي ہے، ابھي سے مرد ہو گيا تو؟ اور دلاري تو پھيچا ہي نہ چھوڑتي۔

اس کے ، ميں تو بھابھي کے ساتھ ہي سوؤں گي، کے اصرار نے بابوجي کے اندر کوئي جنا رودہن جگا ديا تھا، ايک رات اسي بات پر دلاري کو زور سے چيت پڑي اور وہ گھر کي آدھي کچي، آدھي پکي نالي ميں جاگري، اندو نے لپکتے ہوئے پکڑا تو سر پر سے دوپٹہ اڑ گيا، بالوں کے پھول اور چڑياں، مانگ کا سيندور، کانوں کے کرن پھول سب ننگے ہوگئے، بابوجي، اندو نے سانس کھينچتے ہوئے کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ايک ساتھ دلاري کو پکڑنے اور سر پر دوپٹہ اوڑھنے ميں اندو کے پسينے چھوٹ گئے، اس بے ماں کي بچي کو چھاتي سے لگائے ہوئے اندو نے اسے ايک ايسے بستر پر لٹا ديا جہاں سرہانے ہي سرہانے تکئيے ہي تکئيے تھے۔

نہ کہيں پائينتي تھي نہ کاٹھ کے بازو، چوت تو ايک طرف کہيں کوئي چبہنے والي چيز بھي نہ ہو تھي، پھر اندو کي انگلياں دلاري کے پھوڑے ايسے سر پر چلتي ہوئي آتي اسے دکھا بھي رہي تھيں اور مزا بھي دے رہي تھيں، دلاري کے گالوں پر بڑے بڑےاور پيارے پيارے گڑھے پڑتے تھے، اندو نے ان گڑھوں کا جائزہ ليتے ہوئے کہا، ہائے ري مني تيري ساس مرے ، کيسے گڑھے پڑ رہے ہيں گالوں پر۔۔۔۔۔۔؟

مني نے مني کي طرح کہا، گڑھے تمہارے بھي تو پڑتے ہيں بھابھي۔

ہاں مني۔اندو نے کہا اور ايک ٹھنڈي سانس لي۔

مدن کوکسي بات پر غصہ تھا، وہ پاس ہي کھڑا سب کچھ سن رھا تھا، بولا ميں تو کہتا ھوں ايک طرح سے اچھا ہي ہے۔

کيوں اچھا کيوں ہے؟ اندو نے پوچھا۔

ہاں۔۔۔۔نہ آگے بانس نہ بجےبانسري۔۔۔سانس نہ ہو تو کوئي جھگڑا ہي نہيں رہتا۔

اندو نے ايکا ايکي خفا ہوتے ہوئے کہا، تم جاؤ جي سو رہو جاکر۔۔۔بڑے آئے ہو۔۔۔آدمي جيتا ہے تو لڑتا ہے نا؟ مر گھٹ کي چاپ سے جھگڑے بھلے جاؤ نہ رسوائي ميں تہمارا کيا کام؟مدن کھسيانا ہو کر رہ گيا، بابو جي دھني رام کي ڈانٹ سے باقي بچے تو پہلے ہي اپنے بستروں ميں يوں جا پڑے تھے، جيسے دفتروں ميں چھٹياں سارٹ ہوتي ہيں، ليکن مدن وہيں کھڑا رہا، احتياج نے اسے ڈھيٹ اور بے شرم بنا ديا تھا، ليکن اس وقت جب اندو نے بھي اسے ڈانٹ ديا تو وہ روہنسا ہو کر اندر چلا گيا۔

دير تک مدن بستر ميں پڑاکسمساتا رہا، ليکن بابو جي کے خیال سے اندو کو آواز دينے کي ہمت نہ پڑتي تھي، اس کي بے صبري کي حد ہوگئي تھي، جب مني کو سلانے کے لئے اندو کي لوري کي آواز سنائي دي۔۔۔۔تو ننديا راني، بو رائي مستاني۔

راجندر سنگھ بیدی کی  کچه کتابیں

وہي لوري جو دلاري مني کو سلارہي تھي، مدن کي نيند بھگا رہي تھي، اپنے آپ سے بيزار ہو کر اس نے زور سے چادر سے پر کہينچ لي، سفيد چادر کے سر پر پليٹنے اور سانس کے بند کرنے سے خواہ مخواہ ايک مردے کا تصور پيدا ہوگيا، مدن کو يوں لگا کہہ جيسے وہ مرچکا ہے، اور اس کي دلہن اندو اس کے پاس بيٹھي زور زور سے سرپيٹ رہي تھي، ديوار کے ساتھ کلائياں مار مار کر چوڑي توڑ رہي تھي، اور پھر گرتي پڑتي چلاتي رسوئي ميں جاتي ہے اور چولھے کي راکھ سر پر ڈال ليتي ہے اور پھر باہر لپک جاتي ہے اور باہيں اڑھا اٹھا کر گلي محلے کي لوگوں سے فرياد کرتي ہے، لوگوں ميں لٹ گئي، اب سے دوپٹے کي پرواہ نہيں، قميض کي پرواہ نہيں، مانگ کا سيندور، بالوں کے پھول اور چوڑياں، جذبات اور خيالات کے طوطے تک اڑ چکے ہيں۔

مدن کي آنکھوں سے بے تحاشہ آنسو بہہ رہے تھے، حالانکہ رسوئي ميں رندو ہنس رھي تھي، پل بھر ميں اپنے سہاگ کے اجڑنے اور پھر بس جانے سے بے خبر، مدن جب حقائق کي دنيا ميں آيا تو آنسو پونچھنے اس رونے پر ہنسنے لگا۔۔۔۔ادھر اندو تو ہنس رہي تھي ليکن اس کي ہنسي دبي دبي تھي، بابو جي کي خیال ميں سے وہ کبھي اونچي آواز ميں نہ ہنستي تھي، جيسے کھلکھلاہٹ کوئي ننگا پينج ہے، خاموشي، دوپٹہ، اور دبي دبي ہنسي ايک گھونگھٹ، پھر مدن نے اندو کا ايک خيالي بت بنايا اور اس سے بيسيوں باتيں کر ڈاليں۔

يوں اس سے پيار کيا جيسے ابھي تک نہ کيا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ پھر اپني دنيا ميں لوٹا جس ميں ساتھ کا بستر خالي تھا، اس نے ہولے سے آواز دي۔۔۔۔۔اندو۔۔۔۔۔پھر چپ ہو گيا، اس ادھيڑ پن ميں وہ بورائي مستاني ننديا بھي اس سے لپٹ گئي۔۔۔۔۔ايک اونگھ سي آئي ليکن ساتھ ہي يوں لگا جيسے شادي کي رات والي، پڑوسي سبطہ کي بھينس منہ کے پاس پھنکارنے لگي ہے، وہ ايک بے کلي کے عالم ميں اٹھا پھر رسوئي کي طرف ديکھتے، سر کو کھجاتے دو تين جمائياں لے کر ليٹ گيا۔۔۔۔۔۔سوگيا۔۔۔۔۔

مدن جيسے کانوں کو کوئي سنديسہ دے کر سويا تھا، جب اندو کي چوڑياں بستر کي سلوٹيں سيدھي کرنے کے لئے کھٹًک اٹھيں تو وہ بھي ہڑ بڑا کر اٹھ بيٹھا، يوں ايک دم جاگنے ميں محبت کا جذبہ اور بھي تيز ہوگيا تھا، پيار کي کروٹوں کوتوڑے بغير آدمي سوجائے اور ايکا ايکي اٹھے تو محبت توڑ ديتي ہے، مدن کا سارا بدن اندر کي آگ سے پھنک رہا تھا، اور يہي اس کے غصے کا کارن بن گيا، جب اس نے بوکھلائے ہوئے انداز ميں کہا۔

سو تم۔۔۔۔آگئيں؟

ہاں۔

سني۔۔۔۔۔سو مرگئي؟

اندو جھکي جھکي ايک دم سيدھي کھڑي ہوگئي، ہائے رام اس نے ناک پر انگلي رکھتے ہوئے ہاتھ ملتے ہوئے کہا، کيا کہہ رہے ہو۔۔۔۔۔۔مرے کيوں بيچاري، ماں باپ کي ايک نہ ہي بيٹي۔

ہاں ۔۔۔مدن نے کہا۔ بھابھي کي ايک ہي نند اور پھر ايک دم تحمکانہ لہجہ اختيار کرتے ہوئے بولا زيادہ منہ مت لگاؤ اس چڑيل کو۔

کيوں اس ميں کيا پاپ ہے؟

يہي پاپ ہے۔مدن نے اور چڑتے ہوئے کہا، وہ پھيچا ہي نہيں چھوڑتي تمہارا، جب ديکھو جونک کي طرح چمٹي ہوئي ہے، دفان ہي نہيں ہوتي۔

ہا۔۔۔۔۔اندو نے مدن کي چارپائي پر بيٹھتے ہوئے کہا، بہنوں اور بيٹيوں کو يوں تو دھتکارنا نہيں چاھئيے، بيچاري دو دن کي مہمان، آج نہيں تو کل، کل نہيں تو پرسوں ايک دن تو چل ہي دے گي، اس کے بعد اندو کچھ کہنا چاہتي تھي، مگر وہ چپ رہي اس کي آنکھوں کے سامنے باپ بھائي بہن چچا بھي گھوم رہے تھے، کبھي وہ بھي ان کي دلاري تھي، جو پلک جھپکتے ہي نياري ہوگئي تھي، اور پھر دن رات اس کے نکالے جانے کي باتيں ہونے لگيں، جيسے گھر ميں کوئي بڑي سي باہني ہے جس ميں کوئي ناگن رہتي ہے اور جب تک وہ پکڑ کر پھنکوئي نہيں جاتي، گھر کے لوگ آرام کي نيند نہيں سو سکتے۔

دور دور سے کيلنے والے نتلھن کرنے والے، دانت پھوڑنے والے مانداري بلوائے گئے، اور بڑے دہنورے اور موتي ساگر، آخر ايک دن اتر پھچھم کي طرف سے لال آندھي آئي جو صاف ہوئي تو ايک لاري کھڑی تھي، جس ميں گوٹے کناري ميں لپٹی ہوئي ايک دلہن بيٹھي تھي، پيچہے گھر ميں ايک سر پر جبتي ہوئي شہنائي بين کي آواز معلوم ہو رھي تھي، پھر ايک دھچکے کے ساتھ لاري چل دي۔

مدن نے کچھ برا فرد ختگي کے عالم ميں کہا۔۔۔۔۔ تم عورتيں بڑي چالاک ہوتي ہو، ابھي کل ہي گھر ميں آئي ہو اور يہاں کے سب لوگ تمہيں ہم سے زيادہ چاہنے لگتے ہيں؟

ہاں،اندو اثبات ميں کہا۔

يہ سب جھوٹ ہے۔۔۔۔۔۔۔يہ ہو ہي نہيں سکتا۔

تمہارا مطلب ہے ميں۔۔۔۔

دکھاوا ہے يہ سب۔۔۔۔ہاں

اچھا جي؟ اندو نے آنکھوں ميں آنسو لاتے ہوئے کہا، يہ سب دکھاوا ہے ميرا؟ اور اندو اٹھ کر اپنے بستر پر چلي گئي، اور سرہانے ميں منہ چھپا کر سسکياں بھرنے لگي، مدن اسے مناننے ہي والا تھا کہ اندو خود ہي اٹھ کر مدن کے پاس آگئي اور سختي سے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولي، تم جو ہر وقت جلي کٹي باتيں کہتے رہے ہو۔۔۔۔ہوا کيا ہے تمہيں؟ مجھے تم سے کچھ نہيں لينا۔

تمہيں کچھ نہيں لينا مجھے تو لينا ہے، اندو بولي زندگي بھر لينا ہے اور وہ چھينا چھپٹي کرنے لگي، مدن اسے دھتکارتا تھا، اور وہ سے لپٹ لپٹ جاتي تھي، وہ اس مچھلي کي طرح تھي جو بہاؤ ميں بہہ جانے کے بجائے آبشار کے تيز دھارے کو کاٹتي ہوئي اوپر ہي پہنچنا چاہتي ہو۔

چٹکياں ليتے، ہاتھ پکڑتي، روتي ہنستي وہ کہہ رہي تھي۔۔۔۔۔۔۔

پھر مجھے پھاپھا کٹني کہو گے؟

وہ تو سبھي عورتيں ہوتي ہيں۔

ٹھرو۔۔۔تمہاري تو۔۔۔۔يو معلوم ہوا جيسے اندر کوئي گالي دينے والي ہو۔۔۔ اور اس نے منہ ميں کچھ منمنايا بھي، مدن نے مڑتے ہوئے کہا، کيا کيا؟ اور اندو نے اب کي سنائي دينے والي آواز ميں دہرايا، مدن کھلکھلا کر ھنس پڑا، اگلے ہي لمحے اندو مدن کے بازؤں ميں تھي، اور کہہ رہي تھي، تم مرد لگ کيا جانو؟۔۔۔۔جس سے پيار ہوتا ہے، اس کے سبھي عزيز پيارے معلوم ہوتے ہيں، کيا باپ کيا بھائي اور کيا بہن اور ايکا ايکي کہيں دور سے ديکھتے ہوئے بولي، ميں تو دلاري مني کا بياہ کروں گي۔

حد ہوگئي، مدن نے کہا۔ابھي ايک ہاتھ کي ہوئي نہيں اور بياہ کي سوچنے لگيں۔

تمہيں ايک ہاتھ کي لگتي ہے نا؟ اندو بولي اور پھر اپنے دونوں ہاتھ مدن کي آنکھوں پر رکھتے ہوئے کہنے لگي، ذرا آنکھيں بند کر لو اور پھر کھولو، مدن نے سچ مچ ہي آنکھيں بند کرليں اور جب کچھ دير تک نہ کھوليں تو اندو بولي اب کھولو بھي۔۔۔۔اتني دير ميں تو ميں بوڑھي ہو جاؤں گي، جبھي مدن نے آنکھيں کھول ديں، لمحہ بھر کيلئے اسے يوں لگا جيسے سامنےاندو نہيں مني بيٹھي ہے اور وہ کھو سا گيا۔

ميں نے تو ابھي سے چار سوٹ اور کچھ برتن الگ کر ڈالے ہيں اس کے لئے اور جب مدن نے کوئي جواب نہ ديا تو اسے جھنجوڑنے لگي، تم کيوں پريشان ہوتے ہو۔۔۔۔۔۔ياد نہيں اپنا وچن؟۔۔۔۔۔۔۔۔تم اپنے دکھ مجھے دے چکے ہو۔

ايں؟ مدن نے چونکتے ہوئے کہا، اور جيسے بے فکر ہوگيا، ليکن اب کے جب اس نے اندو کو اپنے ساتھ لپٹايا تو وہاں ايک جسم ہي نہيں رہ گيا، ساتھ ايک روح بھي شامل ہوگئي تھي۔۔۔۔

مدن کے لئےاندو روح ہي روح تھي، اندو کے جسم بھي تھا، ليکن وہ ہميشہ کسي نہ کسي وجہ سے مدن کي نظروں سے اوجھل ہي رہا، ايک پردہ تھا، خواب کے تاروں سے ھميشہ بنا ہوا، انہوں کے دھوئيں سے رنگين، قہقہوں کي زرتاري سے چکاچوند جو ہر وقت اندو کو ڈھانپے رہتا تھا، مدن کي نگاہوں اور اس کے ہاتھوں کے دوشاسن صديوں سے اس دروپدي کا چير ہرن کرتے آئے تھے جو کہ عرف عام ميں بيوي کہلاتي ہے، ليکن ھميشہ اسے آسمانوں سے تھانوں کے تھان، گزوں کے گز، کپڑا ننگا پن ڈھاپنے کے لئے ملتا آيا تھا، دو شاسن تھک ہار کہ يہاں وہاں گرے پڑے تھے، ليکن دروپدي وہيں کھڑے تھيں۔عزت اور پاکيزگي کي ايک سفيد اور بے داغ ساري ميں ملبوس وہ ديوي لگ رہي تھي، اور۔۔۔۔۔۔

مدن کے لوٹتے ہوئے ہاتھ خجالت کے پسينے سے تر ہوئے، جسے سکھانے کے لئے وہ انہيں اوپر ہوا ميں اٹھا ديتا اور پھر ہاتھ کے پنجوں کو پورے طور پر پھيلاتا ہوا، ايک تشنجي کيفيت ميں اپني آنکھوں کي پھيلي پھٹتي ہوئي پتيلوں کے سامنے رکھ ديتا اور پھر انگليوں کے بيچ ميں سے جھانکتا۔۔۔۔اندو کا مر مريں جسم خوش رنگاور گداز سامنے پڑا ہوتا، استعمال کے لئے پاس، ابتدال کے لئے دور ۔۔۔۔۔ کبھي جب اندو کي ناکہ بندي ہوجاتي تو اس قسم کے فقرے ہوتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہائے جي گھر ميں چھوٹے بڑے ہيں، وہ کيا کہيں گے؟

مدن کہتا ہے، چھوٹے سمجھتے نہيں ۔۔۔۔ بڑے انجان بن جاتے ہيں۔

اسي دوران ميں بابو دھني رام کي تبديلي سہانپور ميں ہوگئي، وہاں ريلوے ميل سروس ميں سليکشن گريڈ کے ہيڈ کلرک ہوگئے، اتنا بڑا کواٹر ملا کہ آٹھ کنبے اس ميں رہ سکتے تھے، ليکن بابو دھني رام اس ميں ٹانگيں پھيلا کر اکيلے رہتے تھے، زندگي بھر وہ بال بچوں سے کبھي عليحدہ نہيں ہوئے تھے، سخت گھريلو قسم کے آدمي تھے، زندگي بھروہ بال بچوں سے کبھي عليحدہ نہيں ہوئے تھے، سخت گھريلو قسم کے آدمي آخر زندگي ميں اس تنہائي نے ان کے دل ميں وحشت پيدا کردي، ليکن مجبوري تھي۔

بچے سب دلي ميں مدن اور اندو کے پاس تھے، اور وہيں اسکولوں ميں پڑھتے تھے، سال کے خاتمے سے پہلے انہيں بيچ ميں اٹھانا ان کي پڑھائي کے لئے اچھا نہ تھا، بابوجيکو دل کے دورے پڑنے لگے بارے گرمي کي چھٹياں ہوئيں، ان کے بار بار لکھنے پر مدن نے اندو کو کندن، اور پاشياور دلاري کے ساتھ سہانپور بھيج ديا۔۔۔۔دھني رام کي دنيا چمک اٹھي، کہاں انہيں دفتر کے کام کے بعد فرصت ہي فرصت تھي، اور کہاں اب کام ہي کام تھا، بچے بچوں کي طرح جہاں کپڑے اتارتے وہيں چھوڑ ديتے اور بابوجي انہيں سميٹتے پھرتے۔

اپنے مدن سے دور الساني ھوئي رتي، اندو تو اپنے پہنواے تک سے غافل ہو گئي تھي، وہ سب رسوئي ميں يوں پھرتي تھي جيسے کانجي ہاؤس ميں گائے، باہر کي طرف منہ اٹھا اٹھا کر اپنے مالک کو ڈھونڈا ہوا کرتي ہو، کام دام کرنے کے بعد وہ کبھي اندر ٹرنکو پر ليٹ جاتي، کبھي باہر کنيز کے بوٹے کے پاس اور کبھي آم کے پيڑ کے تلے، جو آنگن ميں کھڑا سينکڑوں ہزاروں دلوں کو تھامے ہوئے تھا۔

راجندر سنگھ بیدی کی  کچه کتابیں

ساون بھادوں ميں ڈھلنے لگا، آنگن ميں باہر کا دريچہ کھلتا تو کنوارياں، نئي بياہي ہوئي لڑکياں پينگ بڑہاتے ہوئے گاتيں۔۔۔۔۔۔۔جھولا کن ڈارورے امرياں اور پھر گيت کے بول مطابق دو جھلاتيں اور کہيں چار مل جاتيں تو بھول بھلياں ھو جاتيں، ادھيڑ عمر کي بوڑھي عورتيں ايک طرف کھڑي تکا کرتيں، اندو کو معلوم ہوتا جيسے وہ بھي ان ميں شامل ہوگئي، جبھي وہ منہ پھير ليتي اور ٹھنڈي سانسيں بھرتي ہوئي سو جاتي، بابوجي پاس سے گزرتے تو اسے جگانے، اٹھانےکي ذرا بھي کوشش نہ کرتے بلکہ موقع نہ پاکر اس شلوار کو جو بہو دھوتي سے بدل آتي۔

جسے وہ ہميشہ اپني ساس والے پرانے صندوق پر پھينک ديتي، اٹھا کر کھونٹي پر لٹکا ديتے، ايسے ميں انہيں سب سے نظريں بچانا پڑتي، ليکن ابھي شلوار کو سميٹ کر مڑتے ہي تو نيچے کونے ميں نگاہ بہو کے محرم پر پڑجاتي، تب ان کي ہمت جواب دے جاتي، اور وہ شتابي کمرے سے نکل بھاگتے، جيسے سانپ کا بچہ بل سے باہر آگيا ہو، پھر برآمدے ميں ان کي آواز سنائي دينے لگي، اوم نموم بھوتے داسو ديوا۔۔۔۔۔۔

اڑوس پڑوس کي عورتيں نے بابوجي کي بہو کي خوبصورتي کي داستانيں دور دور تک پہنچا دي جاتي تھي، جب کوئي عورت بابوجي کے سامنے بہو کے پيارے پن اور سڈول جسم کي باتيں کرتي وہ خوشي سے پھولے نہ سماتے، اور کہتے، ہم تو دہنيہ ہوگئے، امي چند کي ماں، شکر ہے ہمارے گھر ميں بھي کوئي صحت والا جيو آيا، اور يہ کہتے ہوئے ان کي نگاہيں کہيں دور پہنچ جاتيں، جہاں دق کے عارضے تھے۔

دوائي کي شيشياں، اسپتال کي سيڑھياں يا چيونٹيوں کے بل، نگاہ قريب آتي تو موٹے گدرائے ہوئے جسم والے کئي بچے بغل ميں جانگھ پر، گردن پر چڑھتے اترتے ہوئے محسوس ہوتے، اور ايسا معلوم ہوتا ہے جيسے ابھي اور آرہے ہيں، پہلو پر ليٹي ہوئي بہو کي کمر زمين کيساتھ اور کولھے چھت کے ساتھ لگ رہے ہيں اور وہ دھڑا دھڑ بچے جنے جارہي ہے، اور ان بچوں کي عمر ميں کوئي فرق نہيں، کوئي بڑا ہے بہ چھوٹا، سبھي ايک سے۔۔۔جڑواں ۔۔۔۔توام۔۔۔۔ادم۔۔۔نم بہگتے۔آس پاس کے سب لوگ جان گئے تھے، اندو بابوجي کي چہيتي بہو ہے، چناچہ دودھ اور چھاچھ کے مٹکے دھني رام کے گھر آنے لگے، اور پھر ايک دم سلام دين گوجر نے فرمائش کردي، اندو نے کہا، بي بي ميرا بيٹا آر۔ايم۔ايس ميں قلي رکھوا دو، اللہ تم کو اچھا دے گا، اندوکے اشار کي دير تھي، کہ سلام دين کا بيٹا نوکر ہوگيا، وہ بھي سارڑ جو نہ ہوسکا اس کي قسمت، آسامياں ہي زيادہ نہ تھيں۔

بہو کے کھانے پينے اور اس کي صحت کا بابوجي خيال کرتے تھے، دودہ پينے سے اندو کو چڑ تھي، وہ رات کے وقت خود دودہ کو بالائي ميں پھينٹ کر، گلاس ميں ڈال کر، بہو کو پلانے کے لئے اس کي کھٹيا کے پاس آجاتے، اندو اپنے آپ کو سميٹتے ہوئے اٹھتي اور کہتي، نہيں بابوجي مجھ سےنہيں پيا جاتا۔

تيرا تو سسر بھي پنے گا، وہ مذاق سے کہتے۔

تو پھر آپ پي ليجئيے نا، اندو ہنستي ہوئي جواب ديتي اور بابوجي ايک مصنوعي غصے سے برس پڑتے، تو چاہتي ہے بعد ميں تيري بھي وہ ہي حالت ہو جو تيري ساس کي ہوئي؟

ہوں۔۔۔۔ہوں۔۔۔۔اندو لاڈ سےروٹھنے لگي، آخر کيوں نہ روٹھي، وہ لوگ نہيں روٹھتے جنھيں منانے والا کوئي نہ ہو، ليکن يہاں تو منانے والے سبھي ہيں، روٹھنے والا صرف ايک، جب اندو بابوجي کے ہاتھ سے گلاس نہ ليتي تو وہ اسے کھٹيا کے پاس سرہانے کے نيچے رکھ ديتے۔۔۔۔اور لے يہ پڑا ہے۔۔۔۔تيري مرضي ہے بي۔۔۔۔نہيں مرضي تو نہ پي۔۔۔۔کہتے ہوئے چل ديتے۔

اپنے بستر پر پہنچ کر دھني رام دلاري مني کے پاس کھيلنے لگتے، دلاري کو بابوجي کے ننگے پنڈے کے ساتھ گھسانے اور پھر پيٹ پر منہ رکھ کرپھٹکڑا پھلانے کي عادت تھي، آج جب بابوجي اور مني کھيل رہے تھے، ہنس ہنسا رہے تھے، تو مني نے بھابي کي طرف ديکھ کر کہا دودہ تو خراب ہوجائے گا بابوجي، بھابھي تو پيتي ہي نہيں۔

پنے گي ضرور پنے گي بيٹا۔۔۔۔۔بابوجي نے دوسرے ہاتھ سے پاشي کو لپٹاتے ہوئے کہا، عورتيں گھر کي کسي چيز کو خراب ہوتے نہيں ديکھ سکتيں۔

ابھي يہ فقرہ بابوجي کے منہ ہي ميں ہي ہوتا کہ ايک طرف سے ہش۔۔۔۔ہے خصصم کھالي، کي آواز آنے لگتي، پتہ چلتا بہو بلي کو بھگا رہي ہے اور پھر غٹ غٹ سي سنائي ديتي اور سب جان ليتے بہو۔۔۔۔۔۔۔بھابي نے دودہ پي ليا، کچھ دير کے بعد کندن بابوجي کے پاس آتا اور کہتا، بوجي۔۔۔۔بھابھي رو رہي ہے۔ہائيں؟بابوجي کہتے اور پھر اٹھ کر اندھيرے ميں دور اسي طرف ديکھنے لگتے، جدھر بہو کي چارپائي پڑي ہوتي، دير يوں ہي بيٹھے رہنے کے بعد وہ پھر ليٹ جاتے اور کچھ سمجھتے ہوئے کندن سے کہتے، جا۔۔۔۔تو سو جا۔۔۔۔وہ بھي سو جائے گي اپنے آپ۔

اور پھر ليٹتے ہوئے بابو دھني رام آسمان پر کھلے ہوئے پرتما کے گلزار کو ديکھنے لگتے اور اپنے من ميں بھگوان سے پوچھتے۔۔۔چاندي کے ان کھلتے بند ہوتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔پھولوں ميں ميرا پھول کہاں ہے؟ اور پھر پورا آسمان انہيں درد کا ايک دريا دکھائي دينے لگتا اور کانوں ميں مسلسل ايک دہاؤ کي آواز سنائي ديتي، جسے سنتے ہوئے وہ کہتے، جب سے دنيا بني ہے انسان کتنا رويا ہے اور روتے روتے سو جاتے ہيں۔اندو کے جانے سے بيس پچيس روز ہي ميں مدن نے واويلا شروع کرديا، اس نے لکھا ميں ميں بازار کي روٹياں کھا کھا کر تھک گيا ہوں،مجھے قبض، گردے ميں درد کي شکايت ہوگئي ہے، پھر جيسے دفتر کے لوگ چھٹي کي عرضي کے ساتھ ڈاکڑ کا سرٹيفيکيٹ بھيج ديتے ہيں، مدن نے بابوجي کے ايک دوسرے سے تصديق کي چھٹي لکھوا بھيجي، اس پر بھي جب کچھ نہ ہوا تو ايک ڈبل تار۔۔۔۔۔۔۔۔جوابي۔

جوابي تار کے پيسے مارے گئے ليکن بلا سے، اندو اور بچے لوٹ آئے تھے، مدن نے اندو سے دو دن سيدھے منہ بات نہ کي، يہ دکھ بھي اندو ہي کا تھا، ايک دن مدن کو اکيلے ميں پاکر بيٹھي اور بولي، اتنا منہ پھلائے بيٹھے ہو۔۔۔۔۔۔۔ميں نے کيا کيا ہے؟

مدن نے اپنےآپ کو چھڑاتے ہوئے کہا، چھوڑو۔۔۔۔دور ہو جا ميري آنکھوں سے۔۔۔۔کميني۔۔۔۔۔

يہي کہنے کيلئے اتني دور سے بلوايا ہے؟

ہاں ہٹاؤ اب۔ خبردار۔۔۔۔يہ سب تمہارا ہي کيا دھراہے، جو تم آنا چاہتي تو کيا بابوجي روک ليتے؟

اندو نے بے بسي سے کہا، ہائے جي۔۔۔تم تو بچوں کي سي باتيں کرتے ہو۔۔۔۔ميں بھلا انہيں کيسے کہہ سکتي تھي؟ سچ پوچھو تم نے مجھ کو بلوا کر بابوجي پرتو بڑا جلم کيا ہے۔

کيا مطلب؟مطلب کچھ نہيں۔۔۔۔۔ان کا جي بہت لگا ہوا تھا بال بچوں ميں۔

اور ميرا جي؟

تمہارا جي؟۔۔۔۔۔۔تم تو کہيں بھي لگا سکتے ہو، اندو نے شرارت سے کہا اور اس طرح سے سے مدن کي طرف ديکھا کہ مدن کي مدافعت کي ساري قوتيں ختم ہوگئيں، يوں بھي اسے کسي اچھے سے بہانے کي تلاش تھي، اس نے اندو کو پکڑ کر اپنے سينے سے لگا ليا، اور بولا بابوجي تم سے بہت خوش تھے۔

ہاں اندو بولي ايک دن جاگي تو ديکھا سرہانے کھڑے مجھے ديکھ رہے ہيں۔

يہ نہيں ہو سکتا۔

اپني قسم۔

اپني قسم نہيں۔۔۔۔۔۔ميري قسم کھاؤ۔

تمہاري قسم تو ميں نہيں کھاتي۔۔۔۔۔۔۔۔کوئي کچھ بھي دے۔

ہاں مدن نے سوچتے ہوئے کہا، کتابوں ميں اسے سيکس کہتے ہيں۔

سيکس؟ اندو نے پوچھا وہ کيا ہوتا ہے۔وہي جو مرد اور عورت کے بيچ ہوتا ہے۔

ہائے رام، اندو ايک دم پيچھے ہٹتے ہوئے کہا، گندے کہيں کے۔۔۔۔۔شرم نہيں آئي بابوجي کے بارے ميں ايسا سوچتے ہوئے؟ تو بابوجي کونہ آئي تجھے يوں ديھکتے ہوئے؟

کيوں؟ اندو نے بابوجي کي طرف داري کرتے ہوئے کہا، وہ اپني بہو کو ديکھ کر خوش ہورہے ہوں گے۔

کيوں نہيں، جب بہو تم ايسي ہو۔

تمہارا من گندا ہے،اندو نے نفرت سے کہا، اسي لئے تمہارے کاروبار بھي گندے بروزے کا ہے، تمہاري کتابيں سب گندگي سے بھري پڑيں ہيں، تمہيں اور تمہاري کتابوں کو اس کے سوا کچھ دکھائي نہيں ديتا، ايسے تو جب ميں بڑي ہوگئي تھي، تو ميرے پتاجي نے مجھ سے ادھک پيار کيا کرنا شرع کرديا تھا، تو کيا وھ بھي ۔۔۔۔۔۔وھ بھي تھا نگوڑا۔۔۔۔جس کاتم ابھي نام لے رہے تھے اور پھر اندو بولي، بابوجي کو يہاں بلالو، ان کا وہاں جرا بھي جي نہيں لگتا، وہ دکھي ہوں گے تو کيا تم دکھي نہيں ہوگے؟

مدن اپنے باپ سے بہت پيار کرتا تھا، گھر ميں ماں کي موت نے بڑا ہونے کے کارن سب سے زيادہ اثر مدن ہي پر کيا تھا، اسے اچھي طرح سے ياد تھا، ماں کے بيمار رہنے کے باعث جب بھي اس کي موت کا خيال مدن کے دل ميں آتا تو آنکھيں موند کرپراتھنا شروع کرديتا۔۔۔۔اوم نم بہگوتے دا سوديوا، اوم نمو۔۔۔۔۔اب وہ نہيں چاہتا تھا کہ باپ کي چھتر چھايا بھي سر سےاٹھ جائے، خاص طور پر ايسے ميں جب کہ وہ اپنےکاروبار کو بھي جما نہيں پايا تھا، اس نے غير يقيني لہجے ميں اندو سے صرف اتنا کہا، ابھي رہنے دو بابو کو شادي کے بعد ہم دونوں پہلي بار آزادي دے مل سکتے ہيں۔

تيسرے چوتھے روز بابوجي کا آنسو ميں ڈوبا خط آيا، ميرے پيارے مدن کے تخاطب ميں ميرے پيارے کے الفاظ شور پانيوں ميں دھل گئے تھے، لکھا تھا بہو کے يہاں ہونے پر ميرے تو وہ ہي پرانے دن لوٹ آئے تھے، تمہاري ماں کے دن، جب ھماري نئي شادي ہوئي تھي تو وھ بھي ايسي ہي الھڑ تھي۔

ايسے ميں اتارے ہوئے کپڑے ادھر ادھر پھينک ديتي اور پتا جي سميٹتے پھرتے، وہي صندل کا صندوق، وہي بيسيويں خلجن، ميں بازار جارہا ہوں، آرہا ہوں، کچھ نہيں تو دہي بڑے يا ربڑي لارہا ہوں،اب گھر ميں کوئي نہيں، وہ جگہ صندل کا صندوق پڑا تھا، خالي تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر ايک آدھ سطر اور دھل گئي تھي آخر ميں لکھا تھا، دفتر سے لوٹتے سمے يہاں کے بڑے بڑے اندھے کمروں ميں داخل ہوتے ہوئے ميرے من ميں ايک ہول سا اٹھتا ہے۔۔۔۔اور پھر۔۔۔۔۔بہو کا خيال رکھنا، اسے کسي ايسي ويسي دايہ کے حوالے مت کرنا۔

اندو نے دونوں ہاتھوں سے چٹھي پکڑلي، سانس کہينچي، آنکھيں پھيلاتي شرم سے پاني پاني ہوئي بولي، ميں مرگئي بابوجي کو کيسا پتا چل گيا؟مدن نے چھٹی چھڑاتے ہوئے کہا بابوجي کياکہتے ہيں؟۔۔۔۔۔دنيا ديکھي ہے، ھميں پيدا کيا ہے۔ہاں مگر۔اندو بولي ابھي دن ہي کے ہوئے ہيں۔

اور پھر اس نے ايک تيزي سي نظر اپنے پيٹ پر ڈالي جس نے ابھي بڑھنا شروع نہيں کيا تھا اور جيسے بابوجي يا کوئي اور ديکھ رہا ہو، اس نے ساري کا پلو اس پر کھينچ ليا، اور کچھ سوچنے لگي، جبھي ايک چمک سي اس کے چہرہ پر آئي وہ بولي، تمہاري سسرال سے شيرني آئي ہے۔

ميري سسرال؟۔۔۔۔۔۔۔اور ہاں، مدن نے راستہ پاتے ہوئے کہا، کتني شرم کي بات ہے، ابھي چھ آٹھ مہينے ہوئے ہيں اور چلا آرہا ہے اور اس نے اندو کے پيٹ کي طرف اشارہ کيا۔

مدن کي ٹانگيں ابھي تک کانپ رہي تھيں، اس وقت خوف سے نہيں تسلي سے۔

چلا آيا ہے يا تم لائے ہو؟

تم۔۔۔يہ سب قصور تمہارا ہے، کچھ عورتيں ہوتي ہي ايسي ہيں۔

تمہيں پسند نہيں؟

ايک دم نہيں۔

کيوں؟

چار دن تو مزے لے ليتي زندگي کے۔

 

کيا يہ جندگي کا مجا نہيں؟اندو نے صدمہ زدہ لہجے ميں کہا، مرد عورت شادي کس لئے کرتے ہيں؟ بھگواب نے بن منگے دے ديا نا؟ ان سےجن کے نہيں ہوتا، پھر کيا کچھ کرتي ہيں، پيروں فقيروں کے پاس جاتي ہيں، سمادہيوں، مجاروں پر چوٹياں باندہتي ہيں شرم و حيا تج کر درياؤں کے کنارے ننگي ہو کر سر کنڈے کاٹتي، شمسانوں ميں مسان جگاتياچھا اچھا مدن بولا، تم نے بکھان ہي شروع کرديا،اولاد کے لئے تھوڑي عمر پڑي تھي؟

ہوگا تو، اندو نے سرزنش کے انداز ميں انگلي اٹھاتے ہوئے کہا، جب تم اسے ہاتھ بھي مت لگانا، وہ تمہارا نہيں ميرا ہوگا، تمہيں تو اس کي جرورت نہيں، پر اس کے داد کو بہت ہے، يہ ميں جانتي ہوں۔

اور پھر کچھ خجل، کچھ صدمہ زدہ ہو کر اندو نے اپنا منہ دونوں ہاتھوں سے چھپا ليا، وہ سوچتي تھي پيٹ ميں اس نہني سي جان کو پالينے کے سلسلے ميں، اس جان کا ہوتا سوتا تھوڑي بہت ہمدردي تو کرے گا ہي ليکن مدن چپ چاپ بيٹھا رہا، ايک لفظ بھي اس نے منہ سے نہ نکالا، اندو نے چہرے پر سے ہاتھ اٹھا کر بدن کي طرف ديکھا اور ہونے والي پہلو ٹن کے خاص انداز ميں بولي، وہ تو جو کچھ ميں کہہ رہي ہوں سب پھيچے ہوگا، پہلے تو ميں بچوں گي ہي نہيں۔۔۔۔مجھے بچپن ہي سے وہم ہے اس بات کا۔

مدن بھي جيسے خائف ہوگيا۔۔۔۔يہ خوبصورت چيز جو حاملہ ہوجانے کے بعد اور بھي خوبصورت ہوگئي ہے مر جائےگي؟ اس نے پيٹھ کي طرف سے اندو کو تھام ليا، اور پھر کھينچ کرپانے بازؤں ميں لے آيا اور بولا، تجھے کچھ نہ ہوگا، اندو۔۔۔ميں تو موت کے منہ سے بھي چھين کر لے آؤں گا تجھے۔۔۔۔۔اب ساوتري کي نہيں، ستيہ دان کي باري ہے۔

مدن سے لپٹ کر اندو بھول ہي گئي کہ اس کا اپنا بھي کوئي دکھ ہے۔۔۔۔۔۔۔

اس کے بعد بابوجي نے کچھ نہ لکھا، البتہ سہانپور سے ايک سارٹر آيا، جس نے نہ صرف اتنا بتايا کہ بابوجي کو پھر سے دورے پڑنے لگے ہيں، ايک دورے ميں تو وہ قريب قريب چل ہي بسے تھے، مدن ڈر گيا، اندو رونے لگي، سارٹر کے چلے جانے کے بعد ھميشہ کي طرح مدن نے آنکھيں موند ليں اور من ہي من ميں پڑہنے لگا۔۔۔اوم نمو بہگوتے۔۔۔۔۔دوسرے روز ہي مدن نے باپ کو چھٹي لکھي۔۔۔بابوجي چلے آؤ۔۔۔۔۔۔بچے بہت ياد کرتے ہيں، اور آپ کي بہو بھي۔۔۔۔ليکن آخر نوکري تھي، اپنے بس کي بات تھوڑی تھي، دھني رام کے خط کے مطابق وہ چھٹي کا بندوبست کررہے تھے۔۔۔۔ان کے بارے ميں دن بہ دن مدن کا احساس جرم بڑھنے لگا، اگر ميں اندو کو وہيں رہنے ديتا تو ميرا کيا بگڑ جاتا۔۔۔۔؟

وجے دشمي سے ايک رات پہلے مدن اضطراب کے عالم ميں ميں بيچ والے کمرے کے باہر برآمدے ميں ٹہل رہا تھا کہ اندر سے بچے کے رونے کي آواز آئي، اور وہ چونک کر دروازے کي طرف لپکا، بيگم دايہ باہر آئي، اور بولي مبارک ہو بابوجي۔۔۔۔لڑکا ہوا ہے۔لڑکا؟ مدن نے کہا اور پھر متفکرانہ لہجے ميں بولا، بي بي کيسي ہے؟ بيگم بولي، خير مہر ہے۔۔۔۔ميں نے ابھي تک اسے لڑکي ہي بتائي ہے۔

۔۔۔۔۔۔زچہ زيادہ خوش ہوجائے تو اس آنوال نہيں گرتي نا، تو ۔۔۔۔مدن نے بيوقوفوں کي طرح آنکھيں جھپکتے ہوئے کہا اور کمرے ميں جانے کے لئے آگے بڑھا، بيگم نے اسے وہيں روک ديا اور کہنے لگي، تمہارا اندر کيا کام؟ اور پھر ايکا ايکي دروازہ بھيڑ کر ندر چلي گئي، شايد اسي لئے کہ جب کوئي اس دنيا ميں آتا ہے تو ارد گرد کے لوگوں کي يہي حالت ہوتي ہے۔

مدن نے سن رکھا تھا جب لڑکا پيدا ہوتا ہے تو گھر کے در و ديوار لرزنے لگتے ہيں، گويا ڈر ہے، کہ بڑا ہو کر ہميں بيچے گا يا رکھے گا،مدن نے محسوس کيا کہ جيسے سچ مچ ہي ديواريں کانپ رہي تھي، زچگي کے لئے چکلي بھابھي تو نہ آئي تھيں کيونکہ اس کا اپنا بچہ تو بہت چھوٹا تھا، البتہ دريا باد والي پھوپھي ضرور پہنچي تھي جس نے پيدائش کے وقت رام رام رام کي رٹ لگادي تھي، اور اب وہي رٹ مدہم ہو رھي تھي۔

زندگي بھر مدن کو اپنا آپ اس قدر فضول لگ رہا تھا، اتنے ميں پھر دروازہ کھلا، اور پھوپھي نکلي، برآمدے کي بجلي کي مدہم روشني ميں اس کا چہرہ بہوت کے چہرے کي طرح ايک دم دودھيا نظر آرہاتھا، مدن نے اس کا راستہ روکتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔اندو ٹھيک ہے نا پھوپھي۔

 

ٹھيک ہے ٹھيک ہے ٹھيک ہے، پھوپھي نے تين چار بار کہا اور پھر اپنا لرزتا ہوا ہاتھ مدن کے سر پر رکھ کر اسے نيچا کيا، چوما اور باہر لپک گئي۔۔۔۔پھوپھي برآمدے کے دروازے ميں سے باہر جاتي ہوئي نظر آرہي تھي، وہ بيٹھک ميں پہنچي جہاں باقي بچے سو رہے تھے، پھوپھي نے ايک ايک کے سر پر پيار سے ہاتھ پھيرا اور پھر چہت کي طرف آنکھيں اٹھا کر منہ ميں کچھ بولي اور پھر نڈھال ہوکر مني کے پاس ليٹ گئي۔اوندھي۔۔۔۔اس کے پھڑکتے ہوئے شانو سے پتہ چل رہا تھا جيسے رو رہي ہے۔۔۔۔۔۔مدن حيران ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔پھوپھي تو کئي زچگيوں سے گزر چکي ہے، پھر کيوں اس کي روح کانپ اٹھي ہے۔۔۔

پھر ادھر کے کمرے سے ہر مل کي بو باہر لپکي، دہوئيں کا ايک غبار سا آيا، جس نے مدن کا احاطہ کرليا، اس کا سر چکراگيا، جبھي بيگم دايہ کپڑے ميں کچھ لپيٹے ہوئے باہر نکلي، کپڑے پر خون يہ خون تھا، جس ميں سے کچھ قطرے نکل کر فرش پر گر گئے، مدن کے ہوش اڑ گئے، اسے معلوم نہ تھا کہ وہ کہاں ہے، آنکھيں کھلي ھوئيں تھيں اور کچھ دکھائي نہ دے رہا تھا، بيچ ميں اندو کي ايک نر گھلي آواز آئي۔ہائے۔۔۔۔ئے۔۔۔اور پھر بچے کے رونے کي آواز۔

تين چار دن ميں بہت کچھ ھوا، مدن نے گھر کے ايک طرف گڑھا کھود کر آنول کو دبا ديا، کتوں کو اندر آنے سے روک ديا اور اسے کچھ ياد نہ تھا، اسے يوں لگا جيسے ہر مل کي بو دماغ ميں بس جانے کے بعد آج اسے ہوش آيا، کمرے ميں وہ اکيلا ہي تھا اور اندو ۔۔۔۔۔نندو اور جسودھا۔۔۔۔۔اور دوسري طرف نندلال کے بچے کي طرف ديکھا اور وہ کچھ ٹو لينے کے انداز سے بولي، بالکل تم ہي پر گيا ہے۔

ہوگا، مدن نے ايک اچنتي سے نظر بچے پر دالتے ہوئے کہا، ميں تو کہتا ہوں شکر ہے بھگوان کا کہ تم بچ گئيں۔ہاں اندو بولي ميں تو سمجھتي تھي۔۔۔شبھ شبھ بولو، مدن نے ايک دم اندو کي بات کاٹتے ہوئے کہا، يہاں تو جو کچھ ہوا ہے۔۔۔۔۔ميں تو اب تمہارے پاس بھي نہيں پہٹکوں گا، اور مدن نے زبان دانتوں تلے دبالي، توبہ کرو، اندو بولي،مدن نے اسي دن کان اپنے ہاتھ سے پکڑ لئے۔

اندو نحيف آواز ميں ہنسنے لگي،بچہ ھونے کے بعد کئي روز تک اندو کي ناف ٹھکانے پر نہ آئي، وہ گھوم گھوم کر اس بچے کي تلاش کر رہي تھي ، جو اب اس سے پرے ، باہر کي دنيا ميں جا کر اپني اصل ماں کو بھول گيا تھا اور اندو شانتي سے اس دنيا کو تک رہي تھي۔۔۔۔معلوم ہوتا تھا اس نے مدن ہي کے نہيں دنيا بھر کے گناہگاروں کے گناہ معاف کردئيے، اور ديوي بن کر اور کرونا کے پرساد بانٹ رھي تھي۔

مدن نے اندو کے منہ کي طرف ديکھا اور سوچنے لگا، کہ اس سارے خون خرابے کے بعد کچھ دبلي ہو کر اندو اور بھي اچھي لگنے لگي ہے۔۔۔جبھي ايکا ايکي اندو نے دونوں ہاتھ اپني چھاتيوں پر رکھ لئے۔

کيا ہوا؟ مدن نے پوچھا،کچھ نہيں، اندو تھوڑا سا اٹھنے کي کوشش کرکے بولي، اسے بھوک لگي ہے، اور اس نے بچے کي طرف اشارہ کيا،اسے؟۔۔بھوک؟۔۔۔مدن نے پہلي بار بچے کي طرف اور پھر اندو کي طرف ديکھتے ہوئے کہا، تمہيں کيسا پتا چلا؟ديکھتے نہيں؟ اندو نيچے کي طرف نگاہ کرتے ہوئے بولي، سب گيلا ہو گيا ہے، مدن نے غور سے ڈھيلے ڈہالے گلے کي طرف ديکھا، جھر جھر دودہ بہہ رہا تھا۔اور ايک خاص قسم کي بو آرہي تھي پھر اندو نے بچے کي طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔

اسے مجھے دے دو، مدن نے ہاتھ پنگھوڑے کي طرف بڑھايا اور اسي دم کھينچ ليا، پھر کچھ ہمت سے کام ليتے ہوئے اس بچے کو يوں اٹھايا جيسے وہ کوئي مرا ہوا چوہا ہے، آخر اس نے بچے کو اندو کي گود ميں ڈال ديا، اندو مدن کي طرف ديکھتے ہوئے بولي تم جاؤ۔۔۔باہر۔

کيوں؟۔۔۔باہر کيوں جاؤں؟ مدن نے پوچھا۔

جاؤنا۔اندو نے کچھ مچلتے، کچھ شرماتے ہوئے کہا تمہارے سامنے دودہ نہيں پلا سکوں گي۔

 

ارے مدن تو حيرت سے بولا، ميرے سامنے نہيں پلاسے گي، اور پھر نا سمجہي کے انداز ميں سر کو جھٹکا دے کر باہر کي طرف چل نکلل، دروازے کے پاس پہنچ کر اس نے مڑتے ہوئے اندو پر ايک نطر ڈالي، اتني خوبصورت اندو آج تک نہيں لگ رہي تھي۔بابو دھني رام چھٹي پر گھر لوٹے تو وہ پہلے سے آدھے دکھائي پڑتے تھے، جب اندو نے پوتا ان کي گود ميں ديا تو کھل اٹھے، ان کے پيٹ کے اندر کئي پھوڑا نکل آيا تھا۔

جو جوبيس گھنٹے انہيں سولي پر لٹکائے رکھتا تھا، اگر منا روتا تو بابوجي کي اس سے دس گناہ بري حالت ہوتي،کئي علاج کئے گئے، بابوجي کے آخري علاج ميں ڈاکڑ نے ادھني کے برابر پندرہ بيس گولياں روز کھانے کو ديں، پہلے دن انہيں اتنا پسينہ آيا کہ دن ميں تين تين چار چار بار کپڑے بدلنے پڑے،ھر بار مدن کپڑے اتار کر بالٹي ميں نچورڑتا، صرف پسينے سے ہي بالٹی ايک چوتھائي ہوگئي تھي۔

 

رات انہيں ملي سي محسوس ہونے لگي تھي اور انہوں نے پکارا۔۔۔بہو ذرا داتن تو دينا ذائقہ بہت خراب ہو رہا ہے کہ ايک ابکائي آئي، ساتھ ہي خون کا پر نالہ لے آئي، بيٹے نے واپس سرہانے کي طرف لٹايا تو ان کي پتلياں پھر چکي تھيں اور کوئي ہي دم ميں وہ اوپر آسمان کے گلزار ميں پہنچ چکے تھے جہاں انہوں نے اپنا پھول پہچان ليا تھا۔۔۔۔۔

منے کو پيدا ہوئے کل بيس پچيس روز ہوئے تھے، اندو نے منہ نوچ کر، سر اور چھاتي پيٹ پيٹ کر خود کو نيلا کر ليا۔

مدن کے سامنے وہي منظر تھا، جو اس نے تصور ميں اپنے مرنے پر ديکھا تھا فرق صرف اتنا تھا کہ اندو نے اپني چوڑياں توڑنے کے بجائے اتار کر رکھ دي تھيں، سر پر راکھ نہيں ڈالي تھي، ليکن زمين پر سے مٹي لگ جانے اور بالوں کے بکھر جانےسے چہرہ بھيانک ہو گيا تھا، لوگو، ميں لٹ گئي، کي جگہ اس نے ايک دل دوز آواز ميں چلانا شروع کرديا تھا، لوگوں ہم لٹ گئے۔

 

گھر بار کا کتنا بوجھ مدن پر آپڑا تھا، اس کاابھي مدن کو پوري طرح اندازہ نہ تھا، صبح ہونے تک اس کا دل لپک کر منہ ميں آگيا، وہ شايد بچ نہ پاتا، اگر وہ گھر کے باہر بد رود کے کنارے سيل چڑھي مٹی پر اوندھا ليٹ کر اپنےدل کو ٹھکانے پر نہ لاتا۔۔۔۔دھرتي ماں نے چھاتي سے لگا کر اپنے بچے کو بچا ليا تھا۔

چھوٹے بچے کندن، دلاري مني، پاشي يو ں چلا رہے تھے جيسے گھونسلے پر شکرے کے حملے پر چڑيا کو بونٹ چونچيں اٹھا اٹھا کر کرچيں چيں کرتے ہيں، انہيں اگر کوئي پروں کے اندر سميٹتي ہے تو اندو۔۔۔۔نالي کے کنارے پڑے پڑے مدن نے سوچا اب تو يہ دنيا ميرے لئے ختم ہوگئي، کيا ميں جي سکوں گا؟ زندگي ميں کبھي ہنس سکوں گا؟ وہ اٹھا اور اٹھ کر گھر کے اندر چلا گيا۔

 

سيڑھيوں کے نيچے غسل خانہ تھا جس ميں گھس کر اندر سے کواڑ بند کرتے ہوئے مدن نے ايک بار پھر سوال کو دہرايا۔

ميں کبھي ہنس بھي سکوں گا يا نہيں؟ حالانکہ اس کے باپ کي لاش ابھي پاس ہي بيٹھک ميں پڑي تھي، باپ کو آگ ميں حوالے کرنے سے پہلے مدن ارتھي پر پڑے ہوئے جسم کے سامنے ڈنڈوت کے انداز ميں ليٹ گيا، يہ اس کے جنم داتا کو آخري پرنام تھا، تس پر بھي وہ رو نہ رہا تھا۔

اس کي يہ حالت ديکھ کر رشتہ دار محلے دار سن سے رہ گئے، پھر ہندو راج کے مطابق سب سے بڑا بيٹا ہونے کي حثيت سے مدن کو چتا جلاني پڑي جلتي ہوئي کھوپڑي ميں کپال کرپا لاٹھي مارني پڑتي۔۔۔۔۔۔عورتيں باہر ہي سے شمشان کے کنويں پر سے نہا کر لوٹ چکي تھيں، مدن جب گھر پہنچا تو وہ کانپ رہا تھا، دہرتي ماں نے تھوڑي دير کيلئے جو طاقت اپنے بيٹے کو دي تھي۔

رات کے گھر آنے پر پھر سے ہول سے ڈھل گئي۔۔۔۔۔اسے کوئي سہارا چاہئيے تھا، کسي ايسے جذبے کا سہارا جو موت سے بھي بڑا ہو، اس وقت دھرتي ماں کي بيٹی جنک دلاري اندو نے کسي گھڑے ميں پيدا ہو کر اس رام کو اپني بانہوں ميں لے ليا۔۔۔۔رات کو اگر اندو اپنا آپ يوں مدن پر نثار نہ کرديتي تو اتنا بڑا دکھ مدن کو لے ڈوبتا۔

دس مہينے کے اندر اندو کا دوسرا بچہ چلا آيا، بيوي کو اس دوزخ کي آگ ميں دھکيل کر مدن خود اپنا دکھ بھول گيا تھا، کبھي کبھي اسے خيال آتا اگر ميں شادي کے بعد بابوجي کے پاس گئي ہوتي اندو کو نہ بلاليتا تو شايد اتني جلدي نہ چل ديتے، ليکن پھر وہ باپ کي موت سے پيدا ہونے والے خسارے کو پورا کرنے ميں لگ جاتا۔۔۔ کاروبار جو پہلے بے توجہي کي وجہ سے بند ہوگيا تھا۔۔مجبورا چل نکلا۔

 

ان دنوں بڑے بچے کومدن کے پاس چھوڑ کر، چھوٹے کو چھاتي سے لگا کر اندو ميکے چلي گئي، پھيچے منا طرح طرح کي ضد کرتا جو کبھي ماني جاتي کبھي نہيں، ميکے سے اندو کا خط آيا ۔۔۔مجھے اپنےبيٹے کے رونے کي آواز آرہي ہے، اسے کوئي مارتا توہيں؟۔۔۔۔۔۔مدن کو بڑي حيرت ہوئي۔۔۔۔ايک جاہل ان پڑھ عورت۔۔۔ايسي باتيں کيسے لکھ سکتي ہے؟۔۔۔۔پھر اس انے اپنے آپ سے پوچھا۔۔۔۔۔کيا يہ بھي کوئي رٹا ہوا فقرہ ہے۔۔۔۔۔؟

سال گزر گئے، پيسے کبھي اتنے نہ آئے کہ ان سے عيش ہوسکے، ليکن گزارے کے مطابق آمدني ضرور ہوجاتي تھي وقت اس وقت پر ہوتي جب کوئي بڑا خرچ سامنے آجاتا۔۔۔کندن کا داخلہ دينا ہے، دلاري مني کا شگن بھجوانا ہے، اس وقت مدن منہ لٹکائے بيٹھ جاتا اور پھر اندو ايک طرف سے آتي مسکراتي ہوئي، اور کہتي، کيوں دکھي ہو رہے ہو؟، مدن ميند بھري نظروں سے اس کي طرف ديکھتے ہوئے کہتا، دکھي نہ ہوں؟ کندن کا بي۔اے کا داخلہ دينا ہے، ۔۔۔۔۔مني۔۔۔۔اندو پھر ہنستي اور کہتي چلو ميرے ساتھ،اور مدن بھيڑ کے بچے کي طرح اس کے ساتھ چل ديتا۔

اندو صندل کے صندوق کے پاس پہنچتي جس کو مدن سميت ہاتھ لگانے کي اجازت نہيں تھي، کبھي کبھي اس بات پر خفا ہو کر مدن کہتا، مردگي تو اسے بھي چھاتي پر دال کر لے جانا اور اندو کہتي، ہاں، لے جاؤں گي، پھر اندو وہاں سے مطلوبہ نکال کر رقم سامنے رکھ ديتي۔

يہ کہاں ے آگئے؟

کہيں سے بھي آئے۔۔۔۔ تمہيں آم کھانے سے مطلب ہے۔

پھر بھي؟

تم جاؤ اپنا کام چلاؤ۔

اور جب مدن زيادہ اصرار کرتا تو اندو کہتي، ميں نے ايک سيٹھ دوست بنايا ہے نا، اور پھر ہنسنے لگتي، جھوٹ جانتے ہوئے بھي مدن کو يہ مذاق اچھا نہیں لگا، پھر اندو کہتي، ميں پورا لٹيرا ہوں۔۔۔تم نہیں جانتے سخي اور لٹيرا۔۔۔جو ايک ہاتھ سے لوٹتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے گريب گربا کو دے ديتا ہے۔۔۔۔اسي طرح مني کي شادي ہوئي جس پر ايسي ہي لوٹ کے زيور بکے، قرضہ چڑھا اور پھر اتر گيا۔

 

ايسے ہي کندن بھي بياہا گيا، ان شاديوں ميں اندو ہي ہتھ بھرا کرتي اور ماں کي جگہ کھڑي ہوجاتي، آسمان سے بابوجي اور ماں ديکھا کرتے اور پھل برساتے جو کسي کو نظر نہ آتے، پھر ايسا ہوا، ماں اور بابوجي ميں جھگڑا چل گيا ماں نے بابوجي سے کہا، تم تو بہو کے ہاتھ کي پکي کھا کر آئے ہو، اس کا سکھ بھي ديکھا ہے۔

پر ميں نصيبوں جلي نے کچھ بھي نہيں ديکھا اور يہ جھگڑا دشنو، مہيش اور شيو تک پہنچا، انہوں نے ماں کے حق ميں فيصلہ ديا۔۔۔۔او يوں ماں، مات کو لوک ميں آکر بہو کي کوکھ ميں پڑي اور اندو کے ہاں ايک بيٹي پيدا ہوئي۔۔۔۔۔

پھر اندو ديوي ايسي ديوي بھي نہ تھي، جب کوئي اصول کي بات ہوتي تو نند ديور تو کيا خود مدن سے بھي لڑ پڑتي۔۔۔۔ مدن راست بازي کي اس پتلي کو خفا ہو کر ہريش چندر کي بيٹي کہا کرتا تھا، چونکہ اندو کي باتوں ميں الجھاؤ ہونے کے باوجود سچائي اور دھرم قائم رہتے تھے۔

اس لئے مدن اور کنبے کے باقي سب لوگوں کي آنکھيں اندو کے سامنے نيچے رہتي تھيں، جھگڑا کتنا بھي بڑھ جائے مدن اپنے شوہري زعم ميں کتنا بھي اندو کي بات کو رد کردے ليکن آخر سب ہي سر جھکائے ہوئے اندو کي شرن ميں آتے تھے، اور اسي سے چھما مانگتے تھے۔

نئي بھابھي آئي کہنے کو تو وہ بھي بيوي تھي، ليکن اندو ايک عورت تھي جسے بيوي کہتے ہيں، اس کے الٹ چھوٹي بھابھي راني ايک بيوي تھي، جسے عورت کہتے ہيں، راني کے کارن بھائيوں ميں جھگڑا ہوا، اور جے۔پي چاچا کي معرفت جائداد تقسيم ہوئي جس ميں ماں باپ کي جائداد تو ايک طرف اندو کي اپنا بنائي ھوئي چيزيں بھي تقسيم کي زد ميں آگئيں، اور اندو کليجہ موس کر رہ گئي۔

جہاں سب کچھ ہوجانے کے بعد اور الگ ہو کر بھي مدن کندن اور راني ٹھيک سے نہيں بس سکے تھے، وہاں اندو کا ناي گھر دنو ہي ميں جگ مگ جگ مگ کرنے لگا تھا۔

بچي کي پيدائش کے بعد اندو کي صحت وہ نہ رہي تھي، بچي ہر وقت اندو کي چھاتيوں سے لپٹي رہتي۔

جہاں سبھي اس گوشت کے لوتھڑے پر تھو تھو کرتے تھے وہاں اندو تھي جو اسے کليجے سے لگائے پھرتي، ليکن کبھي خود پريشان ہوا اٹھتي، اور بچي کو سامنے جھلنگے ميں پھينکتے ہوئے کہہ اٹھتي، تو مجھے بھي جينے دے گي۔۔۔۔ماں۔۔۔۔۔؟

ا

ور بچي چلا چلا کر رونے لگتي۔ مدن اندو سے کٹنے لگا، شادي سے لے کر ابھي تک اسے وہ عورت نہ ملي تھي، جس کا وہ متلاشي تھا، گندہ بروزہ بکنے لگا، اور مدن نے بہت سا روپيہ اندو سے بالا بالا خرچ کروانا شروع کرديا، بابوجي کے چلے جانے کے بعد کوئي پوچہنے والا بھي تو نہ تھا، پوري آزادي تھي۔

گويا پڑوسي سبطے کي بھينس پھر سے مدن کے منہ کے پاس پھنکارنے لگي، بلکہ بار بار پھنکارنے لگي، شادي کي رات والي بھينس تو بک چکي تي،ليکن اس کا مالک زندہ تھا، مدن اس کے ساتھ ايسي جگہوں پر جانے لگا جہاں روشني اور سائے عجيب بے قاعدہ سي شکليں بناتے ہيں، نکڑ پر کبھي اندھيرے کي تکون بنتي ہے اور اوپر کھٹ سے روشني کي ايک چوکور لہر آکر اسے کاٹ ديتي ہے۔

کوئي تصوير پوري نہيں بنتي معلوم ہوتا ہے بغل ميں سے ايک پاجامہ نکلا اور آسمان کي طرف اڑگيا، يا کسي کوٹ نے ديکھنے والے کا منہ پوري طرح سے ڈھانپ ليا، اور کوئي سانس لينے کے لئے تڑپ رہا ہے جبھي روشني کي چوکور لہر ايک چوکھٹا سي بن گئي،اور اس ميں ايک صورت آکر کھڑي ہوگئ، ديکھنے والے نے ہاتھ بڑھايا تو آر پار چلا گيا، جيسے وہاں کچھ بھي نہ تھا۔

پيچھے کوئي کتا رنے لگا، اور طبل نے اس کي آوز ڈبو دي۔مدن کو اس کے تصور کے خدو خال ملے ليکن ہر جگہ ايسا معلوم ہورہا تھا جيسے آرٹسٹ سے ايک خط غلط لگ گيا، يا ہنسي کي آواز ضرورت سے زيادہ بلند تھي، اور مدن ۔۔۔۔۔داغ اور متوازن ہنسي کي تلاش ميں کھوگيا۔

سبطے نے اس وقت اپني بيوي سے بات چيت کي جب اس کي بيگم، نے مدن کو مثالي شوہر کي حثيت سے سبطے کے سامنے پيش کيا، پيش ہي نہيں کيا بلکہ منہ پر مارا، اس کو اٹھا کر سبطے نے بيگم کے منہ دے مارا، معلوم ہوتا تھا کسي خونين تربوز کا گودا ہے جس کے رگ و ريشے بيگم کي ناک اس کي آنکھوں اور کانوں پر لگے ہوئے ہيں، کروڑ کروڑ گالي بکتي ہوئي بيگم نے حافظے کي ٹوکري ميں سے گودا اور بيج اٹھائے اور اندو کے صاف ستہرے صحن ميں بکھير دئيے۔

ايک اند کے بجائے دو اندو ہوگئيں، ايک تو اندو خود تھي،اور دوسري ايک کانپتا ہوا خط، جو اندو کے پورے جسم کا احاطہ کئيے ہوئے تھا، اور جو نظر نہيں آتا تھا۔۔۔۔۔مدن کہيں جاتا بھي تھا تو گھر سے ہو کر ۔۔۔نہا دھو کر، اچھے کپڑے پہن کر مگہن کي ايک گلوري جس ميں خوشبو دار قوام لگا ہو، منہ ميں رکھ کر اس دن جو مدن گھر آيا تو اندو کي شکل ہي دوسري تھي۔

اس نے چہرے پر پوڈر تھوپ رکھا تھا، گالوں پر روج لگا رکھي تھي، لپ اسٹک کے بہ ہونے پر ہونٹ ماتھے کي بندي سے رنگ لئے تھے۔۔۔۔۔۔اور بال کچھ اس طريقے سے بنائے تھے کہ مدن کي نظريں ان ميں الجھ کر رھ گئيں۔

کيا بات ہے؟ آج مدن نے حيران ہو کر پوچھا۔

کچھ نہيں، اندو نے مدن سے نظريں بچاتے ہوئے کہا، آج فرصت ملي ہے۔

شادي کے پندرہ بيس برس گزر جانے کے بعد اندو آج کو آج فرصت ملي تھي، اور وہ بھي اس وقت جب چہرے پر چھائياں چلي آئيں تھيں، ناک پر ايک سياہ کاٹھي بن گئي تھي اور بلاؤز کے نيچے ننگے پيٹ کے پاس کمر پر چربي کي دو تہيں سي دکھائي دينے لگي تھيں۔

آج اندو نے ايسا بندو بست کيا تھا کہ ان عيوب ميں ايک بھي چيز نظر نہ آتي تھي۔۔۔يوں بني ٹھني۔کسي کسائي وہ بے حد حسين لگ رہي تھي۔۔۔۔۔يہ نہيں ہو سکتا۔۔۔۔۔مدن نے سوچا اور اسے ايک دھچکا سا لگا، اس نے پھر ايک بار مڑ کر اندو کي طرف ديکھا۔۔۔جيسے گھوڑي بھي تھي اور لال لگام بھي۔۔۔۔۔يہاں جو غلط خط لگے تھے، شرابي کي آنکھوں کو نہ ديکھ سکے۔۔۔۔اندو سچ مچ خوبصورت تھي، آج بھي پندرہ سال کے بعد پھولاں، رشيڈہ، مسز رابرٹ اور ان کي بہنيں ان کے سامنے پاني بھرتے تھيں۔۔۔۔پھر مدن کو رحم آنے لگا اور ايک ڈر۔۔۔۔۔

آسمان پر کوئي خاص بادل بھي نہ تھے، ليکن پاني پڑنا شروع ہوگيا ادھر گھر کي کنگا طغياني پر تھي اور اس کا پاني کنارون سے نکل کر پوري ترائي اور اس کے آس پاس بسنے والے گاؤں اور قصبوں کو اپني لپيٹ ميں لے رہا تھا، ايسا معلوم ہوتا تھا کہ اسي رفتار سے اگر پاني بہتا رہا تو اس ميں کيلاش پربت بھي ڈوب جائےگا۔۔۔۔ادھر بچي رونے لگي،ايسا رونا جو وہ آج تک نہ روئي تھي۔

مدن نے اس کي آواز سن کر آنکھں بند کرليں، کھوليں تو وہ سامنے کھڑي تھي، جو ان عورت بن کر۔۔۔۔نہيں نہيں، وہ اندو تھي، اپني ماں کي بيٹي، اپني بيٹي کي ماں، جو اپني آنکھوں کے دنيا لے سے مسکرائي، اور ہونٹوں کے کونے سے ديکھنے لگي۔

اسي کمرے ميں جہاں ايک دن ہر مل کي دھوني نے مدن کو چکرا ديا تھا، آج اس کي خوشبو نے بوکھلا ديا تھا، ہلکي بارش تيز بارش سے زيادہ خطرناک ہوتي ہے، اس لئے باہر کا پاني اوپر کسي کڑي ميں سے رستا ہو اندو اور مدن کے بيچ ٹپکنے لگا۔۔۔ليکن مدن تو شرابي ہو رہا تھا، اس نشے ميں اس کي آنکھيں سمٹنے لگيں اور تنفس تيز ہو کر انسان کا تنفس نہ رہا۔

 

اندو۔۔۔۔مدن نے کہا، اور اس کي آواز شادي کي رات والي پکار سے دوسرا اوپر تھي۔۔۔۔۔اور اندو نے پرے ديکھتے ہوئے کہا، جي اور اس کي آواز دو سر نيچے تھي، پھر آج چاندني کے بجائے اماوس تھي۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ مدن اندو کي طرف ہاتھ بڑھاتا اندو خود ہي مدن سے لپٹ گئي، پھر مدن نے ہاتھ سے اندو کي تھوڑی اوپر اٹھائي، اور ديکھنے لگا، اس نے کيا کھويا، کيا پايا ہے؟ اندو ايک نظر مدن کے سياہ ہوتے ہوئے چہرے کي طرف پھينکي اور آنکھيں بند کرليں۔يہ کيا؟ مدن نے چونکتے ہوئے کہا، تمہاري آنکھيں سوجي ہوئي ہيں۔

يوں ہي، اندو نے کہا بچي کي طرف اشارہ کرتے ہوئے بولي، رات بھر جگايا ہے اس چڑيل ميانے۔

بچي اب تک خاموش ہوچکي تھي، گويا وہ دم سادہے ديکھ رہي تھي، اب کيا ہونے والا ہے، آسمان سے پاني پٹنا بند ہو گيا تھا؟واقعي آسمان سے پاني پڑنا بند ہوگيا تھا، مدن نے پھر غور سے اندو کي طرف ديکھتے ہوئے کہا، ہاں مگر يہ آنسو؟خوشي کے ہيں، اندو نے جواب ديا،آج کي رات ميري ہے۔

 

ايک عجيب سي ہنستے ہوئے مدن سےچمٹ گئي، ايک تلذذ کے احساس سے مدن نے کہا، آج برسوں کے بعد ميرے من کي مراد پوري ہوئي اندو، ميں نے ہميشہ چاہا تھا۔۔۔۔ليکن تم نے کہا نہيں،اندو بولي، ياد ہے شادي کي رات ميں نے تم سے کچھ مانگا تھا؟ہاں، مدن بولا، اپنے دکھ مجھے دے دو۔تم نے کچھ نہيں مانگا مجھ سے۔۔۔۔

ميں نے؟ مدن حيران ہوتے ہوئے کہا، ميں کيا مانگتا؟ ميں تو جو کچھ مانگ سکتا تھا، وہ سب تم نے دےديا، ميرے عزيزوں سے پيار۔۔۔۔۔۔۔ان کي تعليم، ان کا بياہ شادياں۔۔۔۔۔۔۔يہ پيارے پيارے بچے۔۔۔۔يہ سب کچھ تو تم نے دے ديا۔ميں بھي يہي سمجھتي تھي، اندو بولي، ليکن اب جا کر پتا چلا کہ ايسا نہيں۔کيا مطلب؟کچھ نہيں، پھر اندو نے رک کر کہا، ميں نے بھي ايک چيز رکھ لي ہے۔کي چيز رکھ لي؟اند وکچھ دير چپ رہي اور پھر اپنا منہ پرے کرتے ہوئے بولي، اپني لاج۔۔۔۔۔اپني خوشي۔۔۔۔۔اس وقت تم بھي کہہ ديتے اپنے سکھ مجھے دے دو۔۔۔تو ميں۔۔۔۔۔اور اندو کا گلا رندھ گيا۔اور کچھ دير بعد بولي، اب تو ميرے پاس کچھ بھي نہيں رہا۔

مدن کے ہاتھوں کي گرفت ڈھيلي پڑگئي، وہ زمين ميں گڑ گيا، يہ ان پڑھ عورت؟۔۔۔۔کوئي رٹا ہوا فقرہ۔۔۔۔؟ نہيں تو۔۔۔يہ تو ابھي سامنے ہي زندگي کي بھٹي سے نکلا ہے ابھي تو اس پر برابر ہتھوڑے پڑ رہے ہيں، اور آتشيں برادہ چاروں طرف اڑ رہا ہے۔۔۔۔کچھ دير بعد مدن کے ہوش ٹھکانے آئے، اور بولا، ميں سمجھ گيا اندو پھر روتے ہوئے مدن اور اندو ايک دوسرے سے لپٹ گئے۔۔۔اندو نے مدن کا ہاتھ پکڑا اور اسے ايسي دنياؤں ميں لے گئي جہاں انسان مر کر ہي پہنچ سکتا ہے۔۔۔۔۔۔