• صارفین کی تعداد :
  • 4297
  • 11/15/2013
  • تاريخ :

خرافہ کیا ہے؟

ایران میں قمہ زنی کا رواج

 

سۆال:

خرافہ کيا ہے، اور ہم خرافات کے مصاديق کو کيونکر پہچان سکتے ہيں؟

 

جواب:

دوسري طرف سے واضح ہے کہ اسلامي شريعت ميں تمام انسانوں کو شرعي احکام کا خطاب سارے انسانوں سے ہے اور ايسي کوئي صورت نظر نہيں آتي کہ ہم کہيں کہ ہمارے پاس ايسے احکام ہيں جن کا خطاب صرف علماء سے ہے يا مثلا ايسے احکام ہوں جن کا خطاب جاہل افراد سے ہو؛ اور صورت حال ايسي ہو کہ بعض احکام علماء کے لئے ہوں اور بعض ديگر احکام جہلاء کے لئے ہوں يا مثلا کوئي ايک حکم آبرومند انسانوں کے لئے ہو اور ايک خاص حکم پست اور حقير انسانوں کے لئے ہو ... پس کہنا پڑتا ہے کہ تمام شرعي احکام ميں تمام مسلمان شريک ہيں؛ چاہے يہ احکام واجب ہوں يا مستحب ہوں. اگر ہمارا مطلوبہ حکم مستحب ہو تو سب کے لئے مستحب ہوگا چاہے وہ عالم ہوں يا عام لوگ ہوں. تاہم ہم نے پوري تاريخ ميں ايم بھي عالم دين نھيں ديکھا جس نے يہ اعمال انجام دئے ہوں اور اس کا مفہوم يہ ہے کہ يہ علماء ان اعمال کو مستحب نہيں سمجھتے تھے اور انہيں قربت الہي کا سبب نہيں گردانتے تھے اور ميں بھي ابھي تک کسي بھي ايسے عالم کو نہيں جانتا جو عزاداري کي ان صورتوں پر اصرار کررہا ہو اور ميں ني کبھي بھي نہيں ديکھا کہ مثلا کوئي عالم قمہ زني کي رسم بجالايا ہو. پس اگر (ان حقائق کے باوجود) ايسا کوئي عالم ہے جو ان اعمال پر اصرار کرتا ہے اور انہيں مستحب سمجھتا ہے ميرا اعتقاد يہ ہے کہ سب سے پہلے خود اسي کو قمہ زني کرني چاہئے اور پھر اس عمل کو ہميشہ جاري رکھنا چاہئے تا کہ لوگ بھي اس کي اقتدا کريں اور ميں خود اس امر کا عيني شاہد رہا ہوں کہ مرجع کبير آيت اللہ العظمي سيد محسن حکيم تسلسل کے ساتھ فرمايا کرتے تھے کہ «بے شک قمہ زني وہ غم و اندوہ ہے جو ہمارے گلے ميں اٹکا ہۆا ہے» پس مرحوم حکيم قمہ زني کے بارے ميں آيت اللہ العظمي حکيم کي رائے يہ تھي، مگر جب ان سے پوچھا جاتا تو جواب ميں تحرير فرماتے کہ: اگر قمہ زني جسماني نقصان اور مذہب اہل بيت (ع) اور اہل تشيع کے ہتک حرمت کا باعث ہو تو حرام ہے.

 (شعائر الحسينية بين الوعي والخرافة، ص119-127 )

 

حوالہ جات:

1- مقالہ " شيعہ ميڈيا"؛ ايران ميں مجالس و رسوم عزاداري کا تاريخي سفر، محسن حسام مظاہري – مجلہ اخبار اديان – شمارہ 7 اپريل 1979-

2- صوبہ سمنان کے علماء سے رہبر مسلمين کا خطاب. 8/11/2006-

 

ترجمہ: فرجت حسین مہدوی


متعلقہ تحریریں:

واقع کربلا کے موقع پر رونما ہونے والے واقعات کا خاکہ

امام حسين (ع) کي لازوال تحريک