• صارفین کی تعداد :
  • 6024
  • 1/31/2014
  • تاريخ :

اسلامي بيداري کي تحريک ميں خواتين کا کردار  ( حصّہ ششم )

اسلامی بیداری کی تحریک میں خواتین کا کردار  ( حصّہ ششم )

انہوں نے مرد و عورت کو اسلام ميں مشترکہ انساني خصوصيات کا حامل قرار ديتے ہوئے فرمايا کہ مرد و عورت ہر ايک اپني خصوصيات اور جسماني ساخت کي بنا پر خلقت کے دوام، انسان کي ترقي و بلندي اور تاريخ کي حرکت کے سلسلے ميں خاص نقش اپنے دوش پر لئے ہوئے ہيں اور اس ميں نسل انساني کو دوام بخشنے کے سلسلے ميں عورت کا نقش بہت ہي اہم اور ممتاز ہے- رہبر معظم انقلاب اسلامي نے فرمايا کہ خاندان اور جنسي روابط کے متعلق اسلام کے قوانين و مقررات کو بھي اس نقطہ نظر سے ديکھنا اور سمجھنا چاہيے- انہوں نے اسلام ميں عورت کے نقش و کردار کو ممتاز اور برجستہ کرنے کے لئے عالم اسلامي کي ممتاز اور دانشور خواتين کي سب سے اہم اور بڑي ذمہ داري قرار ديا اور ايران ميں حاليہ 33 برسوں ميں ايراني خواتين کے بنيادي نقش کا حوالہ ديتے ہوئے فرمايا کہ سماجي حالات، انقلابات اور اسلامي بيداري تحريک ميں خواتين کا نقش فيصلہ کن نقش ہوتا ہے کيونکہ جہاں بھي کسي سماجي تحريک ميں عورتوں کي آگاہانہ شرکت ہوتي ہے اس تحريک کي پيشرفت اور کاميابي يقيني ہوجاتي ہے اور اس حقيقت کے پيش نظر مصر، ليبيا، بحرين، يمن اور عالم اسلام کے ديگر نقاط ميں عورتوں کي شرکت کو مضبوط بنانے اور دوام بخشنے کي اہميت مزيد نماياں ہوجاتي ہے- انہوں نے اسلامي بيداري تحريک کو بےنظير اور بےمثال قرار ديتے ہوئے کہا، اگر اسلامي بيداري تحريک کو درپيش خطرات اور چيلنجوں کو پہچان ليا جائے اور ان کا صحيح طريقہ سے مقابلہ کيا جائے تو موجودہ تاريخ کي راہ کو تبديل کيا جاسکتا ہے-قائد انقلاب اسلامي نے خواتين کے بارے ميں اسلامي نظريات کو مغربي نظريات کے بالکل برخلاف قرار ديا اور يہ بات زور ديکر کہي کہ اسلام خواتين کو عزت و احترام کي نگاہ سے ديکھتا ہے، ان کو ترقي و پيشرفت کا ايک بازو سمجھتا ہے اور اس کے لئے ايک الگ تشخص کا قائل ہے- قائد انقلاب اسلامي نے عورت کے کردار کو نماياں اور درخشاں بنانے کے تعلق سے عالم اسلام کي دانشور اورنمائندہ خواتين کي ذمہ داريوں کو بہت اہم قرار ديا اور ايران ميں گزشتہ تينتيس برسوں کے دوران مختلف مواقع پر عورتوں کے کليدي کردار کا حوالہ ديتے ہوئے فرمايا کہ سماجي تغيرات، انقلابي تحريکوں اور اسلامي بيداري ميں بھي عورتوں کا کردار بہت فيصلہ کن ہے کيونکہ جب کسي سماجي تحريک ميں عورت آگاہانہ شرکت کرتي ہے تو اس تحريک کي فتح يقيني ہو جاتي ہے چنانچہ يہ اٹل سچائي مصر، ليبيا، بحرين، يمن اور عالم اسلام کے ديگر خطوں ميں جاري تحريکوں ميں خواتين کي شراکت کے تسلسل اور اس کي تقويت کو انتہائي ضروري بنا ديتي ہے- ( جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

خواتين کي مصلحت

اسلام اور مقام زن