• صارفین کی تعداد :
  • 658
  • 1/18/2018 4:58:00 PM
  • تاريخ :

اسلام کی نظر میں انسانی حقوق

ہردورکے تمام انسانوں کے لیے اس وقت دین اسلام کا کمال اوراس کا جامع ہونا ظاہرہوتا ہےکہ جب ہم انسانی حقوق کے بارے میں دینی تعلیمات کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ بنابریں یہاں پراس بارے میں کچھ روایات کا جائزہ لیا جاتا ہے:

  
اسلام کی نظر میں انسانی حقوق


ہردورکے تمام انسانوں کے لیے اس وقت دین اسلام کا کمال اوراس کا جامع ہونا ظاہرہوتا ہےکہ جب ہم انسانی حقوق کے بارے میں دینی تعلیمات کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ بنابریں یہاں پراس بارے میں کچھ روایات کا جائزہ لیا جاتا ہے:

دینی بھائیوں کےحقوق کی مراعات کرنا

ایک شخص نےامیرالمومنین علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: اے امیرالمومنین، مجھے اپنے بھائیوں کےبارے میں خبردیں۔  توآپ نے فرمایا: تیرے بھائی دو قسم کے ہیں: قابل اعتماد بھائی اور غیرقابل اعتماد بھائی۔  قابل اعتماد بھائی، انسان کے جسم کے ہاتھوں اورخاندان کی طرح ہیں اوراس طرح کے بھائی، نایاب ہوتے ہیں۔ لیکن غیرقابل اعتماد بھائی وہ ہیں کہ جونہی ان سے استفادہ کرتے ہو توان سے اپنا تعلق مت توڑو اوران کی طاقت سے زیادہ ان سے طلب نہ کرو۔ بلکہ تمہارے ساتھ وہ جو نرمی اورمیٹھی زبان سے پیش آتے ہیں تو تم بھی ان کے ساتھ نرمی اورمیٹھی زبان سے پیش آو۔(الکافی، ج2، س248- 249)۔

مظلومین کےحقوق کی مراعات کرنا

زرارہ کہتے ہیں کہ میں بکیرکے ہمراہ امام باقرعلیہ السلام کی خدمت میں پہنچا اورعرض کیا: ہم افراد کے ساتھ دوستی میں کچھ معیارقراردیتے ہیں: جو بھی ولایت کےمسئلے میں ہمارے ساتھ ہو خواہ وہ علوی ہو یا غیرعلوی تو ہم ان سے دوستی کرتے ہیں اورجو بھی ہمارے مخالف ہو ہم اس سے اظہاربرائت کرتے ہیں۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: اے زرارہ، تیری بات سے زیادہ اللہ کا کلام زیادہ سچا ہے؛ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:«إِلاَّ الْمُسْتَضْعَفينَ مِنَ الرِّجالِ وَ النِّساءِ …»  (سوره نساء، آیه 98)۔

ہمسائیوں کے حقوق

امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: اس کی عدم موجودگی میں اس کی حفاظت کرو اوراس کی موجودگی میں اس کا احترام کرو، مظلومیت کی حالت میں اس کی مدد کرو، اس کےعیوب کو ظاہرنہ کرو، جب بھی اس کی برائی دیکھو تو اس پرپردہ ڈالو، جب بھی تمہیں معلوم ہوکہ وہ تمہاری خیرخواہی کو قبول کرلےگا تو خفیہ حالت میں اس کو نصیحت کرو، سختیوں کے وقت اسے تنہا مت چھوڑو، اس کی لغزشوں اورگناہوں کومعاف کردواور اس سے کرم کے ساتھ پیش آو) (الفقیه، ج2، ص623)

امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا: ہمسایہ سےحسن سلوک اسے آزارواذیت پہنچانےکو ترک کرنا نہیں ہے بلکہ ہمسایہ کے آزارواذیت پرصبروشکیبائی کرنا ہے۔ ( الکافی، ج2، ص668)۔