• صارفین کی تعداد :
  • 7308
  • 3/7/2016
  • تاريخ :

سلسلہ خلافت کا امیر المومنین (ع) پر اختتام اور آپ کی سیرت عملی

بسم الله الرحمن الرحیم

امیر المومنین علی علیہ السلام کی خلافت سن ۳۵ ہجری قمری کی ابتدا میں شروع ہوئی اور تقریبا چار سال اور پانچ مہینے تک باقی رہی۔ علی علیہ السلام نے اپنے دور خلافت میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سیرت کا احیاء کیا اور اسے دوبارہ اسلامی سماج کے اندر نافذ کیا۔ (۳۶) اور جو گزشتہ خلافتوں کے دور میں دین اسلام کے اندر تبدیلیاں واقع ہوئیں انہیں اصلی حالت میں لانے کی کوشش کی نیز حکومتی امور میں جو نالائق افراد تھے انہیں درکنار کر دیا۔ (۳۷) در حقیقت امیر المومنین علیہ السلام کا دور حکومت ایک انقلابی تحریک تھی جس نے اسلام کو دوبارہ زندگی عطا کی۔
علی علیہ السلام نے اپنی خلافت کے پہلے دن ہی تقریر میں یہ فرما دیا: آگاہ ہو جاو! جو مشکلات رسول اسلام (ص) کے دور میں تم لوگوں کے دامنگیر تھیں وہ دوبارہ لوٹ آئی ہیں اب دوبارہ تم لوگوں کو زیر و رو ہونا پڑے گا اور صاحبان فضیلت آگے آئیں گے اور نااہل پیچھے۔ (آج حق اور باطل دونوں کے ماننے والے ہیں) اور اگر باطل کے ماننے والے زیادہ ہیں تو یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ اور اگر حق کے ماننےوالے کم ہیں تو کبھی کم بھی آگے بڑھ جاتے ہیں اور ان میں ترقی کی امید بھی زیادہ ہوتی ہے۔ البتہ بہت ایسا ہوتا ہے کہ جو چیز انسان کی طرف پشت کر لے دوبارہ اس کی طرف اپنا رخ موڑ لے۔(۳۸)
علی علیہ السلام نے اپنی انقلابی تحریک کو جاری رکھا جیسا کہ ہر انقلابی تحریک کا لازمہ یہ ہے کہ وہ دشمن عناصر مخالفت کا جھنڈا لہرا کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جن کے مفادات خطرہ میں ہوتے ہیں۔ خلیفہ سوم کے خون کا بدلہ لینے والے کئی شر پسند عناصر نے اسلام کے اندر داخلی طور پر جنگیں برپا کیں جو تقریبا امیر المومنین علیہ السلام کے پورے دور خلافت میں چلتی رہیں اور جنہوں نے آپ کی خلافت کو انتہائی متاثر کیا۔ ان جنگوں کے اسباب فراہم کرنے والے افراد صرف اپنے ذاتی مفادات رکھتے تھے اور خلیفہ سوم کا انتقام صرف ایک بہانہ تھا ورنہ ان کے قتل میں خود یہی لوگ شریک تھے۔ (۳۹)۔ پہلی جنگ کہ جسے جنگ جمل کہا جاتا ہے اس کا سبب وہ طبقاتی اختلاف تھا جو دوسرے خلیفہ کے دور میں بیت المال کی تقسیم کے سلسلے میں وجود میں آیا تھا۔ علی علیہ السلام نے لگام خلافت کو ہاتھ میں لیتے ہی بیت المال کو برابر سے مسلمانوں کے درمیان تقسیم کیا۔ (۴۰) جیسا کہ سیرت رسول اسلام بھی یہی تھی آپ کا یہ طریقہ کار طلحہ و زبیر کو سخت برا لگا انہوں نے زیارت کے بہانے مکہ کا سفر اختیار کیا اور ام المومنین عایشہ کہ جو مکہ میں تھیں اور علی علیہ السلام کے ساتھ زیادہ اچھے روابط نہیں رکھتی تھیں کو اپنے ساتھ لیا اور جنگ جمل کے لیے آمادہ کر کے مسلمانوں کے درمیان قتل و غارت کا سلسلہ شروع کر دیا۔(۴۱)
یہی طلحہ و زبیر اس کے باوجود کہ مدینہ میں تھے جب خلیفہ سوم کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا اور خلیفہ سوم کے گھر کو محاصرہ میں لیا گیا تو انہوں نے اس وقت ان کا کوئی دفاع نہیں کیا۔ (۴۲) اور ان کی موت کے بعد سب سے پہلے وہ افراد جنہوں نے امیر المومنین علی علیہ السلام کی بیعت کی (۴۳) یہی لوگ تھے اور اسی طرح ام المومنین عایشہ خود ان لوگوں میں سے تھیں جنہوں نے خلیفہ سوم کے قتل کے لیے لوگوں کو اکسایا۔(۴۴) اور جب پہلی بار خلیفہ کے قتل کی خبر سنی تو اسے گالیاں دیں اور خوشی کا اظہار کیا۔ در اصل خلیفہ کے قتل کے اسباب فراہم کرنے والے اصلی لوگ خود صحابہ تھے جو مدینہ سے دور دراز کے علاقوں میں خطوط لکھتے اور لوگوں کو ان کے قتل پر ابھارتے تھے۔
دوسری جنگ جسے جنگ صفین کہا جاتا ہے اور جو ایک سال چھ مہینے تک کھچ گئی تھی اس کا سبب خلافت کی وہ لالچ تھی جس کا خمار معاویہ کے دماغ میں چڑھا ہوا تھا اس نے بھی بظاہر خلیفہ سوم کے انتقام کو بہانہ بنا کر جنگ برپا کی اور کئی ہزار لوگوں کا ناحق خون بہایا۔ معاویہ نے اس جنگ میں حملہ کیا نہ کہ دفاع کیا اس لیے کہ خونخواہی اور انتقام کبھی بھی دفاعی صورت میں انجام نہیں پاتا۔
اس جنگ کا عنوان’’خلیفہ سوم کا انتقام‘‘ تھا اس کے باوجود کہ خلیفہ سوم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اس پر آشوب ماحول میں معاویہ سے مدد مانگی تو معاویہ نے شام سے لشکر تیار کیا اور مدینہ کے راستے میں جاکر مدینے سے باہر اتنا رکا رہا کہ ادھر خلیفہ کو مار ڈالا گیا اس کے بعد شام واپس چلا گیا اور قصاص کے بہانے سے قیام کر لیا۔(۴۵)
اسی طریقے سے امیر المومنین علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد معاویہ نے خلافت پر قبضہ کر لیا پھر اسے خلیفہ سوم یاد نہیں رہے اور نہ ان کے قاتلوں کی تلاش کرنا اس کے پیش نظر رہا!۔
جنگ صفین کے بعد جنگ نہروان وجود میں آئی اس جنگ میں کچھ لوگ جن میں صحابی بھی تھے جنگ صفین میں معاویہ کے اکسانے پر  علی علیہ السلام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے انہوں نے اسلامی ممالک میں آپ کے خلاف تبلیغات شروع کیں اور جہاں جہاں امیر المومنین علیہ السلام کے چاہنے والے تھے انہیں شہید کر دیا حتی انہوں نے حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کئے اور ان کے شکموں سے بچوں کو نکال کر ذبح کیا۔(۴۶)
علی علیہ السلام نے اس فتنے کو بھی بڑی ہوشیاری سے سمیٹا لیکن کچھ عرصے کے بعد مسجد کوفہ میں نماز کی حالت میں بعض خوارج کے ہاتھوں آپ شہید ہو گئے۔
حواشی و حوالہ جات
۱: شیعہ وہ نام ہے جو رسول خدا(ص) کے زمانے میں خود آپ کی زبان مبارک پر جاری ہوا اور اس کے بعد جناب سلمان، مقداد اور عمار یاسر اس نام سے معروف ہو گئے۔(حاضر العالم الاسلامی،ج 1،ص 188)
2: و انذر عشیرتک الاقربین (سوره شعرا،آیه 214)
۳: اس حدیث کے ذیل میں علی(ع) نے فرمایا: میں نے جو اس وقت سب سے چھوٹا تھا کہا: میں آپ کا وزیر بنوں گا۔ پیغمبر نے اپنا ہاتھ میری پشت پر رکھا اور فرمایا: یہ نوجوان میرا بھائی، میرا وصی اور میرا جانشین ہو گا لہذا اس کی اطاعت کرو۔ لوگ ہنس رہے تھے اور ابی طالب سے کہہ رہے تھے: تمہیں اپنے بیٹے کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ (تاریخ طبری،ج 2 ص 321.تاریخ ابی الفداء،ج 1،ص 116.البدایة و النهایة،ج 3،ص 39.غایة المرام،ص 320)
۴: ام سلمہ کہتی ہیں: پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا: علی ہمیشہ حق اور قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن اور حق بھی ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں اور قیامت تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے۔ ( یہ حدیث اہل سنت کے درمیان ۱۵ طریقوں سے اور اہل تشیع کے درمیان ۱۱ طریقوں سے نقل ہوئی ہے اور ام سلمہ، ابن عباس، ابوبکر، عایشہ، علی، ابو سعیدخد ری، ابولیلی اور ابوایوب انصاری اس کے راویوں میں سے ہیں۔ غایة المرام بحرانی،ص 539 و 540۔ البدایة و النهایه،،ج 7،ص 36)
۵: پیغمبر اکرم نے فرمایا: ’’حکمت کی دس قسمیں ہیں جس میں سے نو علی کو عطا کی گئی ہیں اور ایک پوری امت کو‘‘۔(البدایة و النهایة،ج 7،ص 359)
۶: جب کفار مکہ نے محمد مصطفیٰ (ص) کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا کر ان کے گھر کو گھیرے میں لیا اور پیغمبر نے مدینہ ہجرت کرنے کا ارادہ کر لیا تو علی (ع) سے فرمایا: کیا تم راضی ہو رات کو میرے بستر پر سو جاو تاکہ دشمن یہ سمجھیں کہ میں سو رہا ہوں اور میرا پیچھا نہ کریں؟‘‘۔ علی (ع) نے ان خطرناک حالات میں آپ کی فرمائش کو دل و جان سے قبول کیا اور تلواروں کے سائے میں سو گئے۔
7: تواریخ و جوامع حدیث.
۸: حدیث غدیر شیعہ سنی علماء کے درمیان متواترہ اور مسلمہ حدیثوں میں سے ہے جو سو سے زیادہ صحابیوں کے ذریعے نقل ہوئی ہے اس کے بارے میں تفصیل سےجاننےکے لیے رجوع کریں: غایة المرام،ص 79 ، عبقات الانور،جلد غدیر اور الغدیر کی طرف۔
9: تاریخ یعقوبی (ط نجف) ج 2،ص 137 و 140.تاریخ ابی الفداء ج 1،ص .156؛ صحیح بخاری،ج 4،ص 107.مروج الذهب،ج 2،ص 437.ابن ابی الحدید،ج 1،ص 127 و .161
10: صحیح مسلم،ج 15،ص 176.صحیح بخاری،ج 4،ص 207.مروج الذهب،ج 2،ص 23 و ج 2،ص 437.تاریخ ابی الفداء،ج 1،ص 127 و .181
۱۱: جابر کہتے  ہیں: میں پیغمبر اکرم کی خدمت میں تھا کہ علی دور سے نمایاں ہوئے۔ پیغمبر نے فرمایا: ’’قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، یہ شخص اور اس کے شیعہ قیامت میں کامیاب ہیں‘‘۔ ابن عباس کہتے ہیں جب یہ آیت ’’ ان الذین آمنوا و عملوا الصالحات اولئک هم خیر البریة‘‘ نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم نے  علی سے فرمایا: ’’اس آیت کے مصداق آپ اور آپ کے شیعہ ہیں جو قیامت میں راضی ہوں گے اور خدا بھی آپ سے راضی ہو گا‘‘۔ یہ دو حدیثیں اور اس طرح کی دسیوں حدیثیں تفسیر الدر المنثور، ج ۶، ۳۷۹ اور غایۃ المرام، ص۳۲۶ میں نقل ہوئی ہیں۔
۱۲: پیغمبر اکرم نے اپنی رحلت سے پہلے اسامہ بن زید کی سرداری میں ایک لشکر تیار کر کے مدینے سے  باہر جنگ کے لیے روانہ کیا اور سوائے حضرت علی کے سب کو اس جنگ میں شرکت کا حکم دیا بعض نے اس حکم کی مخالفت کی جن میں سر فہرست حضرت ابوبکر اور عمر تھے اس واقعہ نے پیغمبر اکرم کو شدید ناراحت کیا۔ (شرح ابن ابی الحدید،ط مصر،ج 1،ص 53)
پیغمبر اکرم نے اپنی وفات سے قبل فرمایا: ’’ دوات اور قلم لاو تاکہ میں تمہیں ایک وصیت لکھ کر دوں تاکہ میری بعد گمراہ نہ ہو‘‘۔ حضرت عمر نے آپ کو قلم و دوات دینے سے منع کر دیا اور کہا: یہ بیماری کی حالت میں ہذیان کہہ رہے ہیں !!! (معاذ اللہ) (تاریخ طبری،ج 2،ص 436.صحیح بخاری،ج 3.صحیح مسلم،ج 5.البدایة و النهایه،ج 5،ص 227.ابن ابی الحدید،ج 1،ص 133)
جبکہ یہ واقعہ خلیفہ اول کی موت کے وقت بھی تکرار ہوا اور خلیفہ اول نے حضرت عمر کی خلافت کی وصیت کی جبکہ وہ وصیت کرتے وقت بیہوشی کے عالم میں تھے لیکن یہاں پر حضرت عمر نے کچھ نہیں کہا حالانکہ پیغمبر اکرم معصوم اور آپ کے حواس صحیح و سالم تھے۔ (روضة الصفا،ج 2 ص 260)
13:شرح ابن ابی الحدید،ج 1،ص 58 و ص 123135.یعقوبی،ج 2،ص 102.تاریخ طبری،ج 2،ص 445 .460
1۴:تاریخ یعقوبی،ج 2،ص 103106.تاریخ ابی الفداء ج 1،ص 156 و 166.مروج الذهب،ج 2،ص 307 و 352.شرح ابن ابی الحدید،ج 1،ص 17 و .134
۱۵: عمرو بن حرث نے سعید بن زید سے کہا: کیا کسی نے ابوبکر کی بیعت کرنے سے انکار کیا؟ اس نے جواب دیا: کسی نے مخالفت نہیں کی مگر وہ لوگ جو مرتد ہو گئے تھے یا مرتد ہونے کے قریب تھے! (تاریخ طبری،ج 2،ص 447)
۱۶: حدیث ثقلین میں پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا: میں تمہارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر ان سے متمسک رہے تو ہر گز گمراہ نہیں ہو گے۔ قرآن اور اہلبیت قیامت تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے‘‘۔ یہ حدیث سو طریقوں سے زیادہ ۳۵ صحابہ کے ذریعے نقل ہوئی ہے۔ رجوع کریں غایۃ المرام، ص۲۱۱۔
نیز پیغمبر اکرم نے فرمایا: میں شہر علم ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں لہذا جو شخص علم کا طالب ہے اس کے دروازے سے داخل ہو۔ (البدایة و النهایه،ج 7،ص 359)
۱۷: تاریخ یعقوبی، ج۲،ص  ۱۰۵ سے ۱۵۰ تک
۱۸: فرمان رسول: طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمہ،(بحار،ج 1،ص 172)
19:البدایة و النهایه،ج 7،ص .360
20:تاریخ یعقوبی،ص 111،126 و .129
۲۱: خداوند عالم کا ارشاد ہے: و انه لکتاب عزیز لا یأتیه الباطل من بین یدیه و لا من خلفه۔ ’’قرآن ایسی مستحکم کتاب ہے جس کے پس و پیش سے ہر گز باطل وارد نہیں ہو سکتا‘‘۔(سوره فصلت،آیه 41 و 42)
ان الحکم الا لله؛ خدا کے علاوہ کوئی صاحب حکومت نہیں ہے۔ (سوره یوسف،آیه 67) یعنی صرف اگر شریعت اور قوانین کوئی قابل اجرا ہے تو وہ صرف اللہ کی شریعت اور اس کا قانون ہے۔
و لکن رسول الله و خاتم النبیین؛ لیکن (رسول) اللہ کے رسول اور خاتم نبیین ہیں (سوره احزاب،آیه 40) اس آیت سے پیغمبر اکرم کی ختم نبوت و شریعت ثابت ہوتی ہے۔
و من لم یحکم بما انزل الله فاولئک هم الکافرون . جو خدا کے حکم کے مطابق حکم نہ کرے وہ کافر ہے۔ (سوره مائده،آیه 44)
۲۲: تاریخ یعقوبی،ج 2،ص 110.تاریخ ابی الفداء،ج 1،ص .158
۲۳: در المنثور،ج 3،ص 186.تاریخ یعقوبی،ج 3،ص 48 علاوہ از ایں خود قرآن میں وجوب خمس کے بارے میں واضح آیت موجود ہے۔ و اعلموا انما غنمتم من شی ء فان لله خمسه و للرسول و لذی القربی ، (سوره انفال،آیه 41)
۲۴: حضرت ابوبکر نے اپنے دور خلافت میں پانچ سو حدیثوں کو جمع کیا عایشہ کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ رات سے صبح تک میں نے اپنے باپ کو مضطرب دیکھا صبح انہوں نے مجھ سے کہا: حدیثوں کو لے کر آو میں لے کر آئی انہوں نے سب کو جلا دیا۔ (کنزل العمال،ج 5،ص 237)
حضرت عمر نے تمام شہروں کو لکھا: جس کے پاس جو حدیث ہے وہ نابود ہو جانا چاہیے (کنز العمال ج 5،ص 237)
محمد بن ابی بکر کہتے ہیں: عمر کے زمانے میں بہت ساری احادیث جمع ہو گئی تھیں جب انہیں ان کے پاس لے کر گئے تو انہیں جلا دیا گیا۔(طبقات ابن سعد،ج 5،ص 140)
۲۵: 25تاریخ ابی الفداء،ج 1،ص 151
۲۶: پیغمبر اکرم (ص) نے حجۃ الوداع میں اعمال حج کو آیہ فمن تمتع بالعمرہ۔۔۔ کے مطابق ان لوگوں کے لیے جو بیرون مکہ سے آتے ہیں ایک خاص شکل میں انجام دینے کا حکم دیا لیکن حضرت عمر نے اپنے دور خلافت میں اس عمل کو حرام قرار دے دیا۔ اسی طرح رسول خدا کے زمانے میں عقد موقت (متعہ) جائز اور رائج تھا حضرت عمر نے اپنی خلافت کے دور میں اس پر قدغن لگا دی اور مخالفت کرنے والوں کے لیے سزا مقرر کر دی۔ اسی طرح زمانہ پیغمبر میں اذان کے اندر حی علی خیر العمل کہا جاتا تھا لیکن اس جملہ کو اذان سے نکال دیا کہ اس کی وجہ سے لوگ جہاد کو اہمیت نہیں دیتے۔ اسی طرح رسول کے زمانے میں ایک مرتبہ ایک ہی طلاق انجام پاتا تھا لیکن خلیفہ دوم نے اجازت دے دی کہ ایک مرتبہ ہی تینوں طلاق دے سکتے ہیں!! یہ تمام وہ مسائل ہیں جو حدیث، فقہ اور علم کلام کی کتابوں میں موجود ہیں۔
۲۷: تاریخ یعقوبی،ج 2،ص 131.تاریخ ابی الفداء،ج 1،ص .160
28:اسد الغابة،ج 4،ص 386.الاصابه،ج .3
29:تاریخ یعقوبی،ج 2،ص 150.تاریخ ابی الفداء،ج 1،ص 168.تاریخ طبری،ج 3،ص 377 و غیرہ .
30:تاریخ یعقوبی،ج 2،ص 150.تاریخ طبری،ج 3،ص .397
۳۱: اہل مصر کے ایک گروہ نے حضرت عثمان پر دھاوا بولا تو حضرت عثمان نے خطرے کا احساس کر کے حضرت علی علیہ السلام سے مدد طلب کی اور اپنی نالائقی اور پشیمانی کا اظہار کیا۔ علی علیہ السلام نے مصریوں سے فرمایا: تم لوگوں نے حق کو احیاء کرنے کے لیے قیام کیا ہے اور عثمان نے توبہ کر لی ہے اور کہہ رہے ہیں: میں اپنے کئے پر نادم ہوں اور آئندہ تین دن میں آپ کے مطالبات پورا کروں گا اور ظالم گورنروں کو معزول کروں گا۔ اس کے بعد علی علیہ السلام نے عثمان کی طرف سے ایک قرار داد لکھی اور لوگ واپس چلے گئے۔
راستے میں حضرت عثمان کا غلام مل گیا جو اونٹ پر سوار تھا اور مصر کی طرف جا رہا تھا لوگ اس پر مشکوک ہوئے اور اس کی تلاشی شروع کر دی۔ اس کے پاس سے ایک خط ملا جو حضرت عثمان نے حاکم مصرکی طرف لکھا تھا جس میں یہ مضمون تھا:’’ بنام خدا، جب عبد الرحمان بن عدیس تمہارے پاس پہنچے تو اسے سو کوڑے مارنا اور اس کا سر و ڈاڑھی مونڈھ کر طویل عرصے کےلیے جیل میں ڈال دینا اور یہ کام عمرو بن احمق، سودان بن حمران اور عروۃ بن نباع کے ساتھ بھی انجام دینا!!
لوگوں نے غلام سے خط چھینا اور دوبارہ حضرت عثمان کی طرف لوٹ آئے اور کہا: تم نے ہمارے ساتھ خیانت کی ہے عثمان نے خط کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔ لیکن لوگوں نے کہا تمہارے غلام کے پاس خط تھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ وہ میری اجازت کے بغیر اس عمل کا مرتکب ہوا ہے۔ کہا: اس کی سواری تمہارا اونٹ تھا۔ کہا: چوری کر کے لےگیا۔ کہا: خط تمہارے امضا اور مہر کے ساتھ ہے، جواب دیا کہ اس نے یہ کام میری اطلاع کے بغیر انجام دیا ہے!
لوگوں نے کہا کہ بہر صورت تم خلافت کے لائق نہیں ہو، تمہیں استعفا دینا ہو گا۔ اس لیے کہ اگر یہ کام تمہاری اجازت سے انجام پایا ہے تو ہمارے ساتھ خیانت ہے اس کی تمہیں سزا ملنا چاہیے اور اگر تمہارے اجازت کے بغیر انجام پایا ہے تو یہ خلافت کےلیے تمہاری عدم صلاحیت کا ثبوت ہے۔ بہر حال یا استعفا دو یا اپنے ظالم عاملین کو معزول کرو۔
حضرت عثمان نےجواب دیا: اگر میں چاہوں کہ تمہاری مرضی کے مطابق عمل کرو تو اس مطلب یہ ہے کہ تم حاکم ہو پس میں کس کام کا ہوں؟ لوگ غصے کی حالت میں دربار سے نکل گئے۔ (تاریخ طبری،ج 3،ص 402409.تاریخ یعقوبی،ج 2 ص 150 و 151)
32:تاریخ طبری،ج 3،ص .377
33:صحیح بخاری،ج 6،ص 89.تاریخ یعقوبی،ج 2،ص .113
34:تاریخ یعقوبی،ج 2،ص 111.تاریخ طبری،ج 3،ص 129 .132
۳۵: تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۱۱؛ شرح ابن ابی الحدید، ج۱، ص۹۔ بہت ساری روایتوں میں وارد ہوا ہے کہ حضرت ابوبکر کی بیعت کے بعد کچھ لوگوں کو حضرت علی (ع) کے پاس بھیجا گیا اور ان سے بیعت کا مطالبہ کیا علی علیہ السلام نے جواب دیا میں نے عہد کیا ہے کہ سوائے نماز کے گھر سے باہر نہ نکلوں یہاں تک کہ قرآن کریم کی جمع آوری نہ کر لوں۔ نیز نقل ہوا ہے کہ حضرت علی چھ مہینے تک گھر سے باہر نہیں نکلے اور اس دوران جمع آوری قرآن کر کے مکمل کیا۔ اس کے بعد جمع شدہ قرآن کے مصحف کو ایک اونٹ پر حمل کیا اور لوگوں کو لاکر دکھلایا۔ تاریخ میں یہ بھی ملتا ہے جنگ یمامہ جس کے بعد خلفاء نے قرآن جمع کرایا حضرت ابوبکر کی خلافت کے دوسرے سال انجام پائی۔
36:تاریخ یعقوبی،ج 2،ص .154
37:تاریخ یعقوبی،ج 2،ص 155.مروج الذهب،ج 2،ص .364
38:نهج البلاغه،خطبه .15
۳۹: رحلت پیغمبر کے بعد بعض انگشت شمار افراد نے ابوبکر کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور حضرت علی(ع) کی پیروری میں باقی رہے جن میں سر فہرست جناب سلمان فارسی، ابوذر غفاری، مقداد اور عمار تھے۔ اور خلافت امیر المومنین علی (ع) کے آغاز پر بھی انگشت شمار لوگوں نے آپ کی بیعت کی مخالفت کی اس گروہ میں سر فہرست لوگ سعید بن عاص، ولید بن عقبہ، مروان بن حکم، عمرو بن عاص، بسر بن ارطاۃ، عمرۃ بن جندب، مغیرہ بن شعبہ وغیرہ تھے۔
ان دو گروہوں کی بائیوگرافی کا مطالعہ کرنے اور ان کے کردار کو ملاحظہ کرنے سے بخوبی ان کی شخصیت اور ان کے مقصد کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ پہلا گروہ وہ ہے جو پیغمبر اکرم (ص) کے خاص، زاہد، پرہیزکار اور فداکار صحابہ کا ہے جن کے ساتھ پیغمبر اکرم کو شدید الفت تھی۔ جن کے بارے میں رسول نے فرمایا: خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ چار افراد کو دوست رکھتا ہے اور مجھے بھی انہیں دوست رکھنے کا حکم دیا ہے۔ پوچھا گیا کہ ان کے نام کیا ہے تو فرمایا: علی، ابوذر، سلمان اور مقداد۔ (سنن ابن ماجه،ج 1،ص 66)
حضرت عایشہ کہتی ہیں رسول خدا نے فرمایا: اگر دو چیزیں عمار کے سامنے پیش ہوں عمار جو حق ہو گا اسے اختیار کریں گے۔(سنن ابن ماجه،ج 1،ص 66)
نیز فرمایا: ’’ابوذر سے زیادہ سچا زمین اور آسمان میں کوئی نہیں ہے ‘‘۔(سنن ابن ماجه،ج 1،ص 68)
یہ وہ لوگ ہیں جن سے کبھی ایک بار بھی غیر شرعی کام انجام نہیں پایا کسی کا ناحق خون نہیں بہایا، کسی پر ظلم نہیں کیا، کسی کا مال نہیں لوٹا اور کسی کی گمراہی اور فساد کا باعث نہیں بنے۔
لیکن تاریخ دوسرے گروہ کے مظالم اور جرائم سے بھری پڑی ہے کتنوں کے ناحق خون کئے کتنے مسلمانوں کا مال لوٹا، کتنوں کو بیوا کیا، کیسے کیسے شرم آور اعمال انجام دئیے تاریخ انہیں بیان کرنے سے بھی شرمندہ ہے۔ کسی بھی صورت میں یہ کردار قابل توجیہ نہیں ہے۔ اس کے بعد بھی بعض کا یہ کہنا ہے کہ خدا ان سے راضی ہے یہ جو چاہیں کرتے جائیں، اسلام کا نقشہ بدلتے جائیں قوانین الہی کو پائمال کرتے جائیں، دوسروں کا حق مارتے جائیں لیکن خدا ان سے راضی ہے!!
40:مروج الذهب،ج 2،ص 362.نهج البلاغه،خطبه 122.تاریخ یعقوبی،ج 2،ص 160 شرح ابن ابی الحدید ج 1،ص .180
41:تاریخ یعقوبی،ج .تاریخ ابی الفداء،ج 1،ص 172.مروج الذهب،ج 2،ص .366
42:تاریخ یعقوبی،ج 2،ص .152
43:تاریخ یعقوبی،ج 2،ص 154.تاریخ ابی الفداء،ج 1،ص .171
44:تاریخ یعقوبی،ج 2،ص .152
۴۵: جب حضرت عثمان حملہ آوروں کے محاصرے میں آ گئے تو انہوں نے معاویہ کو ایک خط کر اس سے مدد مانگی معاویہ نے ۱۲ ہزار کا لشکر تیار کر کے مدینے کی طرف حرکت کی لیکن لشکر کو حکم دیا کہ شام کی سرحد پر رک جائیں۔ اس کے بعد خود عثمان کے پاس آئے اور لشکر کی تیاری کی خبر دی۔ حضرت عثمان نے کہا: تم نے جان بوجھ کر لشکر کو وہاں روکا ہے تاکہ میں قتل ہوجاوں اس کے بعد تم قصاص کا بہانہ کر کے قیام کرو۔ (تاریخ یعقوبی،ج 2،ص 152.مروج الذهب،ج 3،ص 25.تاریخ طبری،ص 402)
46:مروج الذهب،ج 2،ص .415

تالیف: علامہ طباطبائی
ترجمہ: سید افتخار علی جعفری
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا

 


متعلقہ تحریریں:

عصمت امام  کي گواہي

امام کا انتخاب اور ذمہ داري