• صارفین کی تعداد :
  • 2345
  • 8/25/2012
  • تاريخ :

مثالي اور انقلابي راہنما

شہید رجائی اور شہید باہنر

اسلامي جمہوريہ ايران ميں آٹھ شہريور سن تيرہ سو ساٹھ ہجري شمسي مطابق 29 اگست 1981 کو وزارت عظمي ميں امريکي  سامراج سے وابستہ  دہشت گردوں نے ايک زور دار دھماکہ کيا جس کے نتيجے ميں صدر مملکت محمد علي رجائي اور وزير اعظم محمد جواد با ہنر شہيد ہو گئے- ايراني عوام ميں بے حد مقبول ان دونوں مايہ ناز انقلابي شخصيات کو خراج عقيدت پيش کرنے کے لئے ايران ميں ہر سال 23 اگست سے 29 اگست تک ہفتہ حکومت منايا جاتا ہے، جس ميں حکومت اپني گذشتہ کارکردگي اور آئندہ حکمت عملي کي تفصيلات پيش کرتي ہے- يہاں بہتر ہوگا کہ شہيد محمد علي رجائي کي انقلابي شخصيت کا جائزہ ليں جو عالمي سامراج خصوصا امريکہ کو برداشت نہيں تھي اور امريکہ ان کي حکومت کو دو ماہ سے زيادہ برداشت نہ کرسکا اور اس نے اپنے زرخريد ايجنٹوں کے ذريعے بالآخر ان کو شہيد کراديا-  شہيد محمد علي رجائي نے اپني سماجي و سياسي سرگرميوں کا آغاز تدريس سے کيا - انہوں نے تدريس کے ساتھ ساتھ شاہي حکومت کے خلاف جد وجہد شروع کي جو اسلامي انقلاب کي کاميابي تک جاري رہي -جد وجہد کے دوران انہوں نے جيل ميں بہت اذيتيں اور صعوبتيں برداشت کيں - وہ اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد وزير تعليم ، رکن پارلمان ، وزير اعظم اور پھر صدر جمہوريہ کے عہدے پرفائز ہوئے - انہوں نے اپني صدارت کے وقت مفکر اور عالم دين ڈاکٹر جواد باہنر کو وزير اعظم کے عہدے کے لئے منتخب کيا جو شاہي حکومت کے خلاف جد وجہد ميں تابناک ماضي کے حامل تھے - چونکہ شہيد رجائي اور شہيد باہنر مخلص اور منکسرالمزاج انسان تھے اور ساتھ ساتھ اسلامي انقلاب کے اعليٰ مقاصد کے حصول کي راہ ميں پوري جواں مردي سے ڈٹے ہوئے تھے ، اس لئے انقلاب کے دشمنوں کي آنکھ کا کانٹا بن گئے اور دہشت گردوں نے جو پہلے سے ہي اسلامي جمہوريۂ ايران کے خلاف اپني جنگ کاآغاز کرچکے تھے وزير اعظم کے دفتر ميں دھماکہ کرکے محمد علي رجائي اور جواد باہنر کو شہيد کرديا- عام طور سے مسند اقتدار پر براجمان اصحاب اقتدار اور عوام کے درميان کبھي نہ پٹنے والا فاصلہ ديکھنے ميں آتا ہے حکمران طبقہ ہرطرح کے وسائل و ذرائع اور مادي امکانات سے بہرہ مند ہوتے ہيں اور ان ہي وسائل وذرائع کے سہارے عوام پراپنا تسلط قائم رکھنے کي کوشش کرتے ہيں اور دوسري طرف سے عوام ہر طرح سے پسماندہ اور مادي ذرائع سے بے بہرہ رہتے ہيں ليکن ايران ميں اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد ايک نيا منظر سامنے آيا وہ حکومت اور عوام ميں برابر کا رابطہ تھا دنيا والے يہ ديکھ کر حيران رہ گئے کيا حکمران طبقہ بھي يہ کہہ سکتا ہے کہ اس کا تعلق عوام سے ہے ،جي ہاں انقلاب اسلامي کے بعد آنے والي حکومت ايسي ہي تھي اور ہے اس حکومت ميں عوام اور حکمرانوں ميں کسي طرح کا فاصلہ نہيں پاياجاتا دونوں ايک دوسرے کے لازم وملزوم ہيں حکومت ميں ايسے باايمان اور ماہر افراد شامل ہيں جو عوام کي خدمت کو اپنے لئے سعادت سمجھتے ہيں اور عوام بھي دل و جان سے ان کے حامي اور پشت پناہ ہيں- شہيد محمد علي رجائي کي حکومت اور عوام کا رابطہ ايمان و باہمي اعتماد کي اساس پر قائم تھا عوامي رابطے سے حکومت کو جواز اور قانوني حيثيت حاصل ہوتي تھي اور اسي رابطے کے تحت قوم جو معاشرے کا بنيادي ترين رکن ہے، اپنے انساني اور برحق مطالبات و اہداف حاصل کرنے کے لئے حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کرتي تھي - رجائي اور باہنر محنتي اور مخلص انسان تھے -انہوں نے اسلامي نظام کي تاريخ ميں اپني صداقت اخلاص اور خدمتگزاري کي ايسي ميراث چھوڑي ہے جو رہتي دنيا تک قائم رہے گي- شہيد رجائي اپني محنت و خلوص سے اعليٰ ترين عہدوں تک پنہچے تھے وہ ايک نہايت سادہ اور بے لوث انسان تھے ان کي زندگي ميں کسي طرح کا مادي زرق برق ديکھنے کو نہيں ملتا ان کي سادہ زندگي ،انقلاب سے پہلے ہو يا انقلاب کے بعد صدر بننے کے بعد ہو زبان زد خاص وعام تھي ،جب وہ وزير اعظم اور صدر کے عہدوں پرفائز ہوئے تو ان کي زندگي ميں کسي طرح کي تبديلي نہيں آئي وہ محروموں اور پسماندہ لوگوں کے درد سے آشنا تھے اور ہميشہ ان کي مددکرنے کي فکر ميں رہتے تھے ،ان کے وجود ميں انقلاب کے اہداف و مقاصد رچ بس گئے تھے ،ايمان اور شجاعت ان کي ذات کا خاصہ تھا وہ ايک سنجيدہ ، ٹھوس ارادے کے حامل کبھي نہ تھکنے والے انسان تھے ان کے چہرے پر ہميشہ مسکراہٹ رہتي تھي- شہيد رجائي اسلامي انقلاب کو انبياء کے انقلاب کا تسلسل سمجھتے تھے ان کي نظر ميں اسلامي انقلاب آج انسان کي سربلندي کا باعث تھا ،ان کا خيال تھا کہ اسلامي حکومت کي باگ ڈور اگر ولي فقيہ جوکہ زمانہ شناس اور مدبر ہوتا ہے رہے تو اس کو ديگر حکومتوں سے خاص امتياز حاصل ہوجاتا ہے - شہيد رجائي کا کہنا تھا کہ اسلامي حکومت کے تين بنيادي رکن ہيں -قيادت ،عوام اورحکومت -اور يہ تينوں رکن آپس ميں بہم پيوستہ ہيں اور باہمي تعاون سے محروميت کي بيخ کني اور ملک کي ترقي کے لئے کوشش کرتے ہيں اور ان کا ہدف ملک ميں عدل وانصاف کا قيام ہے- شہيد رجائي جب صدر اور وزير اعظم تھے امام خميني رحمتہ اللہ عليہ کو اپنا مرکز و محور سمجھتے تھے وہ ہميشہ آپ کے نظريات وافکارکو مشعل ہدايت سمجھتے تھے اور ان پر عمل کيا کرتے تھے ،ان کي صدارت کے دوران ان کے دوست اور وزير اعظم محمد جواد باہنر بھي عارف بيدار دل تھے وہ ايک دانشور اور فرض شناس استاد تھے انہوں نے اپني ساري زندگي ايران کي مسلمان قوم کي خودمختاري اور سربلندي کي راہ ميں گذاردي درحقيقت شہيد رجائي يا باہنر ايک اسلامي حکومت کے مثالي عہديداروں کا مکمل نمونہ تھے اور انہوں نے عملا" ايک اسلامي حکومت کا نمونہ پيش کيا -ان دونوں شخصيات نے يہ عمل کردکھايا کہ انسان اعليٰ ترين حکومتي منصب پرفائزرہنے کے باوجود خداپرست،  متواضع اور عوام کا خدمت گزار رہ سکتا ہے اور سادہ اور بےلوث زندگي گذارسکتاہے، حضرت امام خميني(رح)  فرماتے ہيں "جناب باہنر اور جناب رجائي کي اہميت اس ميں ہےکہ وہ ہمارے اپنے تھے عوام سے تھے عوام کے خدمت گذار تھے مخلص اور سادگي پسند ہے-

امام خميني (رح) کے اس ارشاد کي روشني ميں ہم يہ کہ سکتے ہيں کہ شہيد رجائي اور باہنر کي حکومت اسلامي حکومت کا مظہر تھي يعي ايسي حکومت جس ميں احساس برتري اور مطلق العناني نہيں تھي وہ اقتدار کو اپني ذمہ داري ، امانت اور عوام کي خدمت کرنے کا ذريعہ سمجھتے تھے-

دنيا کے حالات پر انقلاب اسلامي کے عظيم اثرات اور اس بات کا باعث بنے کہ دشمنوں نے انقلاب اسلامي اور رجائي کي حکومت کو گرانے کے لئے آپس ميں ہاتھ ملالۓ ،اس وقت کے امريکہ کے صدر نے صاف لفظوں ميں کہاتھا کہ رجائي کي حکومت کوگرانا ہوگا اس کے بعد سامراج سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے بھرپورطرح سے رجائي حکومت کے خلاف پروپگينڈا کرنا شروع کيا ليکن شہيد رجائي نے ان سازشوں کو خاطر ميں لائے بغير اپنا اسلامي فريضہ نبھاتے رہے اس وقت شہيد رجائي کا سار ہم وغم يہ تھا سياسي سماجي اور اقتصادي لحاظ سے مناسب قوانين تيارکرکے اسلامي انقلاب کے فروغ کي ترقي اور ايران کي مسلمان قوم کي سعادت کي راہ ہموار کريں -خود ان کا کہنا ہےکہ جب سے انہوں نے معلمي کا پيشہ اختيار کيا تھا وہ انسان کي سعادت مندي کي فکر ميں تھے -بہرحال شہيد رجائي کي حکومت کے منصوبوں سے دنيا والوں کے سامنے انقلاب اسلامي کي واضح اورشفاف تصوير سامنے آئي اور دنيا والے يہ سمجھ گئے کہ ايران کي حکومت صحيح معني ميں عوامي حکومت ہے اور حکومت کو عوام کي بھرپور حمايت حاصل ہے- اسلامي جمہوريۂ ايران کي حکومت جو بلاشبہ ايک عوامي حکومت ہے، رہبر انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظميٰ سيد علي خامنہ اي کي قيادت ميں اسلامي انقلاب کے اہداف و مقاصد کو عملي جامہ پہنانے کے لئے مناسب اقدامات کررہي ہے-

بشکریہ : ریڈیو اردو

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

اسلامي انقلاب اور ساختار شکني