• صارفین کی تعداد :
  • 651
  • 2/18/2013
  • تاريخ :

رياست نے مجھے جان و مال کي حفاظت کا وعدہ ديا تھا وہ کيا ہوا؟

علامہ ساجد نقوی

علامہ ساجد نقوي:

 رياست نے مجھے جان و مال کي حفاظت کا وعدہ ديا تھا وہ کيا ہوا؟

شيعہ علماء کونسل کے سربراہ نے کہا کہ اتنے بڑے سانحات کے باوجود رياست کي جانب سے عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے کے لئے کوئي کميشن تشکيل نہيں ديا گيا- يہ نہيں بتايا گيا کہ يہ خوني قاتل اور دہشت گرد کون ہيں؟ کہاں پلتے ہيں؟ ان کے سرپرست کون ہيں؟

ابنا: شيعہ علماء کونسل کے سربراہ اور قومي يکجہتي کونسل پاکستان کے قائمقام صدر علامہ سيد ساجد علي نقوي نے کہا ہے کہ کيراني روڈ کوئٹہ کا خوفناک دھماکہ پاکستان کي تاريخ کا بدترين سانحہ ہے، ارض پاک ميں شيعہ عوام کو ديوار سے لگانے کے لئے پہلے فرقہ وارانہ گروہ پال کر غليظ لٹريچر، تکفير سازي، غليظ نعرے اور فتوے جاري ہوئے اور پارليمنٹ کے ذريعہ شہري آزاديوں کو سلب کرنے کي ناکام کوشش ہوئي، اب مذہبي دہشت گردي کي صورت تربيت يافتہ گروہ پال کر نسل کشي کا گھناۆنا عمل جاري ہے، منظم سرپرستي کے بغير اتنا بڑا سانحہ رونما نہيں ہو سکتا، عوام کو حقائق سے بےخبر رکھا جا رہا ہے-

رياست نے مجھ سے جان و مال اور عزت و آبرو کي حفاظت کا وعدہ کيا تھا وہ کيا ہوا، يکجہتي کونسل بلوچستان ملک کے معروضي حالات ميں جو فيصلہ کرے گي اس کي مکمل حمايت کريں گے، ضرورت محسوس ہوئي تو اس ملک کو جام کر ديں گے اور تادم مرگ جام کريں گے- ان خيالات کا اظہار علامہ سيد ساجد علي نقوي نے 10 جنوري کے سانحہ کوئٹہ کے شہداء اور گذشتہ روز کيراني روڈ کے سانحہ پر يکجہتي کونسل کوئٹہ کے احتجاجي دھرنے سے صدارتي خطاب کرتے ہوئے کيا- حافظ رياض حسين نجفي، علامہ شيخ مہدي نجفي، علامہ افضل حيدري، علامہ رمضان توقير، علامہ جمعہ اسدي، علامہ امين شہيدي، علامہ مرزا يوسف حسين، آغا مرتضي پويا، عابد حسين زيدي، محمد صادق عمراني اورسردار سعادت علي چنگيزي نے بھي خطاب کيا-

انہوں نے کہا گذشتہ رات بہت بڑا ظلم ہوا اور بدترين سانحہ کے نتيجے ميں بہت سے گھر اجڑے، عورتيں بيوہ ہوئيں، بچے يتيم ہوئے، کتنے پياروں کے لاشے اٹھائے گئے- ميں ان شہداء کو خراج عقيدت اور سلام پيش کرتے ہوئے ان کے خانوادوں سے دلي تعزيت اور ہمدردي کا اظہار کرتا ہوں- اتنے بڑے سانحات کے باوجود رياست کي جانب سے عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے کے لئے کوئي کميشن تشکيل نہيں ديا گيا- يہ نہيں بتايا گيا کہ يہ خوني قاتل اور دہشت گرد کون ہيں؟ کہاں پلتے ہيں؟ ان کے سرپرست کون ہيں؟ ان کے پاس جديد وسائل کہاں سے آئے، ان کا نيٹ ورک کيسے اتنا منظم ہوا؟ ان حالات ميں بجا طور پر محسوس ہوتا ہے کہ سرعام دستور پاکستان کي خلاف ورزي کي جا رہي ہے اور اپنے ہي ملک کے عوام کا قتل عام تسلسل کے ساتھ جاري ہے کوئي ٹس سے مس نہيں ہو رہا-

علامہ ساجد نقوي نے مزيد کہا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد ٹارگٹڈ آپريشن کا فيصلہ ہوا تھا مگر ميري معلومات کے مطابق آج تک ايسا کوئي اقدام نہيں کيا گيا اور قاتل و دہشت گرد آزادانہ گھوم پھر رہے ہيں- انہيں کس نے اور کيوں کھلي چھٹي دے رکھي ہے- عوام سوال کرتے ہيں- آج تک کسي ايک قاتل اور دہشت گرد کو تختہ دار تک کيوں نہيں لٹکايا جا سکا؟ انہوں نے يہ بات زور دے کر کہي کہ ہم نے ہميشہ اس ملک ميں وحدت کي بنياد ڈالي اور اتحاد کے مختلف فورمز کے باني قرار پائے اس وقت بھي ملي يکجہتي کونسل پاکستان کے قائم مقام صدر کي ذمہ داري ہمارے پاس ہيں ہماري حيثيت کسي گروہ يا فرقہ کي نہيں بلکہ ہم اس ملک ميں ايک مکتب کي حيثيت رکھتے ہيں اور ملک ميں اتحاد کے داعي اور امن کے خواہاں ہيں اس لئے يکجہتي کونسل کوئٹہ ملک کے معروضي حالات ميں جو بھي فيصلہ جات کرے گي اس کي مکمل تائيد کي جائے گي- ضرورت اس امر کي ہے کہ اپني صفوں ميں اتحاد و وحدت اور ديگر مکاتب فکر کے ساتھ روابط کے ذريعے ملک دشمنوں کے عزائم ناکام بنائيں جائيں-