• صارفین کی تعداد :
  • 4138
  • 9/6/2014
  • تاريخ :

تاريخ اسلام اور اتحاد مسلمين ( حصّہ دوّم )

بسم الله الرحمن الرحيم

ليکن جب اسلام کے يہي اعليٰ مقاصد معرض خطر ميں پڑ گئے تو امام حسين ط‘ نے اپنے بھائي امام حسن ع  کے طرز عمل سے جداگانہ رويہ اختيار کيا(نوٹ، تفصيلات کے ليے ملاحظہ فرمائيے مکتب اسلام مولفہ علامہ محمد حسين طباطبائي مطبوعہ جامعہ تعليمات اسلامي) اور امام حسين ط‘ باطل کے خلاف ڈٹ گئے، کيونکہ انہوں نے ديکھا کہ بني اميہ کي حکومت اس راستے پر چل رہي ہے کہ اگر اسي طرح چلتي رہي اور کوئي اس کي برائياں کھول کر سامنے نہيں لايا تو حکمران اسلام کي بنياديں ڈھاديں گے اور اسلام کي عظمت ختم ہوجائے گي، آپ نے چاہا ہے کہ اگر اسي طرح چلتي رہي اور کوئي اس کي برائياں کھول کر سامنے نہيں لايا تو حکمران اسلام کي بنياديں ڈھاديں گے اور اسلام کي عظمت ختم ہو جائے گي- آپ نے چاہا کہ اسلام اور شريعت رسول صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم  سے ان کي دشمني تاريخ ميں محفوظ کر ديں اور ان کو ان برائيوں سميت رسوا کريں چنانچہ امام حسين ط‘ نے جس طرح چاہا تھا اسي طرح ہوا-

اگر آپ کھڑے نہ ہوتے تو اسلام اس طرح فنا ہو جاتا کہ صرف تاريخ اسے ايک غلط مذہب کے نام سے ياد کرتي-

شيعيان اہل بيت ط‘ جو طرح طرح سے سيدالشہداء امام حسين ط‘ کي ياد تازہ رکھنے سے شديد دلچسپي رکھتے ہيں يہ چاہتے ہيں کہ ان کي تحريک کي تبليغ مکمل کريں جو ظلم وستم کو کچلنے کے ليے وجود ميں آئي تھي اور ان کا مقصد (جو عدالت کا قيام تھا) حاصل کريں تاکہ امام حسين ط‘ کے بعد ائمہ اطہار ط‘ کي رسم کے مطابق عاشورہ محرم کي ياد تازہ کرنے کے معاملے ميں ان کي پيروي اور اتباع کرنے والے بن جائيں، يہي وجہ ہے کہ ""عاشورہ "" ہمارا شعار بن گيا-(نوٹ، تفصيلات کے ليے ملاحظہ فرمايئے فلسفہ شہادت مولفہ مرتضيٰ مطہري، مطبوعہ جامعہ تعليمات اسلامي)

اسلام کي عظمت کو قائم رکھنے سے اہل بيت ط‘ کي انتہائي دلچسپي (نوٹ عظمت اسلام ان باتوں سے عبارت ہے خدائے واحد کي عبادت اور حکومت ، دين، رہبران دين اور بني نوع انسان کے حقوق کا پاس، معاشرے ميں انفرادي اور اجتماعي عدالت کا اجراء، انسانوں کے مابين اسلامي اخوت اور مساوات اور فکر و عمل کي آزادي، اسلام يعني کتاب و سنت کے انہي آفاقي اصولوں کي حفاظت اور بقا کے ليے ائمہ اہل بيت ط‘ نے اپني زندگياں وقف کر دي تھيں- انہوں نے ايسے افراد کي تربيت کي جو ا سنہرے اصولوں کي پاسداري کرسکيں- اگر کوئي شخص يا گروہ ان اصولوں کے حصار کو توڑ کر کسي کا حق غصب کرے، عدل و انصاف کي دھجياں بکھيرے ، طبقاتي نظام قائم کرے، انسانوں کي آزادي سلب کرے يا فرعونيت کا اظہار کرے تو وہ قرآ کي اصطلاح ميں طاغوت ہے اور وہ بندگان خدا جن پر ايسي افتاد نازل کي جائے اور انہيں خدائے منعم کي دي ہوئي نعمتوں سے محروم کر ديا جائے وہ مستضعف ہيں- شيعيان اہل بيت ط‘ خدائے عزوجل کے سوا کسي کو سپر پاور تسليم نہيں کرتے اور اپنے اپنے زمانے کے طاغوتوں سے ٹکر لينے اور کلمہ لا الہ الا اللہ کو بلند کرنے اور مظلوموں کي حمايت کرنے کو اپنا اشعار قرار ديتے ہيں جب وہ کلمہ طيبہ اپني زبان پر جاري کرتے ہيں، تو وہ انہيں اصولوں پر اپنے ايمان اور ان سے وابستگي کا اظہار کرتے ہيں) اگرچہ ان کے دشمن حالات پر حاوي تھے--امام علي زين العابدين ط‘ کي زندگي سے ظاہر ہوجاتي ہے- اگرچہ آپ سلاطين بني اميہ کے مد مقابل تھے اور بني اميہ نے آپ کے رشتہ داروں کا خون بھي بہايا تھا اور آپ کے خاندا ن کي بے ادبي اور توہين کرنے ميں حد سے گزر چکے تھے اور آپ کربلا کے دل ہلادينے والے حادثے کے باعث جس ميں بني اميہ نے آپ کے پدر بزگوار اور ان کے حرم پر بے حد و حساب ظلم توڑے تھے سخت دلگير اور غمگين تھے پھر بھي آپ تنہائي ميں مسلمانوں کي فوج کے ليے دعا کيا کرتے تھے اور خدا سے ان کي فتح ، اسلام کي عزت اور مسلمانوں کي امنيت اور سلامتي چاہتے تھے- ( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

شيعہ کافر ، تو سب کافر

وہابيت کي ترويج