• صارفین کی تعداد :
  • 71
  • 1/8/2018 3:12:00 PM
  • تاريخ :

پاکستان میں داعش کا اثر بڑھ رہا ہے: رپورٹ

پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (پی آئی پی ایس) کی جانب سے پیش کردہ ’پاکستان سیکیورٹی رپورٹ - 2017‘ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند تنظیم داعش کا اثر پاکستان میں بڑھ رہا ہے۔

 
پاکستان میں داعش


پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (پی آئی پی ایس) کی جانب سے پیش کردہ ’پاکستان سیکیورٹی رپورٹ - 2017‘ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند تنظیم داعش کا اثر پاکستان میں بڑھ رہا ہے۔

پاکستان تھنک ٹینک کی جانب سے جاری اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران دہشت گردی کی 6 بڑی کارروائیاں ہوئیں، جن میں 153 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ ان حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی۔

پی آئی پی ایس کی جانب سے پیش کی گئی اس رپورٹ کو مختلف ذرائع، انٹرویوز اور تحاریر کے ذریعے تیار کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ داعش پاکستان میں خصوصاً شمالی سندھ اور بلوچستان میں اپنے قدم جما رہی ہے۔

پی آئی پی ایس کے سینئر پروجیکٹ منیجر محمد اسماعیل خان نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال داعش نے 6 خطرناک دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کی تھی جن میں سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین عبد الغفور حیدری کی گاڑی پر حملہ، سہون میں لال شہباز قلندر کے مزار پر حملہ، لسبیلہ میں شاہ نورانی کے مزار پر حملہ، کوئٹہ میں چرچ حملہ، فتح پور میں درگاہ پیر رکھیال شاہ پر حملہ اور دو چینی باشندوں کے اغوا اور قتل کے واقعات میں شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے کیوںکہ مستقبل میں ممکن ہے کہ یہ غیر ملکی جنگجو مشرق وسطیٰ کے بعد پاکستان کو اپنا نشانہ بنائیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ گزشتہ سال سے دہشت گردی کے واقعات میں 16 فیصد کمی آنے کے باوجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس کے اتحادی تنظیمیں ملک کے لیے خطرہ ہیں، اس کے علاوہ بلوچستان میں کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) بھی ملک کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سب سے خطرناک امر یہ ہے کہ بلوچستان اور سندھ کے شمالی علاقوں میں داعش تیزی سے قدم جما رہی ہے جہاں دونوں ہی صوبوں میں خطرناک ترین حملوں کی ذمے داری دیہشت گرد گروپ کی جانب سے قبول کی گئی۔

رپورٹ میں انسداد دہشت گردی منصوبے پر نظر رکھنے والے پارلیمانی رہنماؤں کو تجویز دی گئی کہ ان حقائق کی روشنی میں نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) پر نظرثانی کرتے ہوئے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2017 میں دہشت گردوں، باغیوں اور فرقہ واریت پھیلانے والی تنظیموں کی جانب سے 64 اضلاع میں 370 دہشت گردی کے واقعات سامنے آئے جن میں 24 خود کش دھماکے شامل ہیں۔

مذکورہ واقعات میں 815 افراد ہلاک اور 1 ہزار 736 زخمی ہوئے تھے، ان اعدادو شمار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 16 فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں بھی 10 فیصد کمی ہوئی۔

ان حملوں میں سے 213 حملے ٹی ٹی پی، اس کی ذیلی تنظیم جماعت الاحرار اور دیگر تنظیموں کی جانب سے کیے گئے جس میں 186 افراد ہلاک ہوئے۔

تاہم بلوچستان اور سندھ کی کچھ باغی تنظیموں کی جانب سے 138 حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں 140 افراد ہلاک ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ فرقہ واریت کی بنیاد پر 19 دہشت گردی کے حملے کیے گئے جن میں 71 افراد ہلاک اور 97 زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ 2016 کے مقابلے میں افغان، ایران اور بھارتی سرحد سے 2017 میں حملوں کی شرح میں 131 فیصد اضافہ ہوا جس میں کل 171 حملے ہوئے جس کے نتیجے میں 188 افراد ہلاک اور 348 زخمی ہوئے۔

علاوہ ازیں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے 2017 میں کیے گئے 75 آپریشنز میں 524 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ 2016 میں 809 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق قومی سیکیورٹی کے مشیر لیفٹننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ سے کیے گئے انٹرویو میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ نیشنل سیکیورٹی پالیسی کو مرتب کر کے اسے حکومت میں اندرونی سطح تک تقسیم کر دیا گیا اور اس پالیسی کو اس سال نافذ العمل کیا جائے گا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ قومی داخلی سیکیورٹی پالیسی (این ائی سی پی) کو بھی عالمی اور علاقائی اعتبار سے زیر غور لایا جارہا ہے جس میں پاک چین اور امریکا کے تعلقات پر بات کی جائے گی۔

رپورٹ میں کیے گئے ایک اور انٹرویو کے مطابق نیشنل کو آرڈینیٹر برائے قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی (نیکٹا) احسان غنی نے بتایا کہ این آئی سی پی پر نظر ثانی کی جارہی ہے جس کے مطابق ایک نئی پالیسی کے ساتھ ساتھ انسداد انتہا پسندی پر بھی ایک نئی پالیسی کا رواں سال اعلان کیا جائے گا۔

منبع: ڈان نیوز