• صارفین کی تعداد :
  • 1772
  • 6/21/2008
  • تاريخ :

ہند ،امریکہ ایٹمی معاہدہ ، کانگریس و بائیں بازوکے درمیان دوریاں   

  

ہند امریکہ

ہندوستان میں ہندامریکہ ایٹمی معاہدے کولے کرحکومت میں شامل سب سے بڑی جماعت کانگریس اورحکومت کی  باہرسے رہ کرحمایت کرنے والی بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان دوری بڑھتی جارہی ہے ۔ساتھ ہی کانگریس کی کوشش ہے کہ وہ کسی بھی طرح سے اس معاہدے کوعملی جامہ پہنا دے ۔اس سلسلے میں آج وزیرخارجہ پرنب مکھرجی نے وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی ہے ۔دوسری طرف یوپی اے میں شامل جماعتوں نے جہاں اس معاہدے کی حمایت کی ہے وہیں ان جماعتوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس معاہدے کی وجہ سے کسی بھی صورت میں قبل ازوقت انتخابات کے حق میں نہيں ہیں ۔ادھر بائیں بازوکی جماعتوں نے ایک  بارپھر اپنا رخ کڑاکرتے ہوئے کہا کہ اگرحکومت اس معاہدے کولے گرآگے کی سمت قدم بڑھاتی ہے تووہ اپنی حمایت واپس لے ليں گی کمیونسٹ پارٹی آف مارکسیسٹ ،کمیونسیٹ پارٹی آف انڈیا ، آرایس پی اورفاروڈ بلاک سبھی جماعتوں نے حکومت پرواضح  کردیا ہے کہ وہ اس معاہدے کی قطعی اجازت نہیں دیں گی ۔ہندوستان کے اخبارات اورذرائع ابلاغ میں اس طرح کی بھی خبريں آرہی ہيں کہ ہند امریکہ ایٹمی معاہدے کولے کراب کانگریس کی صدرسونیا گاندھی اوروزیرا‏‏‏عظم منموہن سنگھ کے درمیان بھی  اختلافات پیداہوگئےہيں اوراسی وجہ سے کانگریس کے سینئر رہنما اورمرکزی وزیراطلاعات ونشریات پریہ رنجن داس منشی کواس بارے میں صفائی دینی پڑی کہ ہند امریکہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں جس قدر وزیرا‏عظم منموہن سنگھ سنجیدہ ہیں اتنا ہی سونیا گاندھی بھی اس معاہدے کولے کر سنجیدہ ہیں اوراس بارے میں دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی خبریں بے بنیادہيں ۔

دریں اثناء یوپی اے حکومت ميں شامل ایک اورجماعت نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نے جہاں اس معاہدے کی حمایت کی ہے وہیں اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ کانگریس کواس معاہدہ کواپنے لئے انا کا مس‏ئلہ نہيں بنالینا چاہئے ۔این سی پی کے جنرل سکریٹری طارق انورنے ریڈیوتہران سے اپنی گفتگومیں کہا کہ کانگریس کواس بات کوبھی اپنے مدنظر رکھنا چاہئے کہ اس معاہدے کوعملی شکل دینے کی صورت میں نہ صرف یہ کہ اس کی زیرقیادت حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا بلکہ اس کوآئندہ انتخابات میں بھی بائيں بازوکی جماعتوں کی حمایت سے ہاتھ دھونا پڑے گا ۔انھوں نے کہا کہ یوپی اے میں شامل جماعتیں اس حق میں نہیں کہ قبل ازوقت انتخابات کرائے جائيں ۔

ہندوستان میں مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بائيں بازواورکانگریس دونوں ہی اس مسئلہ پراپنے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہيں لیکن کانگریس کے لئے بائیں بازو کی اجازت کے  بغیرامریکہ کے ساتھ اس معاہدے کوآگے بڑھانا آسان نہیں ہوگا ۔

بائیں بازوکی جماعتوں کا  کہنا ہےکہ امریکہ کے ساتھ اس معاہدے کی وجہ سے ملک کی آزاد خارجہ پالیسی اورخودمختارایٹمی پالیسی کوشدیدنقصان پہنچے گا اورہم اس چیزکوہرگزبرداشت نہيں کریں گے ۔ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی کہا ہے کہ وہ بھی امریکہ کے ساتھ موجودہ شکل میں اس معاہدے کی مخالف ہے اس کا بھی کہنا ہے  کہ اس کی وجہ سے ملک کی آزادخارجہ پالیسی امریکہ کے زیراثر آجائے گی ۔

ہندامریکہ ایٹمی معاہدے کا جا‏ئزہ لینے کے لئے آئندہ پچیس تاريخ کویوپی اے اوربائیں بازو کی جماعتوں کی کوآرڈنیشن کمیٹی کا اجلاس ہونےوالاہے جسے کافی اہم مانا جارہا ہے اس سلسلے ميں چند روزقبل بھی اجلاس ہونے والاتھا مگربائيں بازوکے سخت موقف کودیکھتے ہوئے کانگریس نے اجلاس پچیس تاریخ تک ملتوی کردیاتھا .