• صارفین کی تعداد :
  • 7143
  • 7/14/2014
  • تاريخ :

يورپي معاشرے ميں عورت کے متعلق راۓ

عورت کی معاشرے میں اہمیت

يورپي  دانشوروں نے بھي عورت کے بارے ميں مختلف طرح کي آراء قائم کيں اور مختلف مقامات پر عورت  کو اپنا موضوع بحث بنايا -  مونٹسکو کہتا ہے کہ فطرت نے مرد کو طاقت دي ہے اور عقل و خرد سے نوازا ہے، ليکن عورت کو صرف زينت اور خوشنمائي دي ہے- ان خيالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان ميں سے ہر شخص نے اپنے ذاتي تجربات اور مشاہدات کے تحت عورت کے بارے ميں اچھي بري رائے قائم کي- زندگي ميں ہر شخص کے ذاتي تجربات اور مشاہدات مختلف ہو سکتے ہيں، چنانچہ ہر ايک نے اپنے دل کي بھڑاس نکالي ہے، چونکہ بڑے لوگ تھے اس لئے ان کي باتوں کو ضرب المثال کا درجہ حاصل ہو گيا- جنہيں آج تک عورت کے خلاف استعمال کيا جاتا ہے، حالانکہ يہ تمام باتيں اس طرزِ فکر کي ترجماني کرتي ہيں، جن کا خمير بھي افراط و تفريط سے اٹھايا گيا تھا- ان اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ کسي نے عورت کو سمجھنے کي کوشش ہي نہيں کي- صرف ان کي صفاتي کمزوريوں اور خرابيوں کو ضرب المثال کا درجہ دے ديا- اعتدال کو قائم نہ رکھنے کي يہ صورت آج کے اس ترقي يافتہ متمدن اور مہذب دور ميں بھي يہ بدستور قائم ہے- مغربي اور استعماري ايجنٹ جو سب سے زيادہ عورت کي آزادي کا نعرہ لگاتے ہيں، ان کے ہاں يورپ ميں کئي ممالک ايسے ہيں جن ميں عورت کو حق رائے دہي حاصل نہيں- اسمبليوں اور پارليمنٹسں کے دروازے ان پر بند ہيں- پہلے برطانيہ ميں عورت وزيراعظم نہيں بن سکتي تھي، امريکہ ميں عورت صدر نہيں بن سکتي تھي، فوج کي سپہ سالار عورت نہيں ہو سکتي اور نہ ہي اسے ورلڈ بينک آف انگلينڈ ميں ڈائريکٹر کا عہدہ ديا جا سکتا ہے-

شادي کرتے ہي عورت اپنے اصلي نام سے محروم ہو جاتي ہے، جب تک شادي نہ ہو تو باپ کے نام سے پہچاني جاتي ہے، جيسے کہ اس کي اپني کوئي شخصيت نہ ہو- عملي طور پر زندگي کے ہر شعبے ميں اس کو کم تر درجہ مخلوق بنا کر رکھا گيا ہے، ليکن ہر قسم کے لہو و لعب کے کاموں، کلبوں اور عياشي کے اداروں ميں اس کو بے پناہ عزت حاصل ہے- عام اجتماعي زندگي ميں عرياني، فحاشي اور بے لگام آزادي اسے اس طرح دي گئي ہے کہ اس کے بغير کسي محفلِ نشاط کا تصور تک نہيں کيا جا سکتا-

عورت ايک انتہائي خوبصورت اور خوش رنگ پھول ہے، نسوانيت کا جوہر اس کي خوشبو ہے- يہ جوہر عورت کي عصمت و عفت کا تصور ہے، جب يہ بھيني بھيني عطر بيز خوشبو گلزار ہستي ميں پھيلتي ہے تو اسے رشک فردوس بنا ديتي ہے، ہر شخص کي زندگي دامن گل فروش بن جاتي ہے، اسي خوشبو کا اعجاز ہے کہ مختلف قبيلے، ذاتيں، قوميں اور انساني گروہ معرضِ وجود ميں آتے ہيں- تاريخ گواہ ہے کہ جب کسي قوم کے برے دن آتے ہيں تو سب سے پہلے اس قوم کي عورتيں عصمت و عفت کے جوہر سے محروم ہونا شروع ہو جاتي ہيں- دانشور اور فلاسفر تصور عصمت و عفت کا مذاق اڑاتے ہيں، عورت کي دوشيزگي کو قدامت پرستي کے طعنے ديئے جاتے ہيں اور يہ نام نہاد اہلِ علم اور قلم کار عورت کو ايسے ايسے خوبصورت فريب ديتے ہيں کہ وہ آخر اپنے فطري راستے سے بھٹک جاتي ہے- چونکہ عورت ميں روزِ اوّل سے ہي احساسِ کمتري پيدا کر ديا گيا ہے، اس لئے جب اسے مردوں کي طرف سے شتر بے مہار قسم کي آزادي ملتي ہے تو وہ بہک جاتي ہے اور بہت خوش ہوتي ہے کہ اسے اُس کے حقوق مل گئے ہيں- ( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

مغربي معاشرہ ميں عورت کي حالت

کيا خواتين کے لئے بھي بہشتي حور العين ہيں؟