• صارفین کی تعداد :
  • 2197
  • 1/23/2014
  • تاريخ :

خورشيد نہاں اور ہماري ذمہ داري 1

خورشید نہاں اور ہماری ذمہ داری 1

السّلامُ علي شَمْسِ الظَّلام و بَدْرِ التَّمام

بات اس خورشيد نہاں کي ہے جو امام رضا (ع) کے بقول "جب طلوع کرے گا تو زمين اس کے نور سے روشن ہوگا"- (1)

پھوٹتے چشمے کي جو پياسوں سے دور ہے؛ يزدان کي سونتي ہوئي شمشير جو نيام ميں سوئي پڑي ہے؛ خدا کے طاقتور ہاتھ کي، جو آستين کے اندر رہ گيا ہے؛ اشکوں کي نقرہ فام علامت کي، جو خشيت رب سے رخسار پر جاري ہوئے ہيں؛ اور ہاں ---- بات امام زمانہ (عج) کي غيبت کي ہے جو عظيم ترين مظلوم دوران ہيں جن کي ياد عام طور پر ذہنوں سے محو ہوچکي ہے؛ وہي جس کي مہربانيوں کو کوئي ديکھے تو پھر اس کو کبھي نہ بھولے گا اور جو اس سے جاملے گا دوسروں کي محبت ميں مبتلا نہ ہوگا- وہي جو "مۆمنين کے انيس و رفيق و شفيق ہيں"- (2)

اور ہاں! وہ جو اپنے باپ، بھائي اور دوست کو نہيں بھولتا کيا وہ اپنے زمانے کے امام کو بھول سکتا ہے؟!

کس باپ کا حق امام زمانہ (عج) کے حقوق سے بالاتر ہے؟ کونسا بھائي امام سے زيادہ مہربان ہے؟ کس دوست کي ہمدردي اس کي ہمدردي و محبت سے بڑھ کر ہے؟

وہ خود ہي تو اپنے شيعوں سے فرماتے ہيں:

"ہم کبھي بھي تمہاري رعايت کرنے ميں کبھي کوتاہي نہيں کرتے اور تمہيں کبھي نہيں بھولتے"- (3)

جب پورے عالم وجود کا ذخيرہ، تمام رسالتوں کا ثمرہ، تمام کمالات کا منبع، تمام نيکيوں اور خوبصورتيوں کا سرچشمہ ہميں نہيں بھولتا اور ہماري رعايت ميں کوتاہي نہيں کرتا تو کيا جائز ہے کہ ہم اس کو بھل جائيں؟

وہ خود فرماتے ہيں:

"اگر ہم تمہارا خيال نہ کرتے تو بلائيں تم پر نازل ہوتيں اور دشمن تمہيں نيست و نابود کرتے"- (4)

................

1- کمال الدين وتمام النعمه، شيخ صدوق، صص371 و372-

2- برگرفته از سخنان امام رضا عليه السلام در وصف امام- (عيون اخبار الرضا عليه السلام)-

3- احتجاج طبرسي، ج2، ص598-

4- احتجاج طبرسي، ج2، ص598 نامه به شيخ مفيد رحمه الله-