• صارفین کی تعداد :
  • 4167
  • 6/26/2016
  • تاريخ :

جو چپ رہے گي زبانِ خنجر لہو پکارے کا آستين کا (حصّہ سوّم )

جو چپ رہے گی زبانِ خنجر لہو پکارے کا آستین کا (حصّہ سوّم )


اس کي قبل موت منعقدہ نعت خواني کي محفلوں کو ديکھا اور يوںعجلت کے باوجود معلومات کا ايک قابل قدر ذخيرہ جمع کيا  اپنے چند ايک اہم امورات کو چھوڑ کر اور  اس مقولے کو نظر انداز کر کے يہ کالم تحرير کرنے بيٹھ گيا کہ
''آں کہ کشتہ جور شد از قبيل ما نيست'' يعني وہ جو تيغِ ظلم سے قتل ہوا اس کا تعلق ميرے قبيلے سے ہرگز نہيں ہے
بہر کيف جمع شدہ معلومات کے بناء پتہ چلا کہ امجد 1976 ميں پيدا ہوئے اور صابري خاندان کے چشم و چراغ تھے ايک ضعيف العمر ماں کے لاڈلے ايک باعفت خاتون کے وفا شعار شوہر  اور پانچ  ننھے منھے بچوں کے والد کي صورت ميں ان کے لئے ايک پشت پناہ اور شجرِ سايہ دار تھے لياقت آباد کراچي ميں  اپنے اہل و عيال کے ساتھ ايک خوشحال زندگي گزار رہے تھے محض ايک گولي سے ايک بوڑھي ماںکے بڑھاپے کا سہارا چھن گيا ايک عورت کا سہاگ لٹ گيا اور پانچ معصوم بچوں کے سر سے والد کا سايہ عاطفت اٹھ گيا اور ايک ہنستا کھلکھلاتا گھر آناً فاناً اجڑ گيا علاوہ از ايں ايک پر کشش آواز جو ہزاروں دلوں کو لبھاتي تھي ہميشہ ہميشہ کے لئے خاموش ہو گئي۔

در اصل کراچي ميں ايک عرصے سے ٹارگٹ کلنگ کے ذريعے معاشرے کے مختلف شعبہ ہائے زندگي سے تعلق رکھنے والي ممتاز شخصيات کو ٹھکانے لگايا جا رہا ہے ۔تاجر،وکيل،ڈاکٹر ،نعت خوان،قوال، سياست دان، مذہبي علمائ،خطبائ،فن کار و موسيقي کار، شعرا و ادبائ،صحافي و دانشور، پروفيسر و ٹيچر،پوليس اہلکارغرض ہر طبقہ گھات ميں بيٹھے دہشت گردوں کا ہدف ہے ۔ جسے يہ بات مترشح ہو جاتي ہے کہ يہ دہشت گردمعاشرے کے ہر عضو کو معطل ديکھنا چاہتے ہيں ۔يہ درد آشنا طبيب  کے لئے بے درد ہيں۔ سماج کي آنکھ کہے جانے والے شاعر کو کور چشم ديکھنے کے متمني ہيں۔ ايک دانشوري کي جدت ِ فکر کے ساتھ انہيں ازلي پر خاش ہے۔ صحافي کي بيباکي ان دہشت کے کارباريوں کو ايک آنکھ نہيں بھاتي۔جديد علوم سے مزين اساتذہ صاحبان کو يہ لوگ بدعت کا چلتا پھر تا مجسمہ سمجھتے ہيں۔ تاجروں کو دنيا داري اور آخرت بے زاري کے جرم ميں تختہ دار کي زينت قرار ديتے ہيں ان کے آبائي مسلک سے رتي بھر اختلاف رکھنا علماء و خطباء کو قابل ِ گردن زني قرار ديتا ہے( جاري ہے )