• صارفین کی تعداد :
  • 2164
  • 2/3/2014
  • تاريخ :

ندائے آسماني سے قبل کيا ہوگا؟

آسمانی چیخ سے قبل و بعد کیا ہوگا؟

آسماني چيخ سے قبل و بعد کيا ہوگا؟

روايات ميں ہے کہ دو ندائيں سنائي دينگي لوگوں کي توجہ اپني جانب مبذول کرائينگي جو درحقيقت زمين پر عدل الہي کي علامت اور ثبوت ہے- ايک ندا آسماني ہے اور منادي جبرائيل ہيں اور دوسري ندا زميني ہے اور منادي شيطان ہے، کہ گويا دوسري ندا شيطان صفت سفياني کے خروج کا اعلان ہے- امام باقر(ع) ايک طويل حديث کے ضمن ميں ظہور کي علامتيں بيان کرتے ہوئے فرماتے ہيں:

"امام قائم(عج) کے ظہور سے قبل، ناگزير دو صدائيں سنائي ديں گي: ايک آسماني صدا اور جبرائيل کي ندا ہے اور دوسري زميني صدا ہے جو شيطان لعين کي آواز ہے"-

رسول خدا (ص) نے فرمايا:

"يظهَرُ في السَّماءِ آيةٌ لِلَيلَتَينِ تَخلوُانِ مِن شَهرِ رَمَضانَ."

(الملاحم و الفتن: سيد بن طاوس، ص35)

"دوئم رمضان کي شب ايک نشاني آسمان ميں ظاہر ہوگي"

امام صادق(ع) نے فرمايا:

"ووجه وصدر يظهران للناس في عين الشمس"-

"ايک چہرہ اور ايک سينہ سورج کے مرکز ميں لوگوں پر ظاہر ہوگا"-

امام صادق(ع) کے اس ارشاد کا ثبوت رسول اللہ(ص) کي يہ حديث شريف ہے کہ:

"جس سال آسماني چيخ سنائي دے گي اس سے قبل ماہ رجب ميں ايک نشاني دکھائي دے گي"، پوچھا گيا: وہ نشاني کيا ہے؟ فرمايا: "ايک چہرہ چاند ميں دکھائي دے گا اور فضا ميں ايک ہاتھ کا واضح پنجہ ظاہر ہوگا"-

(كتاب الغيبه : نعماني، ص134 * بحار الانوار : مجلسي، ج52: ص233* منتخب الاثر: صافي، 441.)

لوگوں کا رد عمل

امام صادق(ع) کے فرمان کے مطابق: صيحہ يا ندا اس وقت ہے جب معاشرے اختلافات کا شکار ہونگے اور تفرقہ اور جدائي کے سائے ہر جگہ منڈلا رہے ہونگے- ابتداء ميں آسماني مبشر کي آواز سماعت نوازي کرے گي اور اس کے بعد ہاتھ کي ہتھيلي ظاہر ہوگي اور اس کے بعد آسماني چيخ سنائي دے گي-

اميرالمۆمنين(ع) آخرالزمان کے حالات کے بارے ميں فرماتے ہيں:

"اس وقت عوام کے امور ہرگز اصلاح پذير نہ ہونگے اور وہ ايک مرکز کے گرد ہرگز اکٹھے نہ ہوسکيں گے حتي کہ آسماني سے منادي ندا دے کہ: فلاں شخص کي طرف جاۆ اور اس سے دوري اختيار مت کرو- اس کے بعد آسمان ميں ايک ہتھيلي ظاہري ہوگي اور اس فرد کي طرف اشارہ کرے گي"-

(الملاحم و الفتن: سيّد بن طاوس؛48* بشارة الاسلام: كاظمي، ص79* روز گار رهايي: كامل سليمان، ج2: ص867.)

لوگوں کے رد عمل کے بارے ميں امام صادق (ع) نے فرمايا:

"لوگ آسماني چيخ سن کر اس طرح ساکن و جامد ہونگے جيسا کہ ان کے سر پر پرندہ بيٹھا ہوا ہو (اور اس کے اڑنے کا خوف ہو)- تمام دشمنان خدا آسماني چيخ کے سامنے ميں خاضع و منکسر ہونگے- اگر وہ بعض علائم ميں شک بھي کريں گے صيحہ کے بارے ميں شک نہيں کريں گے کيونکہ منادي امام قائم(عج) کا نام اور ان کے آباء طاہرين(ع) کے نام لے کر ندا دےگا"-

 

منابع:

( كتاب الغيبه : نعماني، ص136 و ص150* الزام الناصب: حائري، ص226 و ص176* روزگار رهايي: كامل سليمان، ج2:ص887.)

 

ترجمہ : فرحت حسین مہدوی


متعلقہ تحریریں:

امام زمانہ (عج) تشريف کيوں نہيں لاتے؟

ظہور اور عقول کي ترقي