• صارفین کی تعداد :
  • 536
  • 5/27/2016
  • تاريخ :

چابہار بندرگاہ ايران اور ہندوستان کے درميان باہمي تعاون کو فروغ دينے ميں بہت ہي اہم

چابہار بندرگاہ ایران اور ہندوستان کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے میں بہت ہی اہم 

رہبر معظم انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي خامنہ اي نے ہندوستان کے وزير ا‏عظم نريندر مودي اور اس کے ہمراہ وفد سے ملاقات ميں ايران اورہندوستان کے درميان باہمي تعلقات کو فروغ دينے کا خير مقدم کرتے ہوئے فرمايا: ايران اور ہندوستان کے درميان باہمي تعاون کو فروغ دينے ميں چابہار بندرگاہ بہت ہي اہم اور مفيد ہے۔ مہر خبررساں ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي خامنہ اي نے ہندوستان کے وزير ا‏عظم نريندر مودي اور اس کے ہمراہ وفد سے ملاقات ميں  ايران اورہندوستان کے درميان باہمي  تعلقات کو فروغ دينے کا خير مقدم کرتے ہوئے فرمايا: ايران اور ہندوستان کے درميان باہمي تعاون کو فروغ دينے ميں چابہار بندرگاہ بہت ہي اہم اور مفيد ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامي نے ايران اور ہندوستان کے درميان  قديم اور طولاني تاريخي ، ثقافتي اور اقتصادي روابط کو دونوں ممالک کے درميان باہمي تعلقات کے فروغ ميں بہت ہي موثر قرارديتے ہوئے فرمايا: ايران ، ہندوستان کے ساتھ باہمي تعلقات کو فروغ دينے کا خير مقدم کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درميان باہمي معاہدوں کو عملي جامہ پہنانے ميں سنجيدہ ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامي نے ہندوستان کے اقتصادي و معاشي مستقبل کو خوب توصيف کرتے ہوئے فرمايا: ايران کے پاس تيل اور گيس کے ذخائر موجود ہيں اور دونوں ممالک اس سلسلے ميں باہمي تعاون کو فروغ دے سکتے ہيں اس کے علاوہ چابہار بندرگاہ بھي دونوں ممالک کے درميان تعلقات کو فروغ دينے ميں اہم ہے کيونکہ چابہار بندرگاہ کا مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب کو ملانے ميں اہم کردار ہےاور يہ بندرگاہ  دونوں ممالک کے تعلقات کو فروغ دينے ميں سنگ ميل کي حيثيت رکھتي ہے۔ رہبر معظم نے دہشت گردي کے ساتھ مقابلے ميں مغربي اتحاد ميں شامل نہ ہونے کو ہندوستان کے استقلال کا مظہر قرارديتے ہوئے فرمايا: دہشت گردي کا سنجيدگي کے ساتھ مقابلہ کرنے کے سلسلے ميں بھي دونوں ممالک  باہمي تعاون کو فروغ دے سکتے ہيں کيونکہ مغربي ممالک دہشت گردي کا مقابلہ کرنے ميں سنجيدء نہيں ہيں ۔ امريکہ نے اپنے اتحاديوں کے ساتھ ملکر  افغانستان ، عراق اور شام ميں دہشت گرد گروہوں کو تشکيل ديا اور دہشت گرد گروہوں کو تشکيل دينے والے ممالک سے دہشت گردي کا مقابلہ کرنے کي توقع نہيں رکھني چاہيے۔ رہبر معظم نے فرمايا: دہشت گردي کا مقابلہ کرنے ميں ان اسلامي ممالک کو حصہ لينا چاہيے جو امريکہ کي پاليسيوں کے پيروکار نہيں ہيں۔  اس ملاقات ميں صدر حسن روحاني بھي موجود تھے ۔ ہندوستاني وزير اعظم نريندر مودي نے رہبر معظم انقلاب اسلامي کے 1359 ہجريشمسي ميں دورہ ہندوستان کو دونوں ممالک کے باہمي تعلقات کو فروغ دينے ميں سنگ ميل کي حيثيت قرارديتے ہوئے کہا کہ موجودہ سفر ميں بھي دونوں ممالک نے اہم معاہدے اور بڑے فيصلے کئے ہيں جن کے اچھے نتائج برآمد ہونے کي توقع ہے۔  نريندر مودي نے دہشت گردي کي طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا کہ  بعض ممالک دہشت گردي کو خوب اور بد ميں تقسيم کرتے ہيں اور دہشت گردي کا سنجيدگي کے ساتھ مقابلہ نہيں کرتے بلکہ صرف باتيں کرتے ہيں۔ ہندوستاني وزير اعظم نے کہا کہ دين اسلام دين عشق و محبت ہے اور اسلام کا دہشت گردي کے ساتھ کوئي تعلق نہيں ہے۔  مودي نے کہا کہ دہشت گردي کا سنجيدگي کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے مشترکہ تعاون کي ضرورت ہے اورميں نے اس سلسلے ميں ايک کانفرنس کي تجويز ميں بھي پيش کي تھي جسکي  بعض مغربي ممالک نے مخالفت کي ۔ مودي نے کہا کہ دہشت گردي کا سنجيدگي کے ساتھ مقابلہ کرنے والے ممالک کو مشترکہ تعاون پر توجہ مبذول کرني چاہيے۔