• صارفین کی تعداد :
  • 3699
  • 1/23/2008
  • تاريخ :

تیسری جمادی الثانی

 

گل شقایق

 3 جمادی الثانی 11 ھ ق کو رسول اکرم (ص) کی صاحب زادی اور حضرت علی (ع) کی شریک حیات حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی شہادت ہوئی حضور اکرم (ص) کی بعثت کو 5 سال گزرے تھے کہ حضور (ص) کی محبوب ترین زوجہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے بطن سے ایک لڑکی پیدا ہوئی ۔ حضور (ص) نے لڑکی کا نام فاطمہ رکھا ۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی بہت مختصر لیکن عظیم اخلاقی اور معنوی درس سے معمور تھی ۔ آپ نے مکتب وحی کی پروردہ کی حیثیت سے اپنے والد حضرت رسول اکرم (ص) کی رہنمائی میں عظیم الہی معارف سے آشنائی حاصل کی اور کمال و معنویت کے اعلی ترین مدارج کی حامل ہوئیں ۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے حضرت علی (ع) کے ساتھ جو تقوی و عدالت کے مظہر تھے شادی کے بعد حضرت علی (ع) کے مہر و محبت سے پر گھر میں بھی ایک ذمہ دار بیوی ، مہربان ماں اور نمونہ عملی انسان کی حیثیت سے اہم کردار ادا کیا ۔ آپ اپنی پوری حیات پاک میں سخاوت و ایثار ، صبر و استقامت ، قناعت اور عبادت الہی کا مظہر تھیں اور ہمیشہ محتاجوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتی رہیں ۔ حضرت امام حسن (ع) اور حضرت امام حسین (ع) جیسی عظیم اور تاریخ ساز شخصیات نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی آغوش میں تربیت پائی ۔ سامعین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے یوم شہادت کی مناسبت سے ان کا ایک زرین قول آپ سب کی خدمت میں پیش کررہے ہیں ۔ آپ فرماتی ہیں : جو شخص بھی خدا اور قیامت پر یقین رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ اپنی زبان سے ہمیشہ اچھی اور مناسب بات کیا کرے یا پھر خاموشی اختیار کرے کیونکہ خداوند کریم نیک ، بردبار اور پاکدامن افراد کو دوست رکھتاہے اور بدزبان اور چاپلوس افراد سے بیزار ہے ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

152 سال قبل 3 جمادی الثانی 1273 ھ ق کو مسلمان محقق اور عالم دین میرسید حسن مدرس اصفہانی نے 63 سال کی عمر میں وفات پائی ۔ وہ 1210 ھ ق میں اصفہان میں پیدا ہوئے تھے اور ابتدائی دینی علوم حاصل کرنے کے بعد اپنے دور کے جید علما سے کسب فیض کیا ۔ انہوں نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اصفہان میں درس و تدریس کا آغاز کیا اور ایسا علمی مقام حاصل کیا کہ علما اور دینی علوم کے محققین ان کے درس میں شرکت کے لئے اصفہان آتے تھے ۔ میر سید حسن مدرس اصفہانی کی کتابوں میں جوامع الکلام خاص طور سے قابل ذکر ہے ۔