• صارفین کی تعداد :
  • 390
  • 3/28/2016
  • تاريخ :

بلوچستان اور اسٹیج ڈراما کا ساتھ حصہ دوم

بلوچستان اور اسٹیج ڈراما کا ساتھ حصہ دوم


تھیٹر کے فروغ، ثقافتی تنظیموں، ڈراما ایسوسی ایشن، گورنمنٹ انٹر کالج، انڈین ڈرامیٹک کلب
1964: حلقہ اربابِ فن کوئٹہ کی طرف سے لوک بلوچ کہانی ٝمہرک ٜ کو اسٹیج پر تھیٹر کے شائقین کے لیے پیش کیا گیا۔
1965: کوئٹہ کے فعال ڈراما سرکل حلقہ ارباب فن نے ہی ٝپیاری بیگم ٜ ڈراما پیش کیا۔
1966: ایک مزاحیہ، نغمہ بار، اور اصلاحی ڈراما ٝپائل باجے چھم چھم ٜ پیش کیا گیا۔
1966: اسٹیج ڈراموں کی ترویج کے سلسلے میں کوئٹہ میں ٝآغا حشر سوسائٹی ٜ کا قیام عمل میں آیا۔
1967: کوئٹہ میں بزم تمثیل کی جانب سے ڈراما ٝدل ہی تو ہے ٜ اسٹیج کیا گیا جبکہ قلات ریجن میں ٝنئی راہیں ٜ کے نام سے ڈرامے اسٹیج ہوئے۔
1972: ٝسویرا آرٹس اکیڈمی ٜ قائم ہوئی، جس میں جمال شاہ، عبداللہ غزنوی، انور رشید اور محمد زبیر، دیگر شامل تھے۔
1974: ٝسنگت تھیٹر ٜ بنائی گئی، جس کے بانیوں میں سے ایک اور پہلے ڈائریکٹر اے ڈی بلوچ تھے۔
1976: قومی ایوان ثقافت کی طرف سے ریلوے اکیڈمی ہال میں ٝشامت اعمال ٜ کھیل پیش کیا گیا۔
1977: بلوچستان کا پہلا مکمل ملبوساتی اور تاریخ ساز سیٹ پر کھیل ٝماڈرن مغلیہ دور ٜ ریلوے اکیڈمی ہال میں کھیلا گیا اور اسے بہت شہرت ملی۔
1978: بلوچستان میں ٝبراہوئی ادبی سوسائٹی ٜ کے زیرِ اہتمام پہلی بار براہوئی ڈراما ٝ گلی ناوتاخ ٜ پیش کیا گیا۔
1979: کوئٹہ میں پہلی مرتبہ مکمل پشتو ڈراما ٝمشینی میرمن ٜ اسٹیج کیا گیا۔
1980: ریلوے اکیڈمی ہال میں دہشت ناک ڈراما ٝیہ پاگل پاگل لوگ ٜ کھیلا گیا، جس کے اسکرپٹ پر پی ٹی وی کوئٹہ نے بھی سیریل بنائی۔
1982: قومی ایوان ثقافت کی طرف سے مزاحیہ ڈراما ٝگستاخی معاف ٜ کھیلا گیا، جبکہ گزشتہ برس انہوں نے ٝایکشن ری پلے ٜ پیش کیا تھا۔
1984: ہزارگی زبان کا پہلا ڈراما ٝباکول سربری شُد ٜ ثقافتی تنظیم ٝنسلِ نو ٜ ہزارہ مغل کے ہال میں پیش کیا گیا۔
1985: اس برس ایک ہی کھیل ٝبچ بچا کے ٜ پیش کیا گیا۔
1988: عالی سیدی کا لکھا ہوا کھیل ٝضرورتِ رشتہ ٜ کھیلا گیا، جس میں کوئٹہ کے علاوہ دیگر علاقوں کے فنکاروں نے بھی حصہ لیا۔
1989: کوئٹہ میں ٝمغلیہ دور ٜ کے نام سے سنگت تھیٹر نے کھیل پیش کیا۔
1990: ادارہ ثقافت بلوچستان نے، قومی ایوانِ ثقافت اور اسٹیج الائنس کے تعاون سے ٝاسٹیج ڈراما فیسٹیول ٜ کا انعقاد کیا گیا۔
1991: اس برس ایک پرانا مقبول کھیل ٝمولاخوش رکھے ٜ دوبارہ پیش کیا گیا۔
1992: اسی برس پولیس تھانے کے تناظر میں دلچسپ کھیل ٝچھت اور چھتر ٜ جبکہ اگلے برس ٝہیلو حاتم طائی" پیش کیا گیا۔
1993: پاکستان چلڈرن اکیڈمی کوئٹہ کی جانب سے ٝباادب بانصیب، بے ادب بے نصیب ٜ سمیت کئی بہترین ڈرامے بچوں کے لیے پیش کیے گئے۔
1995: قومی ایوانِ ثقافت کے زیراہتمام ڈراما سبی جرگہ ہال میں پیش کیا گیا۔
1997: ادارہ ثقافت ہال میں مزاحیہ کھیل ٝچاچا، پھوپا اور تاؤ ٜ کھیلا گیا۔
1999: چلتن اکیڈمی آرٹس، ادارہ ثقافت بلوچستان اور قومی ایوان ثقافت بلوچستان نے مل کر ٝبلوچستان اسٹیج ڈراما فیسٹیول ٜ منعقد کروایا۔
2002: سنگت تھیٹر اور ادارہ ثقافت کے باہمی تعاون سے ٝانسدادِ منشیات ڈراما فیسٹیول ٜ کا انعقاد کیا گیا۔
2002: ٝافکارِ اقبال اسٹیج ڈراما فیسٹیول ٜ پیش کیا گیا، جس میں 19 مقامی ثقافتی تنظیموں نے شرکت کی تھی۔
بلوچستان میں تھیٹر کے فروغ کے لیے مختلف ادوار میں کئی ثقافتی تنظیموں، اداروں اور شخصیات کا مرکزی کردار رہا ہے۔ تنظیمی و ادارتی سطح پر اگر اس جدوجہد کا جائزہ لیا جائے تو ان ثقافتی تنظیموں اور اداروں میں انڈین ڈرامیٹک کلب، کوئٹہ ریلوے کلب، گورنمنٹ انٹر کالج، خالصہ ہائی اسکول، بزم تمثیل، نذرالاسلام اکیڈمی، ریڈیو پاکستان، پاکستان چلڈرن اکیڈمی، کوئٹہ آرٹ اینڈ لٹریری سرکل، کوئٹہ آرٹس کونسل، حلقہ اربابِ فن، سنگت تھیٹر، سویرا آرٹس اکیڈمی، پاکستان آرٹس اکیڈمی، فن کدہ، بولان کلچر سوسائٹی، اینڈرسن ڈرامیٹک کلب، چلتن اکیڈمی آرٹس، ادارہِ ثقافت، براہوئی ادبی سوسائٹی، قومی ایوان ثقافت، ادارہ ثقافت بلوچستان، بلوچستان اسٹیج الائنس، ہزارگی ڈراما ایسوسی ایشن اور دیگر پیش پیش رہے۔
بلوچستان میں تھیٹر کے فروغ کے لیے مختلف ادوار میں جن شخصیات نے نمایاں کام کیا، ان کے ناموں کی ایک طویل فہرست ہے، اور ان سب کو یہاں درج کرنا ممکن نہیں، اس کے لیے یہ کتاب ٝبلوچستان میں اسٹیج کی روایت ٜ پڑھی جاسکتی ہے۔ فضل الرحمٰن قاضی نے نہایت عرق ریزی سے اسے لکھاہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بلوچستان میں تھیٹر کے لیے فضا ہمیشہ سے سازگار رہی ہے۔
موجودہ دور میں بھی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نئی نسل کے کئی فنکار تھیٹر کے شعبے سے وابستہ ہیں، اس کی ایک مثال کراچی میں قائم نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس میں پڑھنے والے تین بلوچی طالب علموں کاشف حسین، نجمہ کفایت، اورشہاب بلوشی کی ہے۔ کراچی کے علاقے لیاری کا رہنے والا کاشف حسین نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کا پہلا طالب علم ہے جو اسکالرشپ حاصل کر کے تھیٹر کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے امریکا گیا ہوا ہے اور پوری دنیا سے آئے ہوئے تھیٹر کے طلبا میں وہ پاکستان کی نمائندگی کررہا ہے۔
بلوچستان کے یہ تمام فنکار جن کا یہاں تذکرہ ہوا، اپنے خطے کی ثقافت کے سچے عاشق ہیں، ان کی لگن سے بلوچستان میں تھیٹر کی روایات اور مضبوط ہوں گی اور خطے کی ثقافت کو بھی فروغ ملے گا۔
ختم ہوا۔