• صارفین کی تعداد :
  • 4678
  • 10/9/2012
  • تاريخ :

کيسے کي جائے بچوں کي ديکھ بھال؟

کیسے کی جائے بچوں کی دیکھ بھال؟

چھوٹي سے چھوٹي مشينري سے لے کر آسمان ميں اڑنے والے جہاز تک مستقل توجہ اور ديکھ بھال کے محتاج ہوتے ہيں جبکہ انسان کو پيچيدہ ترين مشين تسليم کيا گيا ہے لہٰذا اس کي مناسب ديکھ بھال کئے بغير اس کے درست چلنے کي توقع کرنا عبث ہے- انسان کا ابتدائي زمانہ بچپن کہلاتا ہے- اس زمانے ميں اس کي اندروني اور بيروني نشو و نما بنيادي رکھتي ہے- والدين بننا بيشک ايک خوشگوار تجربہ ہے جبکہ بچے کي غذائي ضروريات کا خيال رکھنا ماں کا اولين فريضہ ہے- عام طور پر بچہ رو کر اپني بھوک کا اظہار کرتا ہے اور اسے کسي مخصوص ٹائم ٹيبل کے مطابق غذا نہيں دي جا سکتي لہذا اس بارے ميں ہر وقت محتاط رہيں - نومولود کي صفائي ستھرائي کا بھي خيال رکھيں کيونکہ صاف ستھرا بچہ ہي صحت مند رہتا ہے، بيمار ہونے کي صورت ميں ڈاکٹر سے فوري مشورہ کريں تاہم پہلے کسي بزرگ سے بات کريں کيونکہ ناني يا دادي کے پاس اس حوالے سے مفيد معلومات ہوتي ہيں -

* ماں کي بھر پور توجہ بچے کيلئے از حد ضروري ہے-ماں ديکھ بھال کرنے والي ہو گي تو وہ بچے کي ضروريات کا ہمہ وقت خيال رکھے گي- زيادہ بہتر يہ ہے کہ ماں بچے کو اپنا دودھ پلائے اور کسي وجہ سے ايسا ممکن نہ ہو تو ڈبے يا گائے اور بھينس کا دودھ استعمال کرواتے ہوئے صفائي کا بہت زيادہ خيال رکھيں کہ فيڈر مناسب انداز سے گرم پاني ميں ابال کر جراثيم سے پاک کريں اور دودھ پلانے کے فوري بعد فيڈر کو اچھي طرح دھو کر رکھے اور اس ميں دودھ بچ گيا ہو تو اسے کسي برتن ميں نکال ليا جائے- فيڈر کے نپل کو زيادہ پرانا نہ ہونے ديں اور اس ميں چپچپاہٹ محسوس ہونے سے پہلے ہي تبديل کر ديں اور مکھياں قطعي نہ لگنے ديں -

*نومولود کي نگہداشت کيلئے ضروري ہے کہ ماں کو بچے کي چھوٹي چھوٹي تکليف کا اچھي طرح علم ہو- چھوٹے بچوں ميں پيٹ کا درد، اپھارہ اور دستوں کي بيمارياں عام ہيں جو کہ بے احتياطي يا صفائي کے فقدان کے باعث ہو سکتي ہيں - پيٹ کے درد کي صورت ميں چنے کے برابر جائفل پيس کر شہد ميں ملائيں اور بچے کو چٹا ديں - سينہ جکڑنے کي صورت ميں بھي يہي عمل دو سے تين مرتبہ دہرائيں - اگر پيٹ ميں درد کا سبب دست ہيں تو جائفل کي بجائے سفيد زيرہ بھون کر پيس ليں اور شہد کے ساتھ استعمال کرائيں - پہلي سردياں بچوں کيلئے خاصي خطرناک ہوتي ہيں - لہذا ان سے بچا کيلئے ديسي انڈے کي زردي پھينٹ ليں - اور ايک چائے کا چمچ بھر کر پانچ اونس دودھ ميں ملائيں - تين دن تک نہار منہ استعمال سے ٹھنڈ کا اثر نہيں ہو گا ليکن بچے کي عمر تين ماہ سے زائد ہو کيونکہ اس سے کم عمر بچے کيلئے انڈہ نقصان دہ ہو سکتا ہے-

*چھوٹے بچوں کو جہاں تک ممکن ہو چوٹ سے بچائيں کيونکہ نوزائيدہ کيلئے ہلکي سي چوٹ بھي مہلک ثابت ہو سکتي ہے- زيادہ بہتر ہو گا کہ بچہ پالنے يا جھولے ميں آرام کرے جہاں سے گرنے کا انديشہ نہيں ہوتا ہے- تاہم عام بستر پر لٹائيں تو دونوں اطراف تکيہ رکھ کر رکاوٹ لگا ديں تاکہ لڑھک کر نيچے گرنے کا احتمال نہ ہو- چھوٹے بچوں کو گود ميں نہ ديں جو کہ اسے سنبھال نہ سکيں -

*بچوں کو موسم کے مطابق کپڑے پہنائيں ، گرمي کے موسم ميں ہلکے پھلکے اور سردي ميں موٹے اور گرم کپڑے استعمال کرنا زيادہ بہتر ہوتا ہے ليکن سرديوں ميں بھي اس بات کا خيال رہے کہ بہت زيادہ گرم رکھنا بھي ٹھيک نہيں ہوتا ہے جيسے کہ اگر ہوا سے بچا نے کيلئے ٹوپي پہنائي ہوئي ہے تو موزے نہ پہنائے جائيں اور اگر پہنانا مقصود ہے تو وہ اوني يا زيادہ گرم نہ ہوں - گھر سے باہر جاتے وقت بچے کو اچھي طرح ڈھانپ لينے ميں کوئي ہرج نہيں ہے ليکن گھر ميں اپنے بستر پر موجود شير خوار کو بہت زيادہ کپڑے اور سويٹر نہ پہنائيں کيونکہ اس طرح بھي اس کي طبيعت پر منفي اثرات مرتب ہو سکتے ہيں -

*ماں کو بچے کي نگہداشت کے ساتھ ہي اپني صحت کا خيال بھي رکھنا چاہيے- ڈبے کے دودھ سے پرہيز کر کے اپنا دودھ پلانا چاہيے- جس سے بچہ صحت مند رہتا ہے اور ماں بھي چھاتي کے سرطان سے محفوظ رہتي ہے- ماں کا دودھ نہ صرف بيماريوں کے خلاف دفاعي نظام کو مضبوط کرتا ہے بلکہ اس ميں ماں کي مامتا جيسے انسان دوست جراثيم بھي ہوتي ہيں - گاہے بگاہے اپنا اور اپنے بچے کا طبي معائنہ از حد ضروري ہے- نيز ماں اپني خوراک کا بھي بہت زيادہ خيال رکھے جسے اپنے شير خوار کي غذائي ضرورت پوري کرنا ہوتي ہے-

*چھوٹے بچوں ميں دانتوں کا نکلنا ايک ايسا مرحلہ ہوتا ہے جب کافي مسائل پيدا ہوتے ہيں کسي حکيم يا پنساري سے سہاگہ لے کر اسے توے پر کھل کرنے کے بعد پيس کر رکھ ليں اور جب دانت نکلنے کا عمل شروع ہو تو چٹکي بھر سہاگہ شہد ميں ملا کر بچے کے مسوڑھوں پر لگائيں ، بغير کسي تکليف کے دانت نکليں گے- سہاگہ استعمال کرنے سے بچوں کے پيشاب ميں چيونٹے بھي نہيں لگتے- اکثر نومولود پيٹ ميں درد يا اپھارے کي حالت ميں گھٹنے سکيڑ کر روتے ہيں ، يہ کيفيت قبض کي نشاندہي کرتي ہے- لہذا ايسے ميں فوري طور پر نيم گرم کسٹرآئل کي پيٹ پر مالش کريں يا فيڈر سے دودھ پينے والے بچوں کے دودھ ميں ايک چائے کا چمچ زيتون کا تيل ملا ديں - اگر ماں کا دودھ پيتا ہے تو ايک چائے کا چمچ گھٹي استعمال کرائيں ، پيٹ بالکل صاف ہو جائيگا-

* نئي ماں کو اس کا خاص خيال رکھنا چاہيے کہ بچے کا بستر گيلا نہ رہے خاص طور پر رات کے اوقات ميں کيونکہ زيادہ تر بچوں کو ٹھنڈ اسي وجہ سے لگتي ہے- بستر کے گيلے پن کيسبب بچے کو سردي بھي محسوس ہوتي ہے اور وہ مسلسل بے چيني و بے اطميناني محسوس کرتا ہے- بچے کي نيپي يا پيمپر وقتاً  فوقتاً چيک کرنا بہتر رہتا ہے کيونکہ اس سے صفائي کے تقاضے بھي پورے ہوتے ہيں اور بچہ پر سکون نيند سوتاہے-

*بچے کے ہاتھوں پر خاص توجہ دي جائے کيونکہ تين ماہ کے بعد وہ منہ ميں ہاتھ ڈالنا شروع کرتا ہے- لہذا اس کے ہاتھوں کو کسي اچھے بے بي سوپ Baby Soapسے دھويا جائے- نظر بد سے بچانے کيلئے بچے کے گلے اور ہاتھوں ميں کالے دھاگے باندھنے سے گريز کيا جائے- کيونکہ ہفتوں اور مہينوں تک ہاتھوں اور گلے ميں بندھے کالے دھاگے پر لاکھوں جراثيم پيدا ہو جاتے ہيں اور جب بچہ ان دھاگوں کو منہ ميں ليتا  ہے تو يہ بيماري کا باعث بنتے ہيں - اسي طرح چار پانچ ماہ کي عمر ميں بچہ اپنے پاں کے انگوٹھوں کو بھي منہ ميں لينے لگتا ہے- لہذا ہر بار پيشاب يا پاخانے سے فراغت کے بعد بچے کے پيروں کو اچھي طرح صابن سے دھوليں -

*بچے کو بڑھتي ہوئي عمر کے ساتھ ہلکي پھلکي ورزش بھي کرانا چاہئے تاکہ وہ بستر پر پڑا رہ کر سستي اور کاہلي کا شکار نہ ہو جائے- عموما ً يہ خيال کيا جاتا ہے کہ بچے صحت مند ہو رہے ہيں ليکن وہ تيزي سے فربہي کي جانب مائل ہوتے ہيں اور ورزش اس سے بچا کا بہترين طريقہ ہے- شير خوار کو ٹي وي اور کمپيوٹرا سکرين کي شعاعوں سے بھي دور رکھيں کيونکہ ان کي نازک جلد اس کے مضر اثرات بہت جلد قبول کر ليتي ہے-

*شير خوار کو موسم کے مطابق روشن اور ہوا دار کمرے ميں رکھيں -سرديوں ميں دھوپ سے سنکائي بھي بہتر ہوتي ہے تاہم دھوپ ميں لٹانے سے بچے کا رنگ و روپ متاثر ہو سکتا ہے-

*بچے کو بستر پر لٹاتے وقت اس کا سر قدرے اونچا رکھيں - تيز روشني، کسي ايک کروٹ سلانے، تنگ کپڑے پہنانے يا اکيلا چھوڑنے سے گريز کريں اور زيادہ بہتر ہے کہ پالتو جانور گھر ميں نہ رکھے جائيں - بچے کو ہر روز نہلائيں ، باقاعدگي سے مالش کريں ، طہارت کا خيال رکھيں -

* نوزائيدہ کے ابتدائي دن انتہائي اہميت کے حامل ہوتے ہيں لہذا نئي ماں کو ان دنوں خاصا محتاط رہنا چاہئے- ہر طرح کے مشوروں پر بلا سوچے سمجھے عمل نہ کريں اور نہ ہي ٹوٹکوں پر بھروسہ بلکہ فوري طور پر کسي ماہر ڈاکٹر سے رجوع کريں کيونکہ ابتدائي دنوں کي بيمارياں تشخيص و علاج کيلئے بہت زيادہ مہلت نہيں ديتي ہيں -

*بچے کو فيڈ کرانے کے بعد اس کو کندھے سے لگا کر سہلاتے ہوئے ڈکار دلائيں - ڈکار نہ دلانے کي وجہ سے شير بچہ جو دودھ الٹي کر ديتا ہے جوہ پھيپھڑوں ميں واپس پلٹنے سے کوئي حادثہ بھي ہو سکتا ہے- بچے کو کھيل ہي کھيل ميں اچھالنے سے گريز کريں کيونکہ يہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے- بلي، کتے يا ان ديکھي قوتوں کے نام لے کر ڈرانے سے بچے کے اعصاب کمزور ہو جاتے ہيں اوراس کے دل ميں خوف بيٹھ جاتا ہے- جب بچہ چلنا شروع کر دے تو آگ‘ بجلي کے آلات اور ديگر مضر چيزوں کے قريب نہ جانے ديں اور اسے پيار يا محبت ميں جھنجھوڑنے سے گريز کريں - عمر کے لحاظ سے بچے کا وزن کرواتي رہيں -بہتر ہے کہ حفاظتي ٹيکوں کا کورس بھي فوري مکمل کرائيں -

* اپني اندروني تحريک پر اعتبار کريں کيونکہ تجربہ ہي سب سے بڑا استاد ہوتا ہے جو يہ بتاتا ہے- کہ کون سا کام کب اور کس طرح کرنا ہے- اپنے اور بچے کے درميان فاصلہ مت رکھيں اور اس کي جذباتي ضرورتوں کو سمجھنے کے ساتھ Immunization کا باقاعدہ ريکارڈ رکھيں -

*نومولود کو گود ميں ليتے وقت سر کے پچھلے حصے پر ہاتھ ضرور رکھيں کيونکہ اس کي گردن کي ہڈي اس وقت کمزور ہوتي ہے- کسي بھي حالت ميں اسے بازوں سے پکڑ کر نہ اٹھائيں - اور نہ ہي زور زور سے اچھاليں - سرسوں يا زيتون کے تيل سے ہلکے ہاتھوں کي مالش سے ہڈياں مضبوط ہوتي ہيں -بچے کي ناف اگرچہ خود بخود جھڑ جاتي ہے ليکن اس کي بہت زيادہ حفاظت کريں -

* پہلي مرتبہ ماں بننے والي خاتون کو اپنے بچے کي نگہداشت مسلم ماں ہونے کے ناطے اسلامي اصولوں کے تحت کرني چاہئے-

*شير خوار بچوں کو کسي بھي موسم ميں نہلانا از حد ضروري ہوتا ہے ليکن ہميشہ اس بات کا خيال رہے کہ نہلاتے وقت کان يا ناک ميں پاني نہ چلا جائے- چھوٹے بچوں کو ٹھنڈے پاني سے کبھي نہ نہلائيں کيونکہ اس سے دماغي سرسام يا کم از کم ٹھنڈ لگ جانے کا خدشہ ہوتا ہے- سرديوں کے موسم ميں بچے کو ايسي جگہ پر نہ نہلائيں جہاں ہوا کا عام گزر ہو اور نہ ہي نہلانے کے فوري بعد پنکھے کي ہوا ميں لے آئيں جس سے بيماري کا خطرہ ہوتا ہے-

 *نئي مائيں بچوں کي نگہداشت کيلئے گھر کے بزرگوں سے مشورہ کرتي رہيں جبکہ بچے کي عمر بڑھنے کے ساتھ ہي اس کي خوراک ميں تبديلي لائيں اور اسے ٹھوس غذا کا استعمال کرائيں - کوشش کريں کہ بچے سے باتيں کريں تاکہ وہ آپ سے جلد مانوس ہو جائے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر تحفظ کا احساس دلائيں - اگر بچہ سو رہا ہو تب بھي رات کو آنکھ کھلنے پر اسے ديکھتي رہيں جبکہ دن ميں ديگر مشغوليات ميں اسے نظر انداز نہ کريں کيونکہ چھوٹا بچہ اپني تکليف کے بارے ميں نہيں بتا سکتا ہے لہذا اس کے رونے سے اس کي تکليف کا اندازہ لگائيں -

* بچے کو سونے کيلئے آرام دہ بستر مہيا کيا جائے اور اس بات کا دھيان رہے کہ شور شرابہ نہ ہو کيونکہ اس طرح بچے ڈسٹرب ہو جاتے ہيں اور ايک مرتبہ نيند ٹوٹ جائے تو وہ دوبارہ بہت مشکل سے آتي ہے-

تحرير: سارہ الياسي  

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحریریں:

ماحول اور " مقدمہ سازي"