• صارفین کی تعداد :
  • 8341
  • 1/29/2014
  • تاريخ :

اسلامي بيداري کي تحريک ميں خواتين کا کردار  ( حصّہ دوّم )

اسلامی بیداری کی تحریک میں خواتین کا کردار  ( حصّہ دوّم )

 اسلامي فضا ميں عورت کو علمي نشونما ميسر آتا ہے اور تعميري سياسي شخصيت ملتي ہے اور وہ   بنيادي ترين سماجي مسائل ميں ہراول دستے کا جز قرار  پاتي ہے- اس کے باوجود وہ  اپني تمام تر نسواني خصوصيات کے ساتھ ايک عورت ہي رہتي ہے اور اس پر فخر بھي کرتي ہے- اسلامي جمہوري ايران نے بھي عالم اسلام کي ترقي وپيشرفت ميں خواتين کي موجودگي کے روشن افق کے حوالے سے مثالي نمونہ پيش کيا ہے اور اس سلسلے ميں اسلامي اقدار اور تشخص کو ہميشہ ملحوظ خاطر رکھا گيا ہے-اسلامي بيداري کو انحراف سے دوچار کرنے کي تسلط پسندانہ پاليسيوں  کے خلاف  ہوشيار رہنے اور مقابلہ کرنے کي ضرورت ہے- اسي بنا ء  پر مسلم خواتين  کے تشخص کو لوٹانا   ايک اہم ترين  ذمہ داري   ہے کہ جس کي اسلامي بيداري کے عمل ميں  اہميت درک کرنے کي ضرورت ہے- مشرق وسطي اور شمالي افريقہ  کے عرب ممالک ميں  پے در پے رونما ہونے والي تبديليوں اور اسلامي بيداري کي اٹھنے والي لہر ميں خواتين کا کردار ايک ناقابل انکار امر ہے  دوسري جانب  يہ تبديلياں  ان ملکوں ميں خواتين کي مستقبل کي زندگي ميں مختلف شعبوں ميں بہت زيادہ موثر ہيں-   ان تبديليوں کے بنيادي عنصر کے طور پر خاندان اور کنبے ميں خواتين کے محوري اور بنيادي کردار کے پيش نظر علاقے ميں رونما ہونے والي تبديليوں  ميں خواتين کے کردار کا جائزہ لينا ضروري ہے-

تہران ميں منعقدہ خواتين اور اسلامي بيداري کے زير عنوان بين الاقوامي اجلاس اختتام پذير ہو گيا - خواتين اور اسلامي بيداري کا پہلا بين الاقوامي اجلاس منگل دس جولائي کو شروع ہوا  جو دو روز تک جاري رہا اس اجلاس ميں دنيا بھر سے مختلف شعبوں منجملہ ثقافتي ، سماجي  ، سياسي اور  ذرائع ابلاغ  ميں سرگرم اور فعال بارہ سو سے زائد دانشور اور اسکالرخواتين نے شرکت کي-تہران  کے اجلاس ميں دنيا کے دور دراز علاقوں سے آئي ہوئي خواتين نے مختلف  موضوعات پر  اپنے اپنے خيالات کا  اظہار کيا- مجموعي طور پر سب نے اس مسئلے پر تاکيد کي کہ اسلامي اقدار اور  پردے کي حفاظت نہ صرف سياسي اور سماجي ميدانوں ميں ان کي موثر موجودگي پر اثر انداز ہونگي بلکہ ان کي ترقي و پيشرفت کي  راه  ہموار کرے گي-  جيسا کہ اسلامي انقلاب کي کاميابي نے ثابت کر دکھايا ہے کہ ديني تعليمات کے پرتو ميں اسلامي معاشروں کا کھويا ہوا ديرينہ عزت و اقتدار اور وقار لوٹايا جاسکتا ہےاور عزت ووقار کے ساتھ اسکا دفاع کيا جاسکتا ہے- اسي بنياد پر خواتين اور اسلامي بيداري اجلاس کے اختتامي بيان ميں خاندان اور کنبے ميں عورت کي مضبوط پوزيشن اور کنبے ميں بچوں کو تربيت دينے ميں عورتوں کے انفرادي کردار کي ارتقاء پر' خواتين کے اہم ترين مطالبات کي حيثيت سے خاص توجہ دي گئي - ( جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

کيا عورت شر ہے؟

کيا إِنَّمَا الْمُۆْمِنُونَ ميں خواتين بھي شامل ہيں