• صارفین کی تعداد :
  • 4510
  • 11/8/2014
  • تاريخ :

امام حسين (ع) کي شہادت کے بعد کوفہ و شام کے حالات

امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد کوفہ و شام کے حالات

تاريخ اسلام پر نظر رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ حسيني انقلاب کے اتمام و اکمال کي ذمہ داري سيد سجاد (ع) اور حضرت زينب سلام اللہ عليہا نے مخدرات کربلا کي معيت ميں انجام دي ہے اگر اسيروں نے اپني ہدايت و آگہي کا فريضہ بخوبي انجام نہ ديا ہوتا تو شہدائے کربلا کي محنتيں اس قدر جلدي بارآور ہونا بہت مشکل تھا واقعۂ کربلا کے دوران مصلحت پروردگار کے تحت مريض و لاغر سيد سجاد نے شہادت حسيني کے بعد تقريبا" 34 ، 35 سال تک دين اسلام اور حسيني تحريک کي جس طرح حفاظت و قيادت کي ہے اور دنيا کے تمام حريت نوازوں کو خون شہداء کي پيغام رساني کے راز و رموز تعليم دئے ہيں وہ کسي بھي انقلاب کي کاميابي و کامراني کے بنيادي رکن کہے جا سکتے ہيں -امام زين العابدين عليہ السلام اور ان کي پھوپھي حضرت زينب سلام اللہ عليہا نے اپني انقلابي حکمت عملي ثبات و استقامت کے ساتھ حقائق کي افشاگري پر استوار کي اور اپنے انقلابي - عرفاني افکار کے ذريعہ خوابيدہ ذہنوں کو بيدار و ہوشيار کيا اور ظلم و استبداد کے ہجوم ميں حقيقي اسلامي نظريات اشک و دعا کے انداز ميں پيش کرکے اموي منافقين کے چہروں پر پڑے نقاب الٹ دئے اور کوفہ و شام جيسي مردہ زمينوں ميں شہادت اور ايثار و قرباني کے بيج چھڑک کر اسلام و قرآن کے بلند و بالا سرسبز و شاداب تناور درخت کھڑے کردئے -اسيري کے عالم ميں کوفہ و شام کے در و ديوار پر اور قيد سے چھوٹ کر مدينہ اور مکہ کي فضاوں ميں حسيني شہادت کے ايک ايک واقعے نقش کردئے اور يزيدي ظلم و استبداد کے تمام غير انساني الميے برملا کردئے امام حسين (ع) کي شہادت اور اہل حرم کي اسيري کے جواز ميں اموي ٹکسال سے ڈھلنے والے تمام دعووں اور فتووں کے منہ توڑ جواب دے کر مظلوميت کے محاذ سے جابرانہ ملوکيت کے پڑخچے اڑادئے اور يزيدي مجرموں کو اپني کامراني پر فخر و انبساط کے ماحول ميں ،ذلت و پشيماني کا احساس کرتے ہوئے اپنے جرائم ماتحتوں کے سر منڈھنے پر مجبور ہونا پڑا -معتبر روايات کے مطابق اہل حرم کو قيد کرکے جس وقت کوفہ لے گئے شہر ميں داخلے سے قبل ايک رات اسيروں کو بيرون شہر روک ديا گيا پسر سعد مرصع خيمے ميں بيٹھ کر ساتھيوں کے ساتھ عيش و نوش ميں مشغول تھا اور اہل حرم زير آسمان بھوکے اور پياسے بچوں کے ساتھ يہ اذيت بھري شب تمام ہونے کے منتظر تھے. صبح ہوئي تو نيزوں پر آگے آگے شہدا کے سر اور پيچھے پيچھے رسن بستہ رسول زاديوں کے ساتھ سيد سجاد ، سرور شادماني کے طبل بجاتا لشکر اسيروں کے ساتھ شہر کوفہ ميں داخل ہوا تو يکے بعد ديگرے حسين (ع) کي بيٹي فاطمہ (ع) ، علي (ع) کي بيٹي ام کلثوم (ع) اور سيد سجاد (ع) کے خطبوں نے کوفيوں کے دلوں ميں ہلچل پيدا کردي وہ عالم ہوا کہ تماشے کے لئے جمع کئے گئے وفا کے دشمن دغا بازوں ميں بھي گريہ و زاري سے کہرام پڑگيا. (جاري ہے)


متعلقہ تحریریں:

واقعہ عاشورہ ، انسانيت کے لئے عظيم سرمايہ

ماہ محرم