• صارفین کی تعداد :
  • 5588
  • 8/26/2014
  • تاريخ :

قدم قدم پر صبر کا دامن تھام ليں

پھولوں کے گيت

عاطفي طور پر بلوغت کي ايک نشاني کسي انسان ميں صبر کے پاۓ جانے کي صورت ميں ديکھي جا سکتي ہے - اگر بچپن ميں کسي کي  تربيت ان خطوط پر نہ کي جاۓ اور  وہ بےصبري کا عادي ہو جاۓ تو جواني کي زندگي ميں اس عادت کي وجہ سے متعلقہ فرد کو بہت ساري مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے - صبر ايک ايسي خصوصيت ہے جسے تربيت اور تجربے کي بنياد پر حاصل کيا جا سکتا ہے  اور صبر کي عادت کو اپنانے کا بہترين دور، بچپن کا دور ہوتا ہے -

اگر آپ يہ چاہتے ہيں کہ آپ کا بچہ صبور ہو اور  آپ کا بچہ يہ عادت جواني ميں بھي اپناۓ رکھے تو صبر کي تعليم اور تربيت دينے کا بہترين موقع بچپن کے دوران ہي ہوتا ہے - اس ليۓ والدين کو يہ کوشش کرني چاہيۓ کہ بچے کو شروع دن سے ہي اس انداز سے تيار کريں کہ وہ زندگي کے ہر موڑ پر صبر کا دامن ہاتھ سے نہيں چھوڑے -

اپنے بچے کي تربيت کرتے ہوۓ مندرجہ ذيل باتوں کا خيال رکھيں :

اپنے بچوں کے ليۓ خود مثال بنيں

اس بات کو ذہن ميں رکھيں کہ بچہ بہت بڑا نقال ہوتا ہے - بچپن ميں وہ جو کچھ بھي ديکھتا ہے ، کوشش کرتا ہے کہ وہ اسي انداز ميں اس کام کو کرے - اس ليۓ کوشش کريں کہ بچے کي بہتر تربيت کے ليۓ خود کي اصلاح کريں اور بچے کے سامنے آپ ايک مثال بنيں تاکہ بچہ آپ کے نقش قدم پرچلتے ہوۓ سيدھا راستہ اپناۓ - اگر  کسي بھي برے واقعے پر يا کسي بھي غير متوقع واقعے پر آپ کا ردّعمل بےصبري اور غصے کا ہوتا ہے تو بچہ بھي آپ کي طرح ہي ايسے واقعات پر ردّعمل کا اظہار کرے گا - اگر آپ غصے کي حالت ميں گھر کي چيزوں کو توڑيں گے يا نازيبہ الفاظ کا استعمال کريں گے تو بچہ بھي اسي انداز ميں اپنے غصے کا اظہار کرے گا - اگر آپ بار بار صبر کا دامن ہاتھ سے  جانے ديتے ہيں تو ايسي صورت ميں بچے کو ايک منفي قسم کا پيغام مل رہا ہوتا ہے - اس ليۓ سب سے پہلے آپ کو ہماري يہ نصيحت ہے کہ مشکل حالات ميں  خود کو قابو ميں رکھيں اور اپنے اوسان خطا مت ہونے ديں -  ( جاري ہے )

 

شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

ماں کے بغير زندگي

تعليم کي اہميت