• صارفین کی تعداد :
  • 4286
  • 7/1/2014
  • تاريخ :

بچوں ميں محبت کي ضرورت ( حصّہ دوّم )

ماں باپ كى ذمہ داري

امام صادق عليہ السلام فرماتے ہيں کہ خدا وند عالم کي محبت اس طرح سے انسان کے دل پر اثر انداز ہوتي ہے:

اذا احب اللہ عبدا الھمہ الطاعۃ والقناعۃ و فقھہ في الدين -

جب پروردگار عالم اپنے بندہ کو دوست رکھتا ہے:

1- اپني طاعت و فرمانبرداري اس کے دل مين ڈال ديتا ہے-

2- اسے قناعت کي توفيق عنايت کرتا ہے-

3- اسے دين کي عميق فہم عطا کرتا ہے-

ايسے والدين جو اپنے بچوں کے ساتھ دوستي اور بے تکلفي کا رشتہ بنا سکيں اور ان ميں خوشي، اميد اور جزبے جو زندہ رکھ سکيں تو وہ اپني تربيت ميں کامياب ہيں اور تربيت کا يہ نسخہ نہايت موثر واقع ہو سکتا ہے-

امام صادق عليہ السلام فرماتے ہيں:

قال موسي عليہ السلام يا رب اي الاعمال افضل عندک؟ قال: حب الاطفال فاني فطرتھم علي توحيدي - حضرت موسي عليہ السلام نے عرض کيا: خداہا کون سا عمل تيرے نزديک افضل و برتر ہے؟ ارشاد ہوا: بچوں کو دوست رکھو اس ليے کہ ميں نے انہيں اسلام اور توحيد کي فطرت پر پيدا کيا ہے-

پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم فرماتے ہيں:

ليس منا من لم صغيرنا و لم يوقر کبيرنا

جو شخص بچوں پر مہرباني اور بڑوں کا احترام نہ کرے وہ مجھ سے نہيں ہے-

تربيت کي سب سے اہم اور موثر روش محبت ہے- محبت، جاذبيت، کشش اور مقصد پيدا کرتي ہے اور طاغي و باغي انسانوں کو رام کر ديتي ہے اور گھر کے نالايق و نافرمان بچوں کو آرام اور سکون بخشتي ہے- بچے گھروں ميں قانون اور رعايتوں سے زيادہ محبت و عطوفت کي ضرورت محسوس کرتے ہيں اور ان کي روح کي سلامتي و سعادت مندي کي تکميل اس وقت ہوتي ہے جب گھر کي فضا اور ماحول ميں الفت و عطوفت، مہر و محبت قاءم و استوار ہو لہذا اگر والدين بچوں کي اس ضرورت ہر قادر نہ ہوں تو ان کے يہاں احساس کمتري پيدا ہو جاءے گا جو انہيں آگے جا کر فردي و معاشرتي زندگي ميں مشکلوں سے دچار کرے گا-

گھر کے ماحول کو محبت سے پر ہونا چاہيے تا کہ بچوں کے ليے اس ميں سعي و کوشش کي راہ ہموار ہو سکے- محبت، تعليم و تربيت کے بہت سے موانع اور مشکلات کو بر طرف کرتي ہے- خاص طور پر فکري و ثقافتي امور مين محبت کا بڑا دخل ہوتا ہے- بہت سے کام ايک تبسم سے حل ہو جاتے ہيں جو بڑي بڑي کوشش اور جانفشاني سے حل نہيں ہوتے-

علامہ سيد اسماعيل بلخي کے بقول:

دل کہ در وي عشق نبود حفرہ تنگ است و بس

بي محبت يک جہان ھم يک نفس است و بس

مولوي کے بقول:

از محبت تلخھا شيرين شود

از محبت مسھا زرين شود

از محبت خارھا گل مي شود

از محبت سرکہ ھامل مي شود

از محبت مردہ زندہ مي شود

و ز محبت شاہ بندہ مي شود

بعض لوگ يہ گمان کرتے ہيں کہ استاد و شاگرد کے درميان رعب و خوف کا رشتہ ہونا چاہيے تا کہ تربيت ہو سکے- حالانکہ وہ اس بات سے غافل ہوتے ہيں کہ اگر رعب و خوف وقتي طور پر بري عادتوں پر پردہ ڈال سکتے ہيں تو ظاہر ہے کہ جب تک اس کا اثر انسان پر باقي رہے گا تب تک رعب و خوف بھي باقي رہے گا اور ان کے زاءل نہ ہو نے سے تمام برے صفات اپني تمام تر براءيوں کے ساتھ خود کو ظاہر کر رہے ہونگے- ( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

ماں باپ كى ذمہ داري

ماں بچوں کي تربيت کيسے کرے