• صارفین کی تعداد :
  • 4382
  • 6/25/2012
  • تاريخ :

امام زين العابدين عليه السلام کي حيات طيبہ

امام سجاد علیہ السلام

السلام علي الحسين و علي علي بن الحسين و علي اولاد الحسين و علي اصحاب الحسين 

 امام علي ‏بن ‏الحسين (عليہما السلام)، زين العابدين اور سجاد کے القاب سے مشہور ہيں اور روايت مشہور کے مطابق آپ (ع) کي ولادت شعبان المعظم سنہ 38 ہجري مدينہ منورہ ميں ہوئي- کربلا کے واقعے ميں آپ (ع) 22 يا 23 سال کے نوجوان تھے اور مسلم مؤرخين و سيرت نگاروں کے مطابق آپ (ع) عمر کے لحاظ سے اپنے بھائي علي اکبر عليہ السلام سے چھوٹے تھے- امام سجاد عليہ السلام  کي حيات طيبہ کا سماجي، علمي، سياسي اور تہذيبي حوالوں سے جائزہ ليا جاسکتا ہے- امام سجاد عليہ السلام کي حيات طيبہ کا ايک نہايت اہم پہلو يہ ہے کہ آپ (ع) کربلا کے واقعے ميں اپنے والد ماجد سيدالشہداء امام حسين عليہ السلام کے ہمراہ تھے اور شہيدوں کي شہادت کے بعد اپني پھوپھي ثاني زہراء سلام اللہ عليہا کے ہمراہ کربلا کے انقلاب اور عاشورا کي تحريک کا پيغام لے کر بنو اميہ کے ہاتھوں اسيري کي زندگي قبول کرلي اور اسيري کے ايام ميں عاشورا کا پيغام مؤثرترين انداز سے دنيا والوں تک اور رہتي دنيا تک کے حريت پسندوں تک، پہنچايا- عاشورا کا قيام زندہ جاويد اسلامي تحريک ہے جو محرم سنہ 61 ہجري کو انجام پائي- يہ تحريک دو مرحلوں پر مشتمل تھي- پہلا مرحليہ تحريک کا آغاز، جہاد و جانبازي اور اسلامي کرامت کے دفاع کے لئے خون و جان کي قرباني دينے کا مرحلہ تھا جس ميں عدل کے قيام کي دعوت بھي دي گئي اور دين محمد (ص) کے احياء کے لئے اور سيرت نبوي و علوي کو زندہ کرنے کے لئے جان نثاري بھي کي گئي- پہلا مرحلہ رجب المرجب سنہ 60 ہجري سے شروع اور 10 محرم سنہ 61 ہجري پر مکمل ہوا- جبکہ دوسرا مرحلہ اس قيام و انقلاب کو استحکام بخشنے، تحريک کا پيغام پہنچانے اور علمي و تہذيبي جدوجہد نيز اس قيام مقدس کے اہداف کي تشريح کا مرحلہ تھا- پہلے مرحلے کي قيادت امام سيدالشہداء عليہ السلام نے کي تھي تو دوسرے مرحلے کي قيادت سيد الساجدين امام زين العابدين عليہ السلام کو سونپ دي گئي- امامت شيعہ اور تحريک عاشورا کي قيادت امام سجاد عليہ السلا کو ايسے حال ميں سونپ دي گئي تھي کہ آل علي عليہ السلام کے اہم ترين افراد آپ (ع) کے ہمراہ اسير ہوکر امويوں کے دارالحکومت دمشق کي طرف منتقل کئے جارہے تھے؛ آل علي (ع) پر ہر قسم کي تہمتوں اور بہتانوں کے ساتھ ساتھ فيزيکي اور جسماني طور پر بھي بني اميہ کے اذيت و آزار کا نشانہ بنے ہوئے تھے اور ان کے متعدد افراد امام حسين عليہ السلام کے اصحاب کے ہمراہ کربلا ميں شہادت پاچکے تھے اور بني اميہ کے دغل باز حکمران موقع سے فائدہ اٹھا کر ہر قسم کا الزام لگانے ميں اپنے آپ کو مکمل طور پر آزاد سمجھ رہے تھے کيونکہ مسلمان جہاد کا جذبہ کھوچکے تھے اور ہر کوئي اپني خيريت کو اولي سمجھتا تھا- اس زمانے ميں ديني اقدار تغير و تحريف کا شکار تھيں لوگوں کي ديني حميت ختم ہوچکي تھي، ديني احکامات اموي نااہلوں کے ہاتھوں کا بازيچہ بن چکے تھے؛ خرافات و توہمات کو رواج ديا جاچکا تھا، امويوں کي دہشت گردي، اور تشدد و خوف و ہراس پھيلانے کے حربوں کے تحت مسلمانوں ميں شہادت و شجاعت کے جذبات جواب دے چکے تھے- اگر ايک طرف ديني احکام و تعليمات سے روگرداني پر کوئي روک ٹوک نہ تھي تو دوسري طرف سے حکومت وقت پر تنقيد و اعتراض کي پاداش ميں شديد ترين سزائيں دي جاتي تھيں، لوگوں کو غيرانساني تشدد کا نشانہ بنايا جاتا تھا اور ان کا گھر بار لوٹ ليا جاتا تھا اور ان کے اموال و املاک کو اموي حکمرانوں کے حق ميں ضبط کيا جاتا تھا اور انہيں اسلامي معاشرے کي تمام مراعاتوں سے محروم کيا جاتا تھا اور اس سلسلے ميں آل ہاشم کو خاص طور پر نشانے پر رکھا گيا تھا- ادھر آل اميہ کي عام پاليسي يہ تھي کہ وہ لوگوں کو خاندان وحي سے رابطہ کرنے سے روک ليتے تھے اور انہيں اہل بيت رسول (ص) کے خلاف اقدامات کرنے پر آمادہ کيا کرتے تھے وہ لوگوں کو اہل بيت عليہم السلام کي باتيں سننے تک سے روک ليتے تھے جيسا کہ يزيد کا دادا اور معاويہ کا باپ  صخر بن حرب (ابوسفيان) ابوجہل اور ابولہب وغيرہ کے ساتھ مل کر بعثت کے بعد کے ايام ميں عوام کو رسول اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي باتيں سننے سے روک ليتے تھے اور ان سے کہتے تھے کہ آپ (ص) کي باتوں ميں سحر ہے، سنوگے تو سحر کا شکار ہوجاؤ گے- امام زين‏ العابدين عليہ السلام نے ايسے حالات ميں امامت کا عہدہ سنبھالا جبکہ صرف تين افراد آپ (ع) کے حقيقي پيروکار تھے اور آپ (ص) نے ايسے ہي حال ميں اپني علمي و تہذيبي و تعليمي جدوجہد اور بزرگي علمي و ثقافتي شخصيات کي تربيت کا آغاز کيا اور ايک گہري اور مدبرانہ اور وسيع تحريک کے ذريعے امامت کا کردار ادا کرنا شروع کيا اور امام سجاد عليہ السلام کي يہي تعليمي و تربيتي تحريک امام محمد باقر اور امام جعفر صادق عليہما السلام کي عظيم علمي تحريک کي بنياد ثابت ہوئي- اسي بنا پر بعض مصنفين اور مؤلفين نے امام سجاد عليہ السلام کو "باعث الاسلام من جديد"- (نئے سرے سے اسلام کو متحرک اور فعال کرنے والے) کا لقب ديا ہے- واقعے کے شاہدامام سجاد عليہ السلام کربلا ميں حسيني تحريک ميں شريک تھے اس ميں کسي کو کوئي اختلاف نہيں ہے ليکن تحريک حسيني کے آغاز کے ايام سے امام سجاد عليہ السلام کے معاشرتي اور سياسي کردار کے بارے ميں تاريخ ہميں کچھ زيادہ معلومات دينے سے قاصر نظر آرہي ہے- يعني ہمارے پاس وسط رجب سے ـ جب امام حسين عليہ السلام مدينہ منورہ سے مکہ معظمہ کي جانب روانہ ہوئے، مکہ ميں قيام کيا اور پھر کوفہ روانہ ہوئے اور 10 محرم سنہ 61 ہجري کو شہيد ہوئے ليکن ـ امام سجاد عليہ السلام کے کردار کے بارے ميں تاريخ کچھ زيادہ اطلاعات ہم تک پہنچانے سے قاصر ہے اور تاريخ و سيرت اور سوانح نگاريوں ميں ہميں امام سجاد عليہ السلام شب عاشور دکھائي ديتے ہيں اور شب عاشورا امام سجاد عليہ السلام کا پہلا سياسي اور سماجي کردار ثبت ہوچکا ہے- امام سجاد عليہ السلام فرماتے ہيں: شب عاشور ميرے والد (سيدالشہداء فرزند رسول امام حسين بن علي عليہ السلام) نے اپنے اصحاب کو بلوايا- ميں بيماري کي حالت ميں اپنے والد کي خدمت ميں حاضر ہوا تا کہ آپ (ع) کا کلام سن لوں- ميرے والد نے فرمايا: ميں خداوند متعال کي تعريف کرتا ہوں اور ہر خوشي اور ناخوشي ميں اس کا شکر ادا کرتا ہوں ... ميں اپنے اصحاب سے زيادہ با وفا اور بہتر اصحاب کو نہيں جانتا اور اپنے خاندان سے زيادہ مطيع و فرمانبردار اور اپنے قرابتداروں سے زيادہ صلہ رحمي کے پابند، قرابتدار نہيں جانتا- خداوند متعال تم سب کو جزائے خير عنايت فرمائے- ميں جانتا ہوں کہ کل (روز عاشورا) ہمارا معاملہ ان کے ساتھ جنگ پر منتج ہوگا- ميں آپ سب کو اجازت ديتا ہوں اور اپني بيعت تم سے اٹھا ديتا ہوں تا کہ تم فاصلہ طے کرنے اور خطرے سے دور ہونے کے لئے رات کي تاريکي کا فائدہ اٹھاسکو اور تم ميں سے ہر فرد ميرے خاندان کے ايک فرد کا ہاتھ پکڑ لے اور سب مختلف شہروں ميں منتشر ہوجاؤ تا کہ خداوند اپني فراخي تمہارے لئے مقرر فرمائے- کيونکہ يہ لوگ صرف مجھ سے سروکار رکھتے ہيں اور اگر مجھے اپنے نرغے ميں پائيں تو تم سے کوئي کام نہ رکھيں گے- اس رات امام سجاد عليہ السلام بيمار بھي تھے اور يہ حقائق بھي ديکھ رہے تھے چنانچہ آپ (ع) کے لئے وہ رات بہت عجيب و غريب رات تھي- آپ (ع) نے اس رات امام حسين عليہ السلام کي روح کي عظمت اور امام حسين عليہ السلام کے ساتھيوں کي شجاعت اور وفاداري کے اعلي ترين مراتب و مدارج کا مشاہدہ فرمايا جبکہ آپ (ع) اپنے آپ کو بعد کے ايام کے لئے تيار کررہے تھے- حضرت علي بن حسين عليھما السلام سے روايت ہے کہ آپ فرماتے ہيں : جس شام کي صبح کو ميرے باباشھيد کردئے گئے اسي شب ميں بيٹھا تھا اور ميري پھوپھي زينب ميري تيمارداري کررہي تھيں- اسي اثنا ميں ميرے بابا اصحاب سے جدا ہوکر اپنے خيمے ميں آئے- آپ کے خيمے ميں  ابوذر (رض) کے غلام ''جَون'' بھي تھے جو آپ (ع) کي تلوار کو کو صيقل دے رہے تھے اور اس کي دھار سدھار رہے تھے جبکہ ميرے بابا يہ اشعار پڑھ رہے تھے :

يا دهر افٍّ لک من خليل کَمْ لَکَ في الاشراق و الأَصيلمن طالبٍ و صاحبٍ قتيل و الدّهر لايقَنُع بالبديلو انّما الأمر الي الجليل و کلُّ حيٍّ سالکُ سبيلااے دنيا اور اے زمانے! اف ہے تيري دوستي پرکہ تو اپنے بہت سے دوستوں کو صبح و شام موت کے سپرد کرتي ہے اور مارتے ہوئے کسي کا عوض بھي قبول نہيں کرتي- اور بے شک امور سارے کے سارے خدائے جليل کے دست قدرت ميں ہيں اور شک نہيں ہے کہ ہر ذي روح کو اس دنيا سے جانا ہے- (بحارالانوار ج45 ص2)سيدالشہداء عليہ السلام شعر اور شمشير کيا امتزاج ہے اور کيا راوي ہيں اس نہايت لطيف و ظريف واقعے کے؛ امام سجاد عليہ السلام-تقريبا تمام مؤرخين کا اتفاق ہے کہ امام سجاد عليہ السلام کربلا ميں بيمار تھے اور يہ بيماري امت کے لئے اللہ کي ايک مصلحت تھي اور مقصد يہ تھا کہ حجت خداوندي روئے زمين پر باقي رہے اور اس کے کوئي گزند نہ پہنچے اور اللہ عز و جل کي ولايت اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي وصايت و ولايت کا سلسلہ منقطع نہ ہو چنانچہ امام سجاد عليہ السلام اسي بيماري کي وجہ سے ميدان جنگ ميں حاضر نہيں ہوئے- امام سجاد عليہ السلام اور امام باقر عليہ السلام آل محمد (ص) کے مردوں ميں سے دو ہي تھے جو زندہ رہے اور ہدايت امت کا پرچم سنبھالے رہے- امام محمد باقر عليہ السلام اس وقت 4 سال يا اس سے بھي کم عمر کے تھے- 


متعلقہ تحريريں:

 ولادت امام زين العابدين عليہ السلام