• صارفین کی تعداد :
  • 640
  • 12/8/2013
  • تاريخ :

ايران کے ساتھ ايٹمي سفارتکاري

ایران کے ساتھ ایٹمی سفارتکاری

تھران ريڈيو سروس کے مطابق امريکي صدر اوباما نے ايک بار پھر ايران کے ساتھ ايٹمي سفارتکاري کي حمايت کرتے ہوئے کہا ہےکہ فوجي اقدامات کے بجائے گفتگو سے امن قائم کيا جاسکتا ہے- پريس ٹي وي کي رپورٹ کے مطابق باراک اوباما نے بروکينگز انسٹي ٹيوٹ ميں خطاب کرتے ہوئے ايران کے تعلق سے اپنے اور صيہوني وزير اعظم کے درميان موجود اختلافات پر روشني ڈالي اور کہا کہ ايران ميں کوئي بھي پارٹي اور دھڑا ايک عشرے سےجاري ايٹمي تنازعے کے شرافتمندانہ حل کے علاوہ اور کسي چيز پر راضي نہيں ہوگا- انہوں نے نيتن ياہو کے اس نظريئے پر تنقيد کي کہ ايران کے خلاف پابنديوں ميں شدت لانےسے ہي ايران کا ايٹمي پروگرام روکا جاسکتا ہے-

اوباما نے کہا کہ ايسا حل، کہ جس ميں ايران کے ايٹمي پروگرام کو مکمل طرح سے رول بيک کرواديا جائے، حقيقت پسندانہ نہيں ہے- واضح رہے کہ جينوا ميں ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کے درمياں عبوري ايٹمي معاہدے کے بعد وھائٹ ہاوس نے ايران پر نئي پابنديوں کي مخالفت کي ہے-

اسلامي جمہوريہ ايران کے ايٹمي ادارے کے ترجمان نے کہا ہے کہ آئي اے اي اے کے معائنہ کاروں نے مرکزي صوبے اراک ميں ہيوي واٹر ايٹمي تنصيبات کا معائنہ کيا ہے- بہروز کمالوندي نے آج فارس نيوز ‎ اراک ہيوي واٹر تنصيبات کا سے گفتگو کرتف ہوئے کہا کہ آئي اے اي اے کے معائنہ کاروں نے اراک ہيوي واٹر تنصيبات کا معائنہ شروع کيا ہے- عالمي معائنہ کار سنيچر کي رات اراک پہنچے تھے- واضح رہے کہ ايران اور آئي اے اي اے نے چھے نکات پر مشتمل معاہدہ کيا ہے جس کي رو سے آئي اے اي اے کے معائنہ کاروں کو اراک ہيوي واٹر تنصيبات اور ساحلي شہر بندر عباس ميں گچين کان کے معائنے کي اجازت مل گئي ہے- ايران نے رضاکارانہ طور پر اپني ان تنصيبات کي اجازت دي ہے-

 


متعلقہ تحریریں:

گروپ پانچ جمع ايک کے ساتھ مذاکرات

صدر مملکت روحاني، ايران ايٹمي ہتھيار تيار کرنے کے درپے نہيں