• صارفین کی تعداد :
  • 8278
  • 2/18/2016
  • تاريخ :

قرآن میں عورت کا مقام

خاتون


جب عرب معاشرے میں اسلام کی آمد ہوئی تب وہاں عورتوں کی حالت زار تاریخ میں بہت نچلی سطح پر تھی ۔اس وقت جب عرب معاشرے کے علاوہ دوسرے معاشروں میں عورت کی توہین کی جاتی تھی اس وقت میں قرآن کریم کی آیات کے نزول سے عورت کو احترام اور اور اس کو زندگی کے تمام شعبوں میں نمائندگی دینا یقینا بہت بڑا کام تھا ۔
اسی طرح عورت کا ذکر قرآن کریم کی دوسری سورتوں میں (سورة البقرة)(المائدة)(النور)(الاحزاب)(المجادلہ)(الممتحنة)اور (التحریم) میں بھی آیا ہے ۔
زندگی میں عورت کا حق اسلام نے اس وقت سے عورت کو زندگی گزارنے کا حق دیا ہے جب زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنی معصوم بچیوں کو زندہ درگور کرنا فخر سمجھتے تھے قرآن کریم اللہ تعالی نے فرمایا (وَاِذَا الْمَوْئ دَةُ  سُئِلَتْ ہلاص٨   بِاَیِّ ذَمنْبٍ قُتِلَتْ ہ)ترجمہ (اور جب دبائی ہوئی سے پوچھا جائے  کس خطا پر ماری گئی)(سورة التکویر ٨ ۔٩)زمانہ جاہلیت کے لوگ لڑکیوں کی ولادت پر اس لیے نفرت کا اظہار کرتے تھے کہ ان کی دوسرے قبائل سے دشمنیاں تھیں اور  وہ راتوں کو چھاپے مار کر دوسرے قبائل کی عورتوں اور لڑکیوں کو قیدی بنا لیا کرتے تھے اسی لیے وہ اپنی بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیتے تھے ان میں دو قبیلے اسد اور تمیم اس میں بہت مشہور تھے  اسلام نے ان کیاسد رواج کو ختم کر دیا قرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا
(وَاِذَا بُشِّرَاَحَدُھُمْ بِالْاُنْثٰی ظَلَّ وَجْھُہ مُسْوَدًّا وَّھُوَ کَظِیْم” ہج ٥٨  یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ  مِنْ سُوْئِ  مَا بُشِّرَ بِہ ط اَیُمْسِکُہ عَلٰی ھُوْنٍ  اَمْ  یَدُسُّہ  فِی التُّرَابِ ط اَ لَا سَآئَ مَا  یَحْکُمُوْنَ ہ)
ترجمہ(اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری دی جاتی تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا اور وہ غصہ کھاتا ۔لوگوں سے چھپتا پھرتا اس بشارت کی برائی کے سبب کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبا دے گا ارے بہت برا حکم لگاتے ہیں)(سورة النحل٥٨۔٥٩)۔اسی طرح اسلام نے غربت کے خوف سے  اولاد کو قتل کرنے چاہے وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں منع فرمایا ہے اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا
( وَلَا  تَقْتُلُوْا   اَوْلَادَکُمْ   خَشْیَةَ   اِمْلَا قٍ  ط  نَحْنُ  نَرْزُقُھُمْ  وَاِیَّاکُمْ ط)
(ترجمہ)(اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو مفلسی کے ڈر سے ہم انہیں بھی اور تمہیں  بھی روزی دیں گے )(سورة الاسراء ٣١)اور دوسری جگہ فرمایا
( وَلَا  تَقْتُلُوْا  اَوْلَادَکُمْ  مِّنْ  اِمْلَاقٍ ط نَحْنُ  نَرْزُقُکُمْ  وَاِیَّاھُمْ )(سورة الانعام  ١٥١)
(ترجمہ)(اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو مفلسی کے ڈر سے ہم تمہیں بھی اور انہیں بھی روزی دیں گے ۔ ( جاری ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

خواتين کي مصلحت
عورت کا تحفّظ