• صارفین کی تعداد :
  • 3489
  • 11/7/2012
  • تاريخ :

اونٹوں کي تقسيم اور حضرت علي عليہ السلام

حضرت علی علیہ السلام

علم رياضي کا ايک اور طريقہ

علم رياضي اور علم نجوم کا مسئلہ

حضرت علي (ع) اور اصول رياضي

صاحب ناسخ التواريخ تيسري جلد 85 ہجري حضرت امير المومنين عليہ السلام کے حالات ميں لکھتے ہيں تين آدمي 17 اونٹوں پر جھگڑ پڑے اور ان ميں سے ايک کا حصہ نصف اور دوسرے کا ثلث (ايک تہائي) اور تيسرے کا (نواں حصہ) تھا اور اونٹ کو نحر بھي نہيں کرنا چاہتے تھے- اور ايک دوسرے کا زيادہ حصہ بھي کسي کو نہيں دينا چاہتے تھے- (لطف کي بات يہ ہے) درہم و دينار بھي نہيں لينا چاہتے تھے اس فيصلے کو ليکر حضرت علي (ع) کي خدمت ميں آئے حضرت (ع) نے فرمايا اگر تم کہو تو ميں ايک اپنا اونٹ تمہارے اونٹوں ميں اضافہ کردوں- انھوں نے کہا: چنانچہ حضرت علي (ع) نے ايک اونٹ بڑھا ديا اب اونٹوں کي تعداد 18 ہوگئي وہ جس کے نصف اونٹ تھے اس سے فرمايا17 اونٹ 5/8 تيرے تھے اب 18 اونٹوں ميں سے 9 اونٹ اپنے حصہ کو لے لو-

اور جس کا تيسرا حصہ تھا اس سے فرمايا کہ تو چھ اونٹوں ميں سے ايک ثلث کم رکھتا ہے اب تم 6 اونٹ لے لو- اور وہ جس کا 9 اونٹوں ميں سے ايک حصہ تھا اس سے فرمايا اب تم 18 ميں سے دو اونٹ لے لو- انھوں نے اپنے اپنے حصے کے اونٹ لے لئے اور حضرت اميرالمومنين (ع) نے اپنا اونٹ جدا کر ليا-

اس مسئلے حل يہ ہوگا

تمام اونٹ بمعہ شتر حضرت (ع) کي تعداد 17+1=18

نصف حصہ لے جائے 9=2/18

نصف ثلث لے جائے 6=3/18

نانواں حصہ لے جائے 2=9/18

تين آدميوں کا کل حصہ 17=9+6+2

حضرت کا اپنا مال 1=17-18

پيشکش: شعبہ تحرير و پيشکش تبيان