• صارفین کی تعداد :
  • 647
  • 7/3/2016
  • تاريخ :

عالمي يوم قدس کے موقع پر ايراني عوام يا علي کہتے ہوئےفلسطينيوں کي حمايت ميں ميدان ميں آ گئے

عالمی یوم قدس کے موقع پر ایرانی عوام یا علی کہتے ہوئےفلسطینیوں کی حمایت میں میدان میں آ گئے


يا رسول اللہ (ص) اور يا علي (ع) کہنے والے ہي فلسطيني عوام کے سچے حامي اور مددگار ہيں شديد گرمي کے باوجود ايراني عوام نے نبي کريم (ص) اور اہلبيت(ع) کي تعليمات پر عمل کرتے ہوئے اور رہبر معظم انقلاب اسلامي کي آواز پر لبيک کہتے ہوئے عالمي يوم قدس کے موقع پرفلسطيني عوام کي حمايت ميں عظيم ريليوں ميں بھر پور شرکت کي اور فلسطينيوں کے ساتھ ہمدردي اور اظہار يکجہتي کے شاندار اور تاريخي جلوے پيش کئے ہيں۔

مہر خبررساں ايجنسي کي اردو سروس کے مطابق يا رسول اللہ اور يا علي کہنے والے ہي فلسطيني عوام کے سچے حامي اور مددگار ہيں شديد گرمي کے باوجود ايراني عوام نے نبي کريم (ص) اور اہلبيت(ع)  کي تعليمات پر عمل کرتے ہوئے  اور رہبر معظم انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي خامنہ اي کي آواز پر لبيک کہتے ہوئے عالمي يوم قدس کے موقع پر فلسطيني عوام کي حمايت ميں عظيم ريليوں ميں بھر پور شرکت کي اور فلسطينيوں کے ساتھ ہمدردي اور اظہار يکجہتي  کے شاندار اور تاريخي جلوے پيش کئے ہيں۔ دارالحکومت تہران سميت 850  سے زائد شہروں ميں عالمي يوم قدس اسلامي، اخلاقي  اور انساني جوش و جذبے کے تحت منايا گيا آج ايران کي فضائيں  فلسطين زندہ باد ،اسرائيل مردہ باد کے نعروں سے گونج اٹھيں۔ تہران ميں يوم قدس کي عظيم ريلي ميں عوام نے بھر پور شرکت کي اور اپنے ديني ، مذہبي اور اخلاقي جذبہ کا عملي ثبوت پيش کيا۔ ايران کے تمام صوبوں اور چھوٹے اور بڑے شہروں ميں بھي فلسطينيوں کي حمايت اور اسرائيل کي مخالفت  ميں عظيم ريلياں نکالي گئيں ۔ ريليوں ميں شريک روزہ دار مومنين نے اسرائيل کي غاصب اور جعلي حکومت کو صفحہ ہستي سے مٹانے اور بيت المقدس کو آزاد کرانے کے حق ميں نعرے لگائے۔ ايران کي فضائيں امريکہ مردہ باد، اسرائيل مردہ باد ، برطانيہ مردہ باد اور آل سعود مردہ باد کے فلک شگآف نعروں سے گونج اٹھيں۔ حضرت امام خميني (رہ) نے مسئلہ فلسطين کو ہميشہ زندہ رکھنے کے لئے جمعہ الوداع کو عالمي يوم قدس کے نام سے موسوم کيا تھا اور اس طرح انھوں نے امريکہ اور اس کے اتحادي عربوں کي فلسطين اور بيت المقدس کے بارے ميں سازشوں کو ہميشہ کے لئے دفن کر ديا۔ حضرت امام خميني (رہ) نے فرمايا: " يوم قدر در حقيقت يوم اسلام ہے" واضح رہے کہ مسئلہ فلسطين عالم اسلام کا سب سے اہم اور پہلا مسئلہ ہے فلسطيني عوام پر اسرائيل کے وحشيانہ مظالم کا سلسلہ گذشتہ 67 سالوں سے جاري ہے اسرائيل کي غاصب صہيوني حکومت فلسطيني بچوں ، عورتوں اور مردوں کو بڑي بے رحمي اور بے دردي  کے ساتھ قتل کررہي ہےجبکہ امريکہ اور اس کے عرب اتحادي ممالک فلسطينيوں پر ہونے والے اسرائيل کے بھيانک جرائم کا تماشا ديکھ رہے ہيں۔ امريکہ کے اتحادي عرب ممالک مسئلہ فلسطين کے حل ميں سب سے بڑي رکاوٹ بنے ہوئے ہيں جبکہ امريکہ کا اہم اتحادي عرب ملک سعودي عرب عالم اسلام ميں تفرقہ پيدا کرکے اور وہابي تکفيري دہشت گرد تنظيموں کي مدد کرکے اسرائيل کي بہت بڑي خدمت کر رہا ہے سعودي عرب نے شام اور عراق ميں وہابي تکفيري دہشت گردوں کے ذريعہ جنگ مسلط کرکے مسئلہ فلسطين عالم اسلام کي توجہ ہٹانے کي مذموم اور ناکام کوشش کي۔ عرب ممالک کي منافقت اور اسرائيل و اميرکہ کي حمايت عالم اسلام کے سامنے نماياں ہو چکي ہے سعودي عرب اور اسرائيل کے وحشيانہ جرائم اور اہداف ايک جيسے ہيں صہيوني اور سعودي دونوں عالم اسلام کے اصلي دشمن تھے اور ہيں۔