• صارفین کی تعداد :
  • 4815
  • 11/7/2013
  • تاريخ :

امام سجاد (عليہ السلام) کا خطبہ مدينہ منورہ ميں

امام سجاد (علیہ السلام) کا خطبہ مدینہ منورہ میں

امام سجاد (عليہ السلام) اور سيدہ زينب (ع) کے خطبوں نے يزيد کي حکومت کو شديد خطرات سے دوچار کرديا تھا چنانچہ اس نے عبيداللہ بن زياد کو قصور وار ٹہراتے ہوئے کہا کہ اگر ميں کربلا ميں ہوتا ہرگز ايسا نہ ہونے ديتا! ليکن اگر يزيد سچا تھا اور قصور ابن زياد کا تھا تو اسيران آل محمد (ص) کو شام کيوں لے جايا گيا؟ تفاخر کي مجلس کا اہتمام کيوں کياگيا؟ کفر آميز اشعار کہہ کر خدا، رسول اور قرآن کا انکار کيوں کيا گيا؟ يزيد نے ابن زياد کو ہٹانے اور سزا دينے کے بجائے اس کو اپنے حرم ميں اپنے ساتھ کيوں بٹھايا اور اس کو تحفے تحائف کيوں ديئے؟ اور اہل بيت (ع) کو شام ميں قيد کيوں گيا؟

چنانچہ حقيقت يہي ہے کہ اس کو اور اموي حکومت کو عوام کي طرف سے شديد خطرات لاحق ہوئے تھے اور خطرے کے باعث اس نے اسيران آل رسول (ص) کو عزت و احترام کے ساتھ مدينہ روانہ کيا اور جب امام (ع) مدينہ پہنچے اور بشير بن جذلم کے توسط سے اہل مدينہ کو اپنے آنے کي اطلاع دي تو لوگ باب الفسطاط کے قريب آپ (ع) کے پاس پہنچے اور آہ و فرياد اور ماتم و عزا کي کيفيت ہر سو طاري ہوئي اور آپ (ع) نے لوگوں سے فرمايا خاموش ہوجاۆ اور پھر انہيں خطبہ ديا اور حمد و ثنائے الہي کے بعد فرمايا:

ميں بڑي دشواريوں، زمانے کي تکاليف اور آسيبوں اور آزار اور ناخوشگوار حوادث اور دلخراش اور جان سوز بلاۆں اور رنج آور اور نابود کردينے والے مصائب پر اس (خدا) کا شکر ادا کرتا ہوں-

اے لوگو! خداوند متعال نے ہميں عظيم مصائب اور آزمائشوں ميں مبتلا کيا اور اسلام ميں عظيم دراڑيں پڑيں، ابو عبداللہ الحسين (ع) اور ان کے خاندان کو قتل کيا گيا اور ان کے حرم کو قيد کيا گيا اور ان کا سر شہروں ميں پھرايا گيا اور يہ مصيبت بے مثل ہے-

اے لوگو! تم ميں سے کون ان کي شہادت کے بعد خوش ہوسکتا ہے؟! کونسا دل ہے جو ان کے لئے محزون نہ ہو؟! کونسي آنکھ ہے جو اپنے آنسو ضبط کرسکے؟! مضبوط بنيادوں پر استوار سات آسمان ان کي شہادت پر روئے، سمندر اپني امواج کے ساتھ اور آسمانوں اپنے ستونوں کے ساتھ اور زمين چاروں طرف سے، درختوں کي ٹہنياں، مچھلياں اور سمندروں کي لہريں اور مقرب فرشتے اور آسمانوں کے باشندے ان پر روئے-

اے لوگو! ہميں بےگھر، منتشر اور اپنے وطن سے دور کيا گيا، گويا ہم ترک اور کابل کے فرزند تھے، کسي جرم يا ناپسنديدہ عمل کا ارتکاب کئے بغير، ہمارے ساتھ يہ سلوک روا رکھا گيا، حتي ہم نے اپنے سابقہ بزرگوار بزرگوں کے بارے ميں ايسا کچھ نہيں سنا- "يہ دھوکا اور فريب ہي ہے"-

خدا کي قسم! اگر رسول خدا (ص) [مسلمانوں کو ہمارے حق ميں] ان سفارشات کے بجائے ہمارے خلاف جنگ کا حکم ديتے پھر بھي اس سے زيادہ کچھ نہيں کرسکتے تھے "بے شک ہم اللہ کے لئے ہيں اور اسي کي طرف لوٹنے والے ہيں"- (1)- (2)

 

حوالہ جات:

1- سورہ بقرہ (2) آيت 156-

2- اللهوف،ص 84. بحارالانوار ج 45 صفحہ 147 و 148- سيد عبدالرزاق مقرم، مقتل الحسين، ص 276-

 

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

 


متعلقہ تحریریں:

امام سجاد (ع) کے مختصر حالات زندگي

امام سجاد (ع) اور رمضان کي آخري رات