• صارفین کی تعداد :
  • 3234
  • 4/12/2013
  • تاريخ :

تعليم بذريعہ کھيل

تعليم بذريعہ کھيل

کھيل کي اہميت

بچے کي زندگي ميں کھيل بہت ہي اہم ہے- يہ بچے کا فطري عمل ہے- پنگوڑے کي عمر سے ہي شروع ہوجاتا ہے- بچے کے پروان کے قدرتي مراحل ميں يہ مراحل و مناظر قدرت نے مقرر کيے ہيں- کھيل اور اس کي نوعيت اور مختلف کيفيات بھي ان ہي نشو و نما کے منازل سے مربوط ہيں- ہر مرحلے پر فطري طور پر کھيل بھي ايک مخصوص قسم کا ہوتا ہے- مثلا پنگوڑے ميں بچہ ليٹا ہوا اپنے ہاتھ پاۆ ں سے کھيلتا ہے- پاۆ ں کے انگوٹھے کو منہ پر لا کر ہونٹوں پر رکھتا ہے- کھيل کے ذريعے اسي عمل کو کرنے کي کوشش کرتا ہے اور بار بار کھيل کر اس کو مکمل کرتا ہے- کاميابي سے انگوٹھا ہونٹوں پر رکھتا ہے- کھيل کے ذريعے اسي عمل کو کرنے کي کوشش کرتا ہے اور پھر بار بار کر کے اس ميں مہارت حاصل کرتا ہے اسي طرح سے ہاتھ پاۆ ں کو مارتا ہے اور پھر ان کا سائيکل چلاتا ہے- يہ بچے کا کام ہے- اور بتدريج کھيل کے ذريعے مختلف افعال کو کاميابي سے کرنا سيکھتا ہے- پٹھوں کو پختہ اور متوازن کرتا ہے اور مختلف حرکات ميں مہارت حاصل کرتا ہے- جس طرح نشو ونما کے مدارج بتدريج نہايت آہستگي سے بغير اپنے مقصد نشو و نما کو پورا کرکے ختم ہو جاتا ہے- اور اس ميں نئے کھيل آہستہ آہستہ جنم لے ليتے ہيں- دو سال سے پانچ برس کے بچے کا کھيل پہلے دو سالوں کے کھيلوں سے مختلف ہے- اس عمر ميں نشو و نما، کھيل اور تعليم ميں آہنگ پيدا کرنا، شخصيت کي جامع نشو و نما کے ليے لازمي ہے- اس ليے نرسري کي عمر کے بچے کي تعليم ميں نہ صرف کھيل کو نمايان جگہ دي ہے بلکہ تمام تعليم بذريعہ کھيل ترتيب دي گئي ہے- کھيل کا ايسا انداز اختيار کيا ہے کہ نفسياتي بيماريوں کا بے ساختہ انسداد ہو سکتا ہے اور اگر بچوں ميں کردار کي پيچيدگياں پيدا ہو جائيں، نا قابل فہم ضديں ابھر آئيں، علمي پس ماندگي، خواہ مخواہ کي اداسي، بوريت، ساتھويں سے جھگڑا کرنے رہنے کي عادت، گفتار ميں بے وجہ لکنت، مبالغہ آميز شرميلاپن، ماں کے پيسے چرا کر دوسرے بچوں ميں بانٹ دينا و غيرہ- بہت قسم کي نفسياتي بيمارياں يا کرداري الجاۆ جو کہ جذباتي اضطراب سے پيدا ہوئے ہيں نمودار ہوں تو کھيل ہي کا ايک انداز ہے جس سے بچے کا علاج کيا جاتا ہے- بچے کو بے ساختہ اپنے بگڑے پن کي بصيرت ہوجاتي ہے اور بے ساختہ ہي وہ اس بگڑے طور سے نجات حاصل کر ليتا ہے-

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحریریں:

 نوزاد   کے بارے ميں بچوں ميں شعور