• صارفین کی تعداد :
  • 5467
  • 12/17/2007
  • تاريخ :

دَاستانِ طبي اميرالمومنين

غنچه سفيد

                          

قضايائے اميرالمومنين ميں سے صرف دو قضئے يہاں نقل کئے جا رہے ہيں۔ جن کوعُلماء فريقين نے نقل کيا ہے۔ اسعد ابنِ ابراہيم اودبيلي مالکي جو علمائے اہلسنت سے ہيں، وہ عمار ابن ياسِر اور زيد ابن اَرقم سے روايت کرتے ہيں کہ اميرالمومنين علي ابن ابي طالب ايک روز ايوانِ قضا ميں تشريف فرما تھے ہم سب آپ کي خدمت ميں موجود تھے کہ ناگہاں ايک شوروغُل کي آواز سُنائي دي۔ اميرالمومنين نے عمّا ر سے فرمايا کہ باہر جا کر اِس فريادي کو حاضر کرو۔ عمار کہتے ہيں ميں باہر گيا اور ايک عورت کو ديکھا جو اونٹ پر بيٹھي فرياد کر رہي تھي۔ اور خدا سے کہ رہي تھي ۔ اے فرياد رسِ بيکساں ! ميں تجھ سے انصاف طلب ہوں اور تيرے دوست کو تجھ تک پہونچنے کا وسيلہ قرار دے رہي ہوں۔ مجھے اس ذِلت سے نجات دے اور تو ہي عِزّت بخشنے والا ہے۔ ميں نے ديکھا کہ ايک کثير جماعت اُونٹ کے گِرد شمشير برہنہ جمع ہے۔ کچھ لوگ اس کي موافقت اور حمايت ميں اور کچھ اس کي مخالفت ميں گفتگو کر رہے ہيں۔ ميں نے اُن سے کہا ، امير المومنين علي ابن ابي طالب کا حکم ہے کہ تم لوگ ايوانِ قضا ميں چلو۔ وہ سب لوگ اس عورت کو لے کر مسجد ميں داخل ہوئے۔ ايک مجمع کثير تماشائيوں کا جمع ہو گيا۔ اميرالمومنين کھڑے ہو گئے۔ اور حمد و ثناء خدا و ستائشِ محمد مصطفٰي کے بعد فرمايا! بيان کرو کہ کيا واقعہ ہے اور يہ عورت کيا کہتي ہے۔ مجمع ميں سے ايک شخص نے کہا، يا اميرالمومنين ! اِس قضيہ کا تعلق مجھ سے ہے۔ ميں اِس لڑکي کا باپ ہوں، عرب کے نامي گرامي معزز و متموّل مجھ سے اِسکي خواستگاري کرتے تھے مگر اِس نے مجھے ذليل کر ديا۔اميرالمومنين نے لڑکي کي طرف ’رُخ ‘ کيا اور فرمايا کہ جو کچھ تيرا باپ کہتا ہے کيا يہ سچ ہے؟ لڑکي روئي اور چِلائي، يا حضرت! پروردگار کي قَسم ميں اپنے باپ کي بے عزتي کا باعث نہيں ہوئي ہوں۔ بوڑھا باپ آگے بڑھا اور بولا يہ لڑکي غلط کہتي ہے۔ يہ بے شوہر قانوني کے حاملہ ہے۔ اميرالمومنين لڑکي کي طرف متوجہ ہوئے اور فرمايا کہ کيا تو، حاملہ نہيں ہے اور کيا تيرا باپ جھوٹ بول رہا ہے۔ آقا يہ سچ ہے کہ ميں شوہر نہيں رکھتي ليکن آپ کے حق کي قسم، ميں کسي خيانت کي مرتکب نہيں ہوں۔ پھر اميرالمومنين نے کوفہ کي ايک مشہور ’دايہ‘ کو بُلوايا اور کہا کہ اس کو پَسِ پردہ لے جا کر جائزہ لو اور مجھے صحيح حالات سے مطلع کرو۔ ’دايہ ‘ لڑکي کو پسِ پردہ لے گئي بعدِ تحقيق خدمت ِ اميرالمومنين ميں نہايت حيرت سے عرض کرنے لگي۔ مولا! يہ لڑکي بے گناہ ہے کيونکہ ’باکرہ‘ ہے کسي مرد سے ہمبستر نہيں ہوئي مگرپھر بھي حاملہ ہے۔ اميرالمومنين لوگوں کي طرف متوجہ ہوئے اور فرمايا، تم ميں سے کوئي شخص ايک برف کا ٹکڑا کہيں سے لا سکتاہے۔ لڑکي کے باپ نے کہا کہ ہمارے شہر ميں اس زمانہ ميں بھي برف بکثرت ملتا ہے مگر اس قدر جلد وہاں سے نہيں آ سکتا۔۔! اميرالمومنين نے بہ طريقِ اعجاز ہاتھ بڑھايا اور قطعہ برف ہاتھ ميں تھا۔’دايہ‘ سے فرمايا کہ لڑکي کو مسجد سے باہر لے جاوٴ اور ظَرف ميں بَرف رکھ کر لڑکي کو برہنہ اس پر بٹھا دو اور جو کچھ خارج ہو مطلع کرو۔ ’دايہ‘ لڑکي کو تنہائي ميں لے گئي، برف پر بٹھايا، تھوڑي دير ميں ايک سانپ خارج ہوا۔ ’دايہ ‘ نے لے جا کر اميرالمومنين کو دِکھلايا۔ لوگوں نے جب ديکھا تو بہت حيران ہوئے۔ پھر اميرالمومنين نے لڑکي کے باپ سے فرمايا کہ تيري لڑکي بے گناہ ہے۔ کيونکہ ايک کيڑہ تالاب ميں اس کے نہاتے وقت ’داخل رحم‘ ہو گيا۔ جس نے اندر ہي اندر پرورش پا کر يہ صورت اختيار کي ( يہ تھي بغير ايکسرے کے طبيبِ روحاني و جسماني کي مکمل تشخيص) داستان ديگر:۔ اِس واقعہ کو يا فعي نے اپني مشہور کتاب روضة الرياحين ميں صفحہ ۴۲ پر لکھا ہے۔ ايک مرتبہ اميرالمومنين علي ابن ابي طالب، بصرہ کي ايک شاہراہ سے گذر رہے تھے ديکھا ايک مقام پر کثير مجمع ہے اور لوگ جوق در جوق چلے آ رہے ہيں ، آپ بھي بڑھے اور ديکھا کہ مجمع کے درميان ايک خوش پوش، خوش رو جوان ہے۔ لوگ شيشيوں ميں کوئي اپنا خون، کوئي اپنا ادرار(پيشاب) لئے اس کو دکھلا رہے ہيں۔ وہ ہر ايک کو اُس کي مرض کے مطابق دوا تجويز کررہا ہے۔ لوگوں سے معلوم ہوا کہ يہ بڑا مشہور و معروف حاذِق طبيب ہے۔ اميرالمومنين آگے بڑھے، سلام کيا، اور فرمايا! کيا دردِ گناہ کي بھي کوئي دوا آپ کے پاس ہے؟ طبيب:۔ (بغور ديکھ کر بولا) گناہ بھي کوئي درد يا بيماري ہے؟ اميرالمومنين:۔ نے فرمايا، ہاں۔ گناہ بڑي مُہلک تَرين بيماري ہے طبيب:۔ تا دير سر جھکائے سوچتا رہا، بعد تامل کہا۔ اگر گناہ بيماري ہے تو کيا کوئي اسکا علاج آپ کے پاس ہے؟ اميرالمومنين:۔ بيشک ميں گناہ کا علاج جانتا ہوں ا ور درد کي دوا رکھتا ہوں۔ طبيب:۔ ذرا ميں بھي سنوں کہ اس کي کيا دوا ہے۔ اور کون سا نسخہ ہے جس کے ذريعہ آپ اسکا علاج کرتے ہيں۔ اميرالمومنين:۔ (طبيب سے فرمايا) اچھا اُٹھو اور آوٴ، ذرا ميرے ہمراہ ’باغِ ايمان ميں چلو، وہاں پہنچ کر ’نيت کے درخت کے کچھ ريشے۔ دانہ پشيماني قدرے۔برگِ تدبر قدرے۔ تخم پرہيزگاري قدرے۔ ثمر فہم قدرے۔ شاخہائے يقين قدرے۔ مغز اِخلاص قدرے۔ پوست سعئي قدرے۔ زہر مُہرہ تواضع مختصرً۱ اور توبہ کا پچھلا حصہ لو ترکيب:۔اِن سب دواوٴں کو باہوش و حواس اِطمينان قلب سے توفيق کے ہاتھوں اور تصديق کي اُنگليوں سے تحقيق کے پيالہ ميں ڈالو۔ اور آنکھوں کے پاني ميں بھگو دو۔ کافي دير کے بعد پھر سب کو اميد کي پتيلي (ديگچي) ميں ڈال کر شوق کي آگ ميں جوش دو۔ اس قدر کہ مادئہ فاسدہ فنا ہو جائے اور خالص چيز رہ جائے۔ اِس کے بعد تسليم و رضا کي طشتري ميں رکھ کر توبہ و استغفار کي پھونکوں سے ٹھنڈا کرو۔ پھر اسے ايسي جگہ بيٹھ کر جہاں سوائے خدا کے اور کوئي نہ ہو ۔ پي لو‘ ۔ يہ ہے وہ دوا جو گناہ کے درد کو دفع اور مصيبت کے زخموں کو بھر ديتي ہے۔ پھر کوئي درد يا زخم کا اثر باقي نہيں رہتا۔ طبيب يہ سن کر حيران ہو گيا۔ کچھ دير خاموش رہ کر وہ آگے بڑھ کر اميرالمومنين کے قدموں پر گر گيا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ پيغمر اسلام خاتم المرسلين جو اپني زمانہ حيات بابرکات ميں امراض روحاني و جسماني کے حقيقي طبيب تھے۔ جب بہ اشارہ حبيب محبوب بزم لاھوتي کي طرف مائل ہوا تو لطفِ خداوندي کا تقاضہ ہوا کہ اپنے بندوں کو بے سرپرست نہ چھوڑے، چنانچہ غروب آفتاب سے قبل ہي چند ستارونکي روشني کا انتظام فرمايا تا کہ بندوں کے روحاني اور جسماني امراض کا مداوا ہوتا رہے، ہر دور کے اسلامي دانشوروں نے آئمہ طاہرين کے طبي فرمان کو بھي کتابي صورت ميں اکثر پيش کيا ہے ازاں جملہ طب النبي۔ طِب الرضا۔ طب الائمہ ہے جس ميں طب الرضا زيادہ معروف ہے۔ جو امام علي رضا عليہ السلام نے مامون رشيد ( خليفہ بني عباسيہ) کي خواہش پر تحرير فرمائي جس کو مامون نے سونے کے پاني سے لکھوايا۔ جس کي وجہ سے کتاب نے رسالہ ذہبيہ نام پايا۔ مامون کے دور ميں اگرچہ مشہور و معروف اطباء موجود تھے۔ مگر مامون رشيد ہميشہ امام علي رضا عليہ السلام کي طرف رجوع کرتا ۔