• صارفین کی تعداد :
  • 1920
  • 4/13/2013
  • تاريخ :

ايک مورخ آپ بيتي کے ذريعے ايک خاص ماحول کو زيادہ بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے

آپ بیتی

آپ بیتی

آپ بيتي کي مختلف شکليں

ايک مورخ آپ بيتي کے ذريعے ايک خاص ماحول کو زيادہ بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے- ايک سوانح نگار کے لئے آپ بيتي سب سے قيمتي اور مستند لوازم (matter) کي حيثيت رکھتي ہے جس کے ذريعے وہ کسي شخص کي داخلي کيفيات اور اس کي شخصيت کي مختلف تہوں تک رسائي حاصل کر سکتا ہے- علمي و ادبي نقطہ نظر سے ايک اچھي آپ بيتي پڑھ کر ہم ايک معياري ادب پارے سے لطف اندوزي کے ساتھ ساتھ تاريخ و سياست، اخلاق و نفسيات اور تہذيب و معاشرت کا علم بھي حاصل کرتے ہيں-

آپ بيتي کئي وضع کي ہوتي ہے- ايک قسم وہ ہے جس ميں سوانح عمري کا واحد متکلم، اپني غلطيوں اور کوتاہيوں کا برملا اظہار کرتا ہے اور بعض اوقات خود کو سچ بولنے کے مسلک کا اس قدر مطيع کر ليتا ہے کہ اپني جنسي زندگي کو طشت ميں سجا کر ناظرين کے سامنے رکھ ديتا ہے- اس اقرار جرم يا confession کا مقصد يہ تاثر دينا ہوتا ہے کہ موصوف کا رويہ منافقانہ نہيں، وہ کوئي بات چھپا کر رکھنا نہيں چاہتا اور وہ اس قدر دلير ہے کہ ايسے اظہار سے پيدا ہونے والے رد عمل کو بھي خاطر ميں نہيں لاتا-

اس کا دوسرا پہلو، خودپرستي کي صورت ميں دکھائي ديتا ہے- چنانچہ ايسي آپ بيتياں عام ہيں جن ميں واحد متکلم خود کو مرکز حيات بلکہ مرکز کائنات سمجھتا ہے اور دوسروں کو يہ باور کرانے کي کوشش کرتا ہے کہ جب تک موصوف فعال رہا، سارا معاشرہ اس کے گرد گھومتا رہا حالانکہ حقيقت يہ ہے کہ موصوف کي حيثيت محض ايک تماشائي کي سي تھي-اس بات ميں کچھ استثنا بھي ہيں کيونکہ بعض شخصيات ايسي ہوتي ہيں جو تاريخ کے بنانے ميں ايک اہم کردار ادا کرتي ہيں- تاہم اکثر آپ بيتيوں ميں واحد متکلم، اپني مجہول انا کي تسکين کے لئے خود کو مرکزي حيثيت تفويض کر ديتا ہے جو ايک نقص ہے-

ايک اچھي آپ بيتي کا امتيازي وصف يہ ہے کہ اسے لکھنے کے دوران ميں واحد متکلم، اپني ذات کے مخفي گوشوں کو دريافت کرتا ہے- وہ خود سے باہر نکل کر خود کو ديکھتا ہے- وہ ديکھتا ہے کہ زمانے کے جزر و مد سے گزرتے ہوئے اس کے سراپا ميں کيا تبديلياں آئيں اور يہ تبديلياں اس کي شخصيت کو ازسرنو مرتب کرنے ميں کہاں تک کامياب ہوئيں! يہ کام، آپ بيتي کا وہ واحد متکلم بطريق احسن انجام ديتا ہے جس کي حيثيت ايک تخليق کار کي ہوتي ہے اور جو اپني تخليقات ميں شخصيت کي قلب ماہيت کا عکس ديکھتا ہے- تخليق کبھي جھوٹ نہيں بولتي- لہذا آپ بيتي لکھنے کے دوران ميں جب واحد متکلم، اپني تخليقات کے پرتوں ميں خود کو دريافت کرتا ہے تو صحيح معنوں ميں سچ بولنے کا مظاہرہ کرتا ہے- ادني قسم کي آپ بيتيوں ميں "سچ بولنے" کے نام پر اُن کوائف کو مبالغہ آميز انداز ميں منظر عام پر لانا، جن سے قارئين کو چونکايا جا سکے، تخليقيت کا حامل نہيں ہوتا- اصل بات يہ ہے کہ ہر شخص کي زندگي، ايک کتاب کي مانند ہے اور آپ بيتي لکھنا، اس کتاب کي قرائت کے مترادف ہے- اس زاويے سے ديکھيں تو اعلي پائے کي آپ بيتي کي حيثيت، ايک تخليق کي سي ہوتي ہے، جسے ايک تخليقي ذہن ہي موجود ميں لانے پر قادر ہوتا ہے-