• صارفین کی تعداد :
  • 738
  • 2/27/2013
  • تاريخ :

ايران پاکستان دوستي

ايران پاکستان دوستي

ايران اور پاکستان دنيا کے دو اہم ممالک ہيں -  ان دونوں ممالک کي سرحديں آپس ميں ملتي ہيں اور دونوں ہي جغرافيائي لحاظ سے  دنيا کے انتہائي اہم حصے ميں واقع ہيں جہاں ايک طرف تو خليج فارس ہے جو دنيا کو تيل کي ترسيل کي اہم رسد گاہ ہے جبکہ دوسري طرف وسطي ايشيا کي وسائل سے بھرپور رياستيں ہيں - دونوں ہي  مسلمان ممالک ہيں  اور پڑوسي ہونے کے ساتھ  ان ممالک کي عوام نظرياتي ، مذھبي ، تاريخي اور ثقافتي  لحاظ سے ايک دوسرے سے بہت قريب ہے -  خطے ميں دونوں ممالک ہي بہت فعال کردار ادا کر رہے ہيں اور علاقائي  امور ميں ان دونوں ممالک کا اچھا خاصا اثر و رسوخ پايا جاتا ہے -  ايران تيل اور گيس کے ذخائر سے مالا مال ملک ہے  جبکہ پاکستان اپني افرادي قوت اور عسکري قوت کے ساتھ دنيا بھر ميں  اہميت کا حامل ہے - پاکستان اسلامي دنيا کا وہ واحد ملک ہے جو ايٹم بم کا حامل ہے -  ايران اور پاکستان کي اہميت کے پيش نظر دونوں ممالک کو اسلامي دنيا  ميں بہت قدر کي نگاہ سے ديکھا جاتا ہے - دونوں ممالک ميں دوستي کا  ايک لازوال رشتہ قائم ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مزيد پختہ ہو رہا ہے - قيام پاکستان کے بعد ايران دنيا کا وہ پہلا ملک تھا  جس نے پاکستان کو ايک آزاد  و خودمختار رياست کے طور پر قبول کيا  جبکہ ايران ميں سن 1979 ء  ميں آنے والے  اسلامي انقلاب کو پاکستان نے سب سے پہلے قبول کيا -  دونوں ممالک کي حکومتوں اور عوام ميں ايک دوسرے کے ليۓ ہميشہ خيرسگالي کا جذبہ پايا گيا ہے  اور  ايک دوسرے پر آنے والي قدرتي آفات   اور مشکل کي کسي بھي گھڑي ميں دونوں ممالک نے ايک دوسرے سے بھرپور تعاون کيا ہے -  باہمي تجارت کو فروغ دينے  اور مختلف شعبوں ميں ايک دوسرے کے قريب آنے کے ليۓ ايران ، پاکستان اور ترکي نے  ايک علاقائي تنظيم بنام  " آر سي ڈي "  کي بنياد رکھي - علاقائي تعاون کي تنظيم کي بنياد سن 1964 ء ميں رکھي گئي اور بعد ميں اسي تنظيم کو مزيد ترقي دے کر ايک نئي تنظيم ميں تبديل کر ديا گيا جسے eco      کا نام ديا گيا -

 ( جاري ہے )

تحرير : سيد اسداللہ ارسلان


متعلقہ تحریریں:

سعودي حکومت کے خلاف عوامي مظاہرے