• صارفین کی تعداد :
  • 2288
  • 3/24/2012
  • تاريخ :

رسول خدا سے اميرالمؤمنين کي قربت کے پہلو 34

امام علی

نسائي لکھتا ہے: ابوبکر اور عمر نے رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي خدمت ميں حاضر ہوکر آپ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم سے سيدہ فاطمہ سلام اللہ عليہا کا رشتہ مانگا ليکن آپ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے جواب ديا: "سيدہ فاطمہ سلام اللہ عليہا ابھي چھوٹي ہيں" اور حضرت فاطمہ سلام اللہ عليہا نے بھي سن کر منہ موڑا ليکن جب علي عليہ السلام نے رشتہ مانگا تو رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے يہ رشتہ قبول کرکے ان سے اپني بيٹي کا نکاح کرايا- (52)

نتيجہ

مذکورہ حقائق اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم سے علي عليہ السلام کي قربت اور پيغمبر خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي راہ ميں آپ عليہ السلام کي جانفشانيوں کو مد نظر رکھتے ہوئے يہ سوال اٹھتا ہے کہ کيا کوئي اور بھي ہے جو رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي خلافت بر حق کا حقدار ٹہرايا جاسکے؟ اور کيا کوئي بھي عقل و تدبير اور حديث صحيح قبول کرتي ہے کہ واقعۂ غدير اور غدير کے روز لي عليہ السلام کے ہاتھ پر اکابر صحابہ سميت تمام صحابۂ رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي اعلانيہ بيعت کے آيات کريمہ کے نزول اور وحي کي بشارت کے باوجود بھي علي عليہ السلام کے سوا کوئي اور ہے جو رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے نقش قدم پر قدم رکھے اور آپ (ع) کي جانشيني کا دعوي کرے اور اس عظيم مشن کو جاري و ساري رکھے؟

----------

مآخذ

52- سنن النسائي بشرح الحافظ جلال الدين السيوطي وحاشية السندي الطبعة الاولى سنة 1348 هجرية - سنة 1930 ميلادية الجزء الثاني دارالفكر ـ بيروت-