• صارفین کی تعداد :
  • 9444
  • 6/25/2012
  • تاريخ :

بليک ہولز کا مطالعہ

بلیک ہولز

بليک ہولز کي کشش ثقل اتني شديد ہوتي ہے کہ روشني تک اس سے بچ کر گزر نہيں سکتي - گيس، گردوغبار اور ستارے سبھي اس کے اندر کھچے چلے آتے ہيں

’ستارے - نيبولائے اور بليک ہولز اس طرح کي شعائيں خارج کرتے ہيں جو ہم ميڈيکل ايکسرے ميں استعمال کرتے ہيں - اور زمين کي سطح سے ان کا پتہ نہيں چلايا جا سکتا ليکن نو سٹار دوربين ان ايکسريز پر فوکس کريگي اور سائينسي تجزئے کے لئے ان تصاوير کو زمين پر بھيجے گي‘

امريکہ کا خلائي ادارہ 13 جون کو خلا  ميں ايک دوربين لانچ کر رہا ہے جو بليک ہولز کو تلاش کرے گي اور ان کا مطالعہ کريگي -

بليک ہولز ابھي بھي بھيدوں بھرے آسماني عناصر ہيں جن کے بارے ميں سائينسدانوں کا خيال ہے کہ وہ ہر بڑي کہکشاں کے قلب ميں واقع ہيں اور ان ميں ہماري کہکشاں بھي شامل ہے -

 وائس آف امريکہ کي سوزانے پريسٹو ہميں ناسا کے Nuclear Spectroscopic Telescope Array يا پھر NuSTAR کے بارے ميں بتاتي ہيں اور يہ بھي کہ اس کي مدد سے کيا کچھ  سامنے آنے کا امکان ہے-

بليک ہولز کي کشش ثقل اتني شديد ہوتي ہے کہ روشني تک اس سے بچ کر گزر نہيں سکتي - گيس، گردوغبار اور ستارے سبھي اس کے اندر کھچے چلے آتے ہيں - يہ مادے تيزي سے گھومتے ہيں اور گرم ہو جاتے ہيں جس سے طاقتور ايکسرے لائٹ  کا اخراج ہوتا ہے -

ابھي کچھ دہائياں پہلے کا ذکر ہے سائنسدانوں نے سوچا کہ بليک ہول ايک نادر چيز ہيں ليکن گزشتہ20 برسوں ميں اس سوچ ميں تبديلي آئي ہے اور اب ناسا کائنات ميں بليک ہولز کي تعداد کا پتہ چلانے کي کوشش ميں ہے-

امريکہ  کا خلائي ادارہ بليک ہول ہنٹر کي لانچ کر رہا ہے - يہ ايک نئي دوربين ہے جسے نو سٹار کا نام ديا گيا ہے -ناسا کے ايسٹرو فزکس شعبے کے ڈائريکٹر پال ھرٹز کہتے ہيں: ’ستارے - نيبولائے اور بليک ہولز اس طرح کي شعائيں خارج کرتے ہيں جو ہم ميڈيکل ايکسرے ميں استعمال کرتے ہيں - اور زمين کي سطح  سے ان کا پتہ نہيں چلايا جا سکتا ليکن نو سٹار دوربين ان ايکسريز پر فوکس کريگي اور سائينسي تجزئے کے لئے ان تصاوير کو زمين پر بھيجے گي‘-

موجودہ دوربينوں نے ايسي تصاوير فراہم کي ہيں جن ميں سيکڑوں بڑے بڑے بليک ہولز سے نکلنے والي عمومي شعاعوں کو ديکھا جا سکتا ہے - ناسا کو توقع ہے کہ نو سٹار بليک ہولز کي بہتر تصاوير فراہم کريگي اور اس کے علاوہ آسمان کا جائزہ ليتے ہوئے اہم انرجي ايونٹس کا پتہ لگا سکے گي- دنيا بھر ميں لوگ ان تصويروں کا مطالعہ کريں گے ان ميں نو سٹار کي کليدي انويسٹي گيٹر Fiona Harrison بھي شامل ہونگي- ان کا کہنا ہے -

اُن کے بقول، نو سٹار کائنات کے ليے ايک نئي کھڑکي کھول ديگي - يہ پہلي دوربين ہے جو ہائي انرجي ايکس ريز پر توجہ مرکوز کريگي اور اس طرح اس سے بنائي جانے والي تصويريں 10گنا زيادہ واضح اور 100 گنا زيادہ حساس ہونگي ان تصويروں کے مقابلے ميں جو باقي دوربينيں فراہم کرتي ہيں -

نو سٹار دوربين  کا سائز ريفريجرٹر جتنا ہے ليکن اس ميں ايک ٹول چھپا ہوا ہے - نو سٹار کو لانچ کرنے کے تقريبا ايک ہفتہ بعد يہ ايک 10 ميٹر لمبا ماسٹ نصب کريگي جو اس کے آئينوں کو اس کے ڈي ٹيکٹرز سے جدا کريگا - دراصل يہ ماسٹ وہ فاصلہ فراہم کرتا ہے جو ايکسرے لائٹ کو واضح شکل دے گا-

ناسا سائنسدان کہتے ہيں خيال يہ ہے کہ ہر تين ميں سے دو بليک ہولز گردوغبار اور گيس کے پردوں ميں چھپے ہوئے ہيں اور يہ نئي دوربين ان چھپے ہوئے بليک ہولز کا پتہ چلا سکے گي-پھر يہ بتا سکے گي کہ کوئي بليک ہول کتني تيزي سے گھوم رہا ہے جس سے سائنسدانوں کو يہ سمجھنے ميں مدد ملے گي کہ بليک ہول بنتے کيسے ہيں- ناسا کے پال ھرٹز بتاتے ہيں -

اُن کے بقول، ہمارے باقي مشنوں کي طرح اس بار بھي ہم غير متوقع عناصر کا پتہ لگائيں گے جو کائنات کي وسعتوں ميں موجود ہيں اور ہمارے بہت سے سوالوں کا جواب مل سکے گا-

ناسا کا کہنا ہے کہ نو سٹار اپني لانچ کے ايک ماہ بعد سائنسدانوں کو معلومات فراہم کرنا شروع کر دے گي-