• صارفین کی تعداد :
  • 2697
  • 1/11/2014
  • تاريخ :

رسول خدا (صلي اللہ عليہ و آلہ) کي رجعت

رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی رجعت

ابوخالد کابلي نے روايت کرتے ہيں کہ حضرت امام سجاد (عليہ السلام) نے آيت کريمہ {إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ}- (1) کي تفسير کرتے ہوئے فرمايا: {يرجع إليكم نبيكم صلى الله عليه وآله}- (2) يعني تمہارے نبي تمہاري طرف لوٹ کر آئيں گے-

اس روايت سے معلوم ہوتا ہے کہ آيت ميں مذکورہ لفظ "معاد" سے مراد روز موعود اور روز رجعت ہے اور يہ وہي دن ہے جب رسول اللہ (صلي اللہ عليہ و آلہ) رجعت فرمائيں گے- ظاہر ہے کہ {يرجع إليكم نبيكم} سے مراد يہ نہيں ہے کہ لوگ اس دنيا سے آخرت ميں منتقل ہونگے اور رسول اللہ (صلي اللہ عليہ و آلہ) وہيں ان کي طرف آئيں گے اور ان سے ملاقات کريں گے کيونکہ اس صورت ميں عبارت يوں ہونے چاہئے تھي: {ترجعون الى نبيكم} (يعني تم اپنے نبي کي طرف لوٹو گے)-  علاوہ ازيں امام سجاد (عليہ السلام) نے اس واقعے ميں "رجوع" سے تعبير کيا ہے اور چونکہ رسول اللہ (صلي اللہ عليہ و آلہ) کا وصال ہوچکا ہے لہذا رجوع سے مراد موت کے بعد دنيا ميں واپسي ہي ہوگي- پس جو وہابي وغيرہ کہتے ہيں کہ رجوع کا عقيدہ (افسانوي شخصيت) ابن سبا وغيرہ کا بنا بنايا ہے، ان سے کہنا چاہئے کہ رجعت کا تفکر اسلام کے طلوع کے ساتھ ہي ابھرا تھا گو کہ ابتداء ميں مسلمانوں کے درميان يہ تفکر زيادہ جانا پہچانا نہ تھا اور اپنے لئے مناسب جگہ نہ پاسکا تھا اور بعد کے ادوار ميں مباحث کي پيشرفت اور کتب کي تاليف کے بعد اس تفکر کو بھي نشو و نما ملي-

 

حوالہ جات:

1. سوره قصص (28) آيه 85- ترجمہ: "بلاشبہ وہ جس نے قرآن پہنچانے کا فريضہ آپ کے ذمے عائد کيا، وہي آپ کو واپسي کي منزل پر دوبارہ لائے گا"-

2. بحار الانوار  علامہ محمد باقر مجليس ج 53 ص 56-

 

ترجمہ : فرحت حسین مہدوی


 متعلقہ تحریریں:

رجعت کي کيفيت 2

کيا ظہور جمعہ کے روز نہ ہوگا؟ 2