• صارفین کی تعداد :
  • 469
  • 12/19/2013
  • تاريخ :

بنگلہ ديش ميں بياليس سال بعد سياسي پھانسي

بنگلہ دیش میں بیالیس سال بعد سیاسی پھانسی

عبدالقادرملا کے 1971 ميں جنگي جرائم کيخلاف مقدمہ سے ليکر پھانسي ديئے جانے تک کا عرصہ ڈرامائي صورتحال سے گزرا، دس دسمبر کو عبدالقادرملا کي پھانسي ملتوي کي گئي تھي جس سے يہ تاثر پيدا ہوگيا تھا کہ شايد سزا ميں نرمي کي جا رہي ہے، تاہم التواء کے فيصلے کے فوري بعد ڈھاکا سينٹرل جيل ميں انہيں مقامي وقت کے مطابق بدھ کي رات دس بجے پھانسي دے دي گئي-

ساري دنيا ميں اس سزا کو مضحکہ خيز قرار ديا گيا- عدالتوں کا نام بے انصافي کو فروغ دينا ہے؟ بنگلہ ديش کو بنے ہوئے 41 برس سے زيادہ ہو گئے ہيں- مُلا صاحب دو دفعہ بنگلہ ديش کي قومي اسمبلي کے ممبر منتخب ہوئے- ان کو ووٹ دينے والوں کو سزا دو- وزيراعظم حسينہ واجد نے ايک دفعہ جماعت اسلامي کے ساتھ مل کر اليکشن لڑا- تو وہ خود کو بھي سزا ديں- اُن کے والد بنگلہ بندھو (بابائے بنگلہ ديش) کو جن لوگوں نے اُن کے گھر ميں داخل ہو کے قتل کيا- گھر کا بچہ بھي زندہ نہ چھوڑا- حسينہ واجد بچ گئي کہ وہ ملک ميں نہ تھي- اُن ميں سے کسي کو سزا نہ دي جا سکي- ان قاتلوں ميں سب کے سب بنگلہ ديشي تھے -

جماعت اسلامي بنگلہ ديش کے اسير رہنما عبدالقادر ملا سے ان کے اہل خانہ کي آخري ملاقات ميں انہوں نے وصيت کي ميري لئے کوئي آنسو نہ بہائے- دوسري جانب بنگلہ ديشي حکومت نے عبدالقادر ملا کي پھانسي کے بعد پيدا ہونے والي صورتحال سے نمٹنے کے لئے ڈھاکا سميت ملک کے مختلف حساس مقامات پر پوليس اور نيم فوجي دستے تعينات کرد ئيے گئے، اس سے قبل سپريم کورٹ کي جانب سے پھانسي کے فيصلے کو برقرار رکھنے کے فيصلے کے خلاف ملک کے مختلف شہروں ميں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے- سپريم کورٹ کے فيصلے کيخلاف مظاہروں کا سلسلہ جاري ہے- چٹاگانگ ميں مشتعل افراد سڑکوں پر نکل آئے اور املاک کو نقصان پہنچايا- پوليس نے مظاہرين کو منتشر کرنے کيلئے آنسوگيس استعمال کي- مظاہرين اور پوليس کے درميان جھڑپوں ميں دسيوں  ہلاک ہو گئے- جبکہ بنگلا ديش ميں سزائے موت پانے والے جماعت اسلامي کے رہنما عبدالقادر ملا کي پاکستان کے مختلف شہروں ميں غائبانہ نماز جنازہ ادا کي گئي - اس موقع پر شرکا نے احتجاجي مظاہرے بھي کيے - مظاہرين کا موقف تھا کہ حکومت بنگلا ديش سے سفارتي سطح پر احتجاج کرے -مظاہرين سے خطاب کرتے ہوئے سيد منور حسن نے کہا کہ حکومت نے معاملہ بنگلا ديش کا اندروني مسئلہ قرار دے کر بے حسي کا مظاہرہ کيا - تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ دوست ملک اور سارک ممبر ہونے کے ناتے بنگلہ ديش ميں سياسي تبديليوں پر ہماري نظر ہے- کسي دوسرے ملک کے معاملات ميں مداخلت پاکستان کي پاليسي نہيں- دفتر خارجہ کے ترجمان کي جانب سے جاري کيے گئے بيان ميں کہا گيا ہے کہ پاکستان کي خواہش ہے کہ بنگلہ ديش ميں مفاہمت کي فضا پيدا ہو- بيان ميں کہا گيا ہے کہ عبدالقادر ملا کي پھانسي کے بعد بنگلاديش ميں پيدا ہونے والي صورتحال سے متعلق عالمي برادري اور انساني حقوق کي تنظيموں کے تحفظات کو ديکھ رہے ہيں- (جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

آزادي ہزار نعمت ہے

مسلمان ہند  اور  قديم ہندوستان