• صارفین کی تعداد :
  • 3061
  • 1/7/2013
  • تاريخ :

طلاق کے بعد مشترک مقصد

طلاق

مياں اور بيوي زندگي کے درميان تعلق بہت ہي گہرا ہوتا ہے اور زندگي کي گاڑي ميں دونوں دو پہيۓ ہوتے ہيں جو زندگي کي  کٹھن راہ ميں ايک دوسرے کے ليۓ  معاون ثابت ہوتے ہيں اور ايک دوسرے کے دکھ اور خوشي ميں  شريک ہوتے ہيں  مگر  کبھي کبھار حالات ايسا رخ اختيار کر ليتے  ہيں کہ ان لازوال اور اہم رشتے ميں دراڑيں  آ جاتي ہيں اور نہ چاہتے ہوۓ بھي مياں بيوي کے درميان اس حد تک تلخي آ جاتي ہے کہ انہيں اپنے اس بندھن کو توڑنا پڑ جاتا ہے -  اس کام ميں  بعض اوقات مجبوري کا عنصر  بھي ہوتا ہے کيونکہ دونوں کے  درميان اختلاف اور زندگي کے امور ميں يکسانيت کے فقدان کي وجہ سے بہتري اسي ميں ہوتي ہے کہ دونوں ايک دوسرے سے  الگ ہو جائيں -  اسلام نے مياں اور بيوي دونوں کو يہ حق ديا ہے کہ  رشتہ ازواج کے کسي بھي موڑ پر اگر وہ ايک دوسرے سے الگ ہونا چاہيں تو الگ ہو سکتے ہيں -

اس بات ميں ذرا بھي شک نہيں ہے کہ طلاق ايک تلخ حقيقت ہے اور  مياں بيوي  کے ليۓ ضروري ہوتا ہے کہ وہ اس بات کا خيال رکھيں کہ ان کے باہمي تعلقات کا  برا اثر ان کي اولاد پر نہيں پڑنا چاہيۓ - اگر مياں بيوي اپنے بچوں کے مستقبل کا خيال ذہن ميں رکھيں تو وہ بہت سارے معاملات ميں ايک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے پر تيار ہو جاتے ہيں اور ايسا کرنے سے ان پر پڑنے والا ذہني دباۆ بھي کافي حد تک کم ہو جاتا ہے - طلاق کے بعد بھي  سابقہ مياں بيوي  کے درميان ايک رابطہ برقرار رہنا چاہيۓ تاکہ  بچوں کي  مشکلات کو کم کيا جا سکے -

باہمي اختلاف  ميں بے حد زيادہ  شدت کے بعد پھر سے ايک دوسرے کا سامنا کرنا بہت عجيب اور مشکل ضرور ہوتا ہے جو ماضي کي تلخيوں کي ياد دلاتا ہے مگر حقيقت يہ ہے کہ اولاد کي پرورش  جيسي اہم ذمہ داري سے آساني سے راہ فرار ممکن نہيں ہوتا ہے -  اس ليۓ ضروري ہوتا ہے کہ  اپني اولاد کي ضروريات کو پورا کرنے اور انہيں   مياں بيوي کے  تلخ باہمي تعقات کے اثرات سے بچانے کے ليۓ  سابقہ  مياں بيوي کے درميان ايک خاص حد تک صميمي رابطہ  برقرار رکھا جائے -

تحریر: سید اسد اللہ ارسلان


متعلقہ تحریریں:

جہيز اور طلاق کي کثرت