• صارفین کی تعداد :
  • 7037
  • 2/6/2014
  • تاريخ :

دجّال کا مختصر تعارف (حصہ اول)

دجّال کا مختصر تعارف 1

پہلا نکتہ: دجال کي تعريف

دجال دَجَل سے مشتق ہے اور دَجَل کے معني کسي بےقدر و قيمت شيئے کو قيمتي ڈھکن ميں چھپانے کے ہيں جس طرح کہ ايک سستے دہات کي انگوٹھي پر سونے کا پاني ديا جائے- چنانچہ لفظ دجال ايسے شخص کے لئے بروئے کار لايا جاتا ہے جو منافق، جھوٹا اور دھوکےباز ہو- (1) گوکہ اس لفظ کے لئے 10 تک مختلف معاني ذکر کئے گئے ہيں جن ميں سے صرف ايک کي طرف اشارہ کيا گيا-

 

دوسرا نکتہ: دجال کا پس منظر:

دجال کا ماضي اسلام سے قبل کے زمانے تک لوٹتا ہے- انجيل ميں بھي دجال کا نام ہے اور اس کے معني جھوٹے اور گمراہ کن شخص کے ہيں اور معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے ميں نصاريٰ کے درميان دجال کے خروج اور بقيد حيات ہونے کے بارے ميں داستانيں رائج تھيں اور وہ اس کے خروج کے منتظر تھے- (2) اسلام ميں بھي دجال کا نام ہے اور شيعہ اور سني منابع ميں اس کے بارے ميں مختلف روايات نقل ہوئي ہيں- سني منابع ميں دجال کے بارے ميں وارد ہونے والي روايات وہي ہي جو شيعہ منابع ميں نقل ہوئي ہيں-

 

تيسرا نکتہ:

علامہ شہيد سيد محمد صدر نے موسوعۃ الامام المہدي بعنوان "تاريخ الغيبۃالکبري" کي تيسري جلد ميں دجال کے موضوع پر تفصيلي بحث کي ہے اور کہا ہے: دجال کے بارے ميں موصولہ روايات کو دو قسم کے نقائص کا سامنا ہے؛ 1- ان کي سند ضعيف ہے اور 2- دجال سے بعض گمراہ کن معجزات منسوب کئے گئے ہيں جو کلامي قوانين کے تحت محال ہيں کيونکہ خداوند متعال اعجاز اور خرق عادت کي قوت گمراہ اور گمراہ کن افراد کو عطا نہيں کرتا-

اور بعض دوسرے محققين کے مطابق دجال کي تعريفات و توصيفات کا تعلق دو روايات سے ہے جو بحاراالانوار اور دوسري کتب ميں منقول ہيں ليکن علمائے رجال کے نزديک دونوں روايات ضعيف ہيں اور ان توصيفات پر اعتمال نہيں کيا جاسکتا- (3) 

بعض محققين کے مطابق (4) اگر روايات کو رمزي معاني پر حمل کريں تو يہ انہيں ترک کرنے سے بہتر ہے؛ خاص طور پر وہ روايات جو رسول اللہ (ص) سے منقول ہيں-

بہرحال ہماري رائے يہ ہے کہ: دجال کا قضيہ اجمالي طور پر صحيح ہے ليکن اس کے بارے ميں منقولہ توصيفات و تعريفات کسي قابل اعتماد سند پر استوار نہيں ہيں اور بے شک اجمالي طور پر افسانوں کے ساتھ گھل مل گيا ہے اور وہ اپني حقيقي صورت کھو چکا ہے- (جاری ہے)

 

حوالہ جات:

1- نگرش بر اخبار و علائم ظهور حضرت مهدي، علي اكبر عارف، چاپ شريعت، ص 181-

2- دادگستر جهان، ابراهيم اميني- ص 224-

3- وہي ماخذ، ص 225-  

4- تاريخ غيبت كبري، سيد محمد صدر، ترجمة افتخارزاده، ص 643-

 

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی


متعلقہ تحریریں:

سفياني کا کوفہ پر تسلط

سفياني ظہور کي دوسري حتمي علامت