• صارفین کی تعداد :
  • 2374
  • 8/22/2012
  • تاريخ :

ميثاقِ مدينہ

ميثاقِ مدينہ

* مد ينہ شريف ميں ہجرت کے بعد يہاں آپ صلي اللہ عليہ وسلم کے پيش نظر جو اہم مسائل تھے اُن کے بارے ميں مختلف تفا سير کي روشني اور احاديث کي کتابوں کے مطالعہ سے حاصل رہنمائي کے بعد عرض کرتا چلوں کہ آقا حضرت صلي اللہ عليہ وسلم کي ان مسائل کے حل کے ليے حکمت عملي امت مسلمہ کے مو جودہ مسائل ، درپيش چيلنجز کے مقابلے کے ليے راہنمائي و مشعل راہ ہے- اہم مسائل يہ تھے-

* قريش مکہ کي تجارتي با لا دستي کا خاتمہ جو اسلام کي ترويج و اشاعت ميں سب سے بڑي رکا وٹ تھے

* امت واحدہ کے تصور کو زيا دہ سے زيادہ موثر اور مقبول عام بنا نا کہ مدني قبيلوں کي خا نہ جنگي ختم ہو

* امن و صلح کي قوتوں کا فروغ تا کہ اسلامي اتحاد و اخوت کي جڑيں مضبوط ہوں

* مہا جروں کي آباد کا ري

* مدينہ کے قرب و جوار کے بدوي قبيلوں سے امن و صلح کے معاہدے

تاريخ شاہد ہے کہ آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے ان مسائل کو بڑي خوش اسلو بي سے حل کيا- آئيے مو جودہ دور کے مسائل پر بھي ذرا غور کر تے ہيں اور پھر مندرجہ بالا نقاط کا بھي جائزہ ليتے ہيں-

موجودہ مسلم اُمہ خاص طور پر عرب کي دنيا ڈالر کے ڈھير پر بيٹھے ہو ئے اپنے آپ کو دولت مند سمجھتے ہيں حا لا نکہ’’ پيٹرو ڈالر‘‘ مغرب ميں ميوچل فنڈ ، اسٹاک ما رکيٹ ، با نڈ مارکيٹ ، اور عيا شيوں کے ذريعے واپس جا رہے ہيں-مغرب کے ڈيري اور فوڈ پراڈکٹس اور سروسز کي مصنو عات کي آمد پر اربوں پيٹرو ڈالر جہاں سے آئے وہاں جا رہے ہيں- انرجي کے بحران کے بعد عرب دنيا چرواہوں کي دنيا ميں نہ بھي جا ئيں عالمي سرما ئے کے غلام ہو جائيں گے- اس وقت عالمي تيل کي طلب کي تخمينہ کا ري کريں تو روزانہ 86.01 ملين بيرل ہے- جو 8 سال ميں بڑھ کر 120 ملين بيرل ہو جا ئے گي، اعداد و شمار يہ بھي کہتے ہيں کہ 99 في صد تيل دنيا کے 44 ممالک پيدا کر تے ہيں جن ميں 24 مما لک ايسے ہيں جو اپني پيدا وار کے عروج سے گزر کر اب زوال کي طرف ما ئل ہيں ان 24 ميں سے 10 ممالک امت مسلمہ ميں معيشت کے حوالے سے ريڑھ کي ہڈي جانے جا تے ہيں-

تحرير: ڈاکٹر اشفاق رحماني

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

جمعۃ الوداع، يوم القدس اور ہماري ذمہ دارياں