• صارفین کی تعداد :
  • 3779
  • 1/1/2008
  • تاريخ :

بچوں کا سوداگر

گل

آ گیا بھئی آ گیا --- بچوں کا سوداگر آگیا ----- ہے کوئی بچہ بیچنے والا؟

دادی اماں نے اچانک یہ الفاظ جو منہ سے نکالے تو ہم دونوں بھائی ڈر گئے ، مگر وہ پان چبائے جاتی تھیں ، مُسکرائے جاتی تھیں اور یہ الفاظ دُہراتی جاتی تھیں ------- آ گیا بھئی آ گیا ----- بچوں کا سوداگر آگیا---- ہے کوئی بچہ بیچنے والا؟

بھائی جان نے پُوچھ لیا، کیا دادی اماں؟ کیا؟

اور دادی اماں پھر وہی الفاظ دُہرانے لگیں، آ گیا بھئی آگیا ، بچوں کا سوداگر آگیا ، ہے کوئی بچہ بیچنے والا؟

میں نے چُپکے سے بھائی جان کے کان میں کہا،

دادی اماں پاگل ہو گئیں

مگر بھائی جان نے غصے سے منہ بنا کر مجھ کو گھورا اور انہوں نے دادی اماں سے پھر پوچھا ،

کون سوداگر دادی اماں ؟ کیسا بچہ دادی اماں؟

اور دادی اماں قہقہہ لگا کر بولیں ،

کیا ڈر گئے؟

میں نے جھٹ جواب دیا ،

جی !

وہ ایک بار پھر کھلکھلا کر ہنسیں ۔ کہنے لگیں ،

تم کیوں پریشان ہو گئے ہو؟ تم اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرو ۔۔۔ تمہیں کوئی نہیں بیچ رہا ۔۔۔ تمہیں کوئی نہیں خرید رہا۔۔۔ ارے بھئی مجھے تو وہ سوداگر یاد آگیا ۔۔۔ مصر والا !

میں نے پوچھا ، کون مصر والا ؟

کہنے لگیں ،

ہزاروں سال قبل کی بات ہے ۔ ملک مصر میں ایک سوداگر رہتا تھا۔ وہ بچوں کے خریدنے اور بیچنے کا کاروبار کرتا تھا ۔

میں نے پوچھا ،

زندہ بچوں کے ۔۔۔۔ ؟

دادی اماں نے جواب دیا،

اور پھر کیا مردہ بچوں کے ؟ وہ کیوں خریدتا اور کون لیتا؟

یہ سوداگر افریقہ جاتا ۔۔۔ افریقہ کالے لوگوں کا دیس ہے۔ وہ افریقہ سے بچے خریدتا ، مصر اور فلسطین جا کر ان بچوں کو بیچ دیتا ۔ سوڈان ایک ملک ہے ۔ جو براعظم افریقہ کا ایک حصہ ہے اور مصر سے قریب ہے ۔

ایک بار یہ سوداگر سوڈان پہنچا تو وہاں اس نے یہی صدا لگائی،

آ گیا بھئی آ گیا ، بچوں کا سوداگر آ گیا ۔ ہے کوئی بچہ بیچنے والا؟

میں نے پوچھا ،

پھر کیا ہوا؟

دادی اماں نے جواب دیا،

پھر یہ ہوا کہ ایک کالی عورت اپنے گھر سے نکلی۔ اس کا گھر کیا تھا چار بانس پر گھاس پھونس کی چھت پڑی تھی۔ اس کے ارد گرد مٹی ، پتھر اور کانٹوں کی ایک باڑھ لگی تھی۔ یہی اس کی چار دیواری تھی ۔ اس نے سوداگر کو دیکھا ۔ پاس بلا کر ایک لڑکا دکھایا ۔ یہ لڑکا چار دیواری سے باہر کھیل رہا تھا ۔ عورت نے اس لڑکے کے دام طے کئے ، سوداگر نے دام چکائے ۔ لڑکے کو اُٹھایا۔ پاس پڑوس کے مرد عورتیں دیکھتے رہے ۔ لڑکا چیختا رہا اور سوداگر اسے لے کر یہ جا وہ جا ! ۔